کل نیلم احمد بشیر صاحبہ کی کتاب “مور بلیندا” کی تقریب رونمائی میں شرکت کا موقع ملا اور کتاب کے ساتھ ساتھ مشرق اور مغرب میں لکھنے پڑھنے کے ماحول، […]
پرانی تہذیب اور یادوں کی خوش بو‘- رضوان طاہر مبیں
بشکریہ رضوان طاہر مبین یہ خوبصورت تبصرہ روزنامہ ایکسپریس میں فروری کے مہینے میں شائع ہوا تھا اگرچہ ہم تک پہنچتے پہنچتے اسے تھوڑا وقت لگ گیا لیکن چونکے اس […]
موتیا کی خوشبو میپل کے رنگ پہ ڈاکٹر نقاب خان صاحب کا تبصرہ
نجینئر ڈاکٹر نقاب خان صاحب مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی ایک دبنگ شخصیت ہیں۔ان سے پہلا تعارف ادیب آن لائن پہ ان کی کتاب “ضمیرِ کن فکاں […]
ایک اتوار کی سست سی صبح کو ایک کتاب کو تھاما اور پھر جیسے ہم کسی کی زندگی کے کئی زمانوں میں سفر کرتے چلے گئے۔
انسان جیسے جیسے سنجیدہ ہوتا جاتا ہے اُسے ماورائی اور تصوراتی، اُمنگوں اور رنگوں سے بھرپور کہانیوں سے زیادہ لوگوں کی اصل زندگی کی کہانیاں، تجربے ، واقعات اور اسباق زیادہ متاثر کرنے لگتے ہیں، ہمیں بھی اب اسی لیے “آپ بیتیاں” اور “جگ بیتیاں” پڑھنے میں زیادہ مزا آتا ہے۔