According to one folk tradition, the dance originated by mountain villagers specifically in Lebanon, where houses were built from stone with a roof made of wood, straw and dirt. The dirt roof had to be compacted which required stomping the dirt hard in a uniform way to compact it evenly. Whenever someone’s roof got cracked He called his neighbour villagers and all came together to help as a family.This event of cooperation is called “ta’awon” and from here comes the word “awneh” meaning “help.” This developed into the song Ala Dalouna, roughly translated, “let’s go and help”. The Dabke and the rhythmic songs go together in an attempt to keep the work fun and the workers energetic.Later Dabke became a traditional dance of all kind of happy occasions with various changes according to the country and region.
The thing I liked the most about it is that it is a reflection of their culture which is still in practice.The beauty of it is it is the simplest yet decent dance that a Mom, Dad, Siblings, Uncles, Aunts, Friends and everyone else can join and enjoy together without hesitation.
کینیڈین شادی اور کردش دبکے
کل ایک پاک کردش شادی میں شریک ہونے کا موقع ملا اور بہت مزہ آیا .تقریب کی خاص بات تھی “دبکے ” .”دبکے” دراصل عرب ممالک بلخصوص فلسطین ، لبنان، اردن ،عراق کا علاقائی رقص ہے جو شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے موقعوں پہ سیدھی قطار یا دائرے کی صورت ملکے کیا جاتا ہے . کہتے ہیں اسکی ابتدا لبنان کے پہاڑی علاقوں کے گاؤں کے لوگوں سے ہوئی جہاں پہ مٹی کے گھر اور لکڑی ،تنکوں اور گارے کی چھتیں ہوا کرتی تھیں جن میں شگاف آجانے کی صورت میں یکساں طور پہ ہموار کرنے کے لئے ساتھ مل کے ایک جیسے قدم مارنے کی ضرورت ہوتی تھی . جسکی چھت میں شگاف آتا وہ اپنے پڑوسیوں کو مدد کے لئے بلاتا اور یوں پورا گاؤں ایک خاندان کی طرح ملکے چھت کو ہموار کرتا اس تقریب کو “تعاون” یا “ایونه ” کہا جاتا جسکا مطلب ہے “مدد” ،یہیں سے گانے کے بول ” “علی دلعونہ” بنے جسکے معنی “آؤ مدد کریں ” نکلتے ہیں .کام میں مزہ اور تحریک پیدا کرنے کے لئے اس گانے کے بول پہ چھت ہموار کرنے کے نتیجے میں “دبکے” ووجود میں آے اور پھر آھستہ آھستہ “دبکے” کرنا ہر خوشی کے موقع پہ روایت بن گیا اور اس میں ملکوں اور علاقوں کے حساب سے جددت ہوتی رہی.
اس رقص کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ دراصل انکا اصل اور انکی اپنی ثقافت کا عکس ہے جسے انہونے آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے اور اسکی ایک خوبصورت بات یہ بھی ہے کہ یہ سادہ اور آسان ہونے کے ساتھ ساتھ خاصا باوقار ہے جسے ابّا ،اماں ،بھائی بہن ،تاے ،چاچے ،مامے ،خالائیں ،پھپیاں ،دوست احباب اور تمام موجود لوگ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کے تمام مصلحتوں سے بےنیاز ہو کر ایک ساتھ ایک وقت میں کر سکتے ہیں