Amma, “I Don’t Want to Be Like You!”
Those words from my five-year-old daughter were enough to snap any mother out of her thoughts. My hands stopped moving as I stood in the kitchen.
پردیسی خواتین اور تنہائی
نوۓ کی دہائی میں شاہ رخ خان کی فلم “پردیس” بہت مشہور ہوئی تھی، جب ہیروئن مہیما چوہدری “جہاں پیا وہاں میں” گاتی خوش خوش امریکہ چلی آتی ہیں اور پھر بالکل مختلف ماحول اور اپنوں سے دوری محسوس کرتی ہیں تو ان کی بزرگ پھوپھی ساس انھیں ایک بات کہتی ہیں کہ “یہاں یا تو بہت سناٹا ہے یا بہت شور ہے ، آدمی یا تو اکیلا ہے یا پھر میلہ ہے”۔
“پہلا بوائے فرینڈ”
آج رضیہ پھر پھنس گئی تھی۔۔ غنڈوں میں تو نہیں بس اپنی پیاری پیاری الگ الگ پہچان رکھنے والی سہیلیوں میں۔آفس میں لنچ کا بریک ہمیں اچھا لگتا ہے کیونکہ اس میں جب رنگ رنگ کے لوگ ایک جگہ بیٹھتے ہیں تو عموماً ہمارے ہاتھ کوئی نہ کوئی مزیدار کہانی ضرور لگ جاتی ہے۔آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
بات فلیشییا نے شروع کی تھی، میز کے ارد گرد ہم دو پاکستانی خواتین کے علاوہ، تین مختلف خطوں کی خواتین تھیں۔ فليشیا کے بیٹے سترہ اور اکیس سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور اُن کی ابھی تک کوئی گرل فرینڈ نہیں تھی( اور یہ بھی ایک مسئلہ تھا)
Chicago shall rise again
ملٹن سے ڈیلس کے سفر میں پہلا اسٹاپ شکاگو تھا جو تقریباً ساڑھے سات گھنٹے کی ڈرائیو بنتی ہے،اس شہر میں ہم تیسری بار آۓ تھے لیکن اس بار یہ […]

