بچوں کے اسکول کی چھٹیاں چل رہی ہیں، آج کل یحییٰ کے ساتھ روزانہ کمیونٹی سینٹر اور لائبریری کا چکر لگ رہا ہے۔ یہاں یوں تو مختلف کھیلوں کے پروگرامز […]
پرانی تہذیب اور یادوں کی خوش بو‘- رضوان طاہر مبیں
بشکریہ رضوان طاہر مبین یہ خوبصورت تبصرہ روزنامہ ایکسپریس میں فروری کے مہینے میں شائع ہوا تھا اگرچہ ہم تک پہنچتے پہنچتے اسے تھوڑا وقت لگ گیا لیکن چونکے اس […]
پاکستانی کینیڈین شادیاں (تیسرا حصہ)
دیسی بدیسی رسمیں اور شادیاں پچھلے دنوں شادیوں کے حوالے سے لکھا تو کچھ لوگوں کو یہ تاثر ملا کہ شاید گوروں کی شادیاں سادگی سے ہوتی ہیں، جس میں […]
پاکستانی کینیڈین شادی سیریز (دوسرا حصہ)برائڈل شاور، مہندی، ڈھولکی اور کمیونٹی ہال جب ہم چھوٹے تھے تو پاکستان میں شادی کے چار دن کے فنکشن ہوتے تھی، مایوں، مہندی، بارات […]
پاکستانی کینیڈین شادی(پہلا حصہ)
شادی سب کا پسندیدہ موضوع ہوتا ہے لوگ ہمیشہ ہی مختلف جگہوں پہ شادی کے کلچر کے بارے میں متجسس رہتے ہیںآجکل کینیڈا میں شادیوں کا موسم ہے تو سوچا […]
زیرہ کہانی(ورک فرام ہوم سے جڑی ایک المیہ داستان)
زیرہ ہے گھر میں۔۔گروسری کرتے ہوۓ ہم نے زیرے کے پیکٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ بول اٹھے
نہیں ہے مجھے نہیں ملا ، ہم نے جواب دیا
میں نے دیکھا ہے، وہ ڈٹے رہے!
اچھا؟ پکی بات ہے؟
ہاں!
چلئے ٹھیک ہے اب اس پہ بات ہوگی، ہم نے سوچا
کووڈ اور ورک فرام ہوم کے بعد سے ایسی بحثیں معمول کا حصہ ہیں۔
پہلا بوائے فرینڈ
آج رضیہ پھر پھنس گئی تھی۔۔ غنڈوں میں تو نہیں بس اپنی پیاری پیاری الگ الگ پہچان رکھنے والی سہیلیوں میں۔
آفس میں لنچ کا بریک ہمیں اچھا لگتا ہے کیونکہ اس میں جب رنگ رنگ کے لوگ ایک جگہ بیٹھتے ہیں تو عموماً ہمارے ہاتھ کوئی نہ کوئی مزیدار کہانی ضرور لگ جاتی ہے۔آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
Healing
زخم مندمل نہیں ہوتے ، زمانے گزر جاتے ہیں لیکن گھاؤ وہیں کے وہیں کیونکہ ہیلنگ نہیں کی جاتی۔۔۔ اور کیوں نہیں کی جاتی ؟
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کا کوئی علاج بھی ہے یا پھر ان کا علاج کرنا چاہیے تاکہ باقی عمر سکون سے کٹ سکے ، لوگوں کی کی ہوئی زیادتیوں کا ناخوشگوار بوجھ ہم عمر بھر لاد کے پھرتے رہتے ہیں اور اکثر اپنی اگلی نسل کو بھی اس میں حصے دار بنا دیتے ہیں
ہینگ لگےنہ پھٹکری
نئے زمانے کی نئی باتیں کبھی کبھی ہمیں بالکل بھی سمجھ نہیں آتیں اور ایسے میں لگتا ہے کہ شاید ہم کچھ پرانے ہو چلے ہیں لیلن پھر وہی کہ عقل ہے محو تماشاۓ لبِ بام ابھی، تو ہوا کچھ یوں کہ ٹین ایج بیٹی پروانہ لائیں
موتیا کی خوشبو میپل کے رنگ پہ ڈاکٹر نقاب خان صاحب کا تبصرہ
نجینئر ڈاکٹر نقاب خان صاحب مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی ایک دبنگ شخصیت ہیں۔ان سے پہلا تعارف ادیب آن لائن پہ ان کی کتاب “ضمیرِ کن فکاں […]