بچپن میں اردو کی کتاب میں ایک سبق پڑھا تھا “ کوئی چیز بیکار نہیں” اس میں ایک بچی رضیہ گھر سے سارا فالتو سامان نکالتی ہے اتنے میں اس کے ماموں آ جاتے ہیں اور ہر ہر چیز کے فوائد گنوا کے اسے ری سائیکل کی ترکیبیں بھی بتاتے ہیں کہ کیسے پرانی چیزوں سے نئی چیزیں بنائ جائیں الغرض سارے کاٹھ کباڑ کا کچھ نہ کچھ بنایا جاتا ہے

