کہتے ہیں کہ میچورٹی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آپ کو کھانے میں توری، بھنڈی، پالک، پھلیاں اور دوسری سبزیاں اچھی لگنے لگتی ہیں، ویسے سائنس کے حساب […]
Home Is a Feeling
Amma, “I Don’t Want to Be Like You!”
Those words from my five-year-old daughter were enough to snap any mother out of her thoughts. My hands stopped moving as I stood in the kitchen.
پردیسی خواتین اور تنہائی
نوۓ کی دہائی میں شاہ رخ خان کی فلم “پردیس” بہت مشہور ہوئی تھی، جب ہیروئن مہیما چوہدری “جہاں پیا وہاں میں” گاتی خوش خوش امریکہ چلی آتی ہیں اور پھر بالکل مختلف ماحول اور اپنوں سے دوری محسوس کرتی ہیں تو ان کی بزرگ پھوپھی ساس انھیں ایک بات کہتی ہیں کہ “یہاں یا تو بہت سناٹا ہے یا بہت شور ہے ، آدمی یا تو اکیلا ہے یا پھر میلہ ہے”۔
پہلی بارش پہلی بارشبچپن کی !ایک عجیب خوشی اور سرشاریبے فکری اور لا پرواہیبس بھیگتے جاؤ بھیگتے جاؤگیلی مٹی کی خوشبو جیسےہر دولت پہ بھاریگرما گرم پکوانہر کھیل کا مزا […]
Joy Of First Home
I connected my old hard drive to my computer, and suddenly, it felt like we were traveling in a time machine. There were photos from my university days, literary activities, gatherings with friends, graduation, my wedding—and then came an entire chapter of memories from twenty two years ago, when we moved to Canada and set up our very first apartment.
ڈاک بنگلہ اور ائر بی این بی کے دن
بچپن میں ہمیں وہ کہانیاں بہت اچھی لگتی تھیں جن میں صاحب کا تبادلہ ہو جاتا تھا اور خاندان کسی پر فضا قصبے میں واقع ڈاک بنگلے میں جا کے […]
کوئی چیز بیکار نہیں
بچپن میں اردو کی کتاب میں ایک سبق پڑھا تھا “ کوئی چیز بیکار نہیں” اس میں ایک بچی رضیہ گھر سے سارا فالتو سامان نکالتی ہے اتنے میں اس کے ماموں آ جاتے ہیں اور ہر ہر چیز کے فوائد گنوا کے اسے ری سائیکل کی ترکیبیں بھی بتاتے ہیں کہ کیسے پرانی چیزوں سے نئی چیزیں بنائ جائیں الغرض سارے کاٹھ کباڑ کا کچھ نہ کچھ بنایا جاتا ہے
“پہلا بوائے فرینڈ”
آج رضیہ پھر پھنس گئی تھی۔۔ غنڈوں میں تو نہیں بس اپنی پیاری پیاری الگ الگ پہچان رکھنے والی سہیلیوں میں۔آفس میں لنچ کا بریک ہمیں اچھا لگتا ہے کیونکہ اس میں جب رنگ رنگ کے لوگ ایک جگہ بیٹھتے ہیں تو عموماً ہمارے ہاتھ کوئی نہ کوئی مزیدار کہانی ضرور لگ جاتی ہے۔آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
بات فلیشییا نے شروع کی تھی، میز کے ارد گرد ہم دو پاکستانی خواتین کے علاوہ، تین مختلف خطوں کی خواتین تھیں۔ فليشیا کے بیٹے سترہ اور اکیس سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور اُن کی ابھی تک کوئی گرل فرینڈ نہیں تھی( اور یہ بھی ایک مسئلہ تھا)
سینٹرل لائبریری مسی ساگا
بہت عرصے بعد مسی ساگا سینٹرل لائبریری جانا ہوا تو ناسٹیلجیا نے بڑے زور سے ہٹ کیا، پھر یہ اندازہ ہوا کہ اب ناسٹیلجیا یا ہماری یادوں کی پوٹلی میں […]
کونسی کتابیں پڑھیں
کتابوں کی اہمیت اور کونسی کتابیں پڑھیں اس سلسلے میں یو ٹیوب پہ وڈیو پوسٹ کی ہے، کچھ لوگوں نے موضوع دیکھ کے ہی کئی سوال بھیج دیے ، مطالعے […]

