پردیس کے رمضان

کل افطار کے بعد حسبِ معمول چاۓ کا دور چل رہا تھا، مغرب سے عشاء کے درمیان پورے دن میں یہ وقت بڑے سکون کا ہوتا ہے، روزے  میں دن بھر کی مصروفیت سحری افطاری، اسکول، یونیورسٹی، دفتر  سب نمٹا کے گھر کے  افراد ساتھ بیٹھتے ہیں تو دن بھر کی خاموشی کے بعد شور سا مچ جاتا ہے۔

گرما گرم چاۓ کے گھونٹ لیتے ہوۓ  یہ شور محسوس کیا تو خیال آیا کہ رمضان کا مہینہ تقریباً بیس بائیس سال بعد دوبارہ سردی کے موسم کی طرف آ رہا ہے، ملینیم کے اوائل میں  یہاں روزہ ساڑھے چار پانچ بجے کے آس پاس کھلا کرتا تھا، بیشتر لوگ افطار راستے میں ہی کیا کرتے تھے، اپارٹمنٹ کے سامنے واقع” گو اسٹیشن “پہ جب ٹرین آ کے رکتی تو لوگ جوق در جوق پارکنگ میں اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھتے، کچھ ہماری طرح اسی بلڈنگ کےلوگ تھے اور کچھ اگلی منزل کے لیے ٹرین سے اتر کر بس کا انتظار کرتے، قد آدم کھڑکیوں کے شیشوں کے  پیچھے  سے  یہ منظر بڑا بھلا لگتا اور تھوڑی دیر کے لیے تنہائ کا احساس زائل کر دیتا، انہی میں سے اپنے گھر کے ایک مکیں کو ہم ڈھونڈنے کی کوشش کرتے جو فون کی بدولت ہمیں نظر بھی آ جاتا ، افطاری کا دسترخوان تیار ہوتا اور پھر بڑے  خاندان  کے بھرے پرے گھروں کے بعد دو لوگوں کی افطاری تو گڈے گڑیا کا کھیل ہی لگتی   تھی ۔

ایک چیز جو بے انتہا محسوس ہوتی تھی وہ تھی خاموشی۔سردی کا سیلا سیلا اندھیرا موسم کس طرح برسوں سے یہاں بسے لوگوں کو بھی اداس کر دیتا ہے تو پھر نئے آنے والے تو اس ڈپریشن کا بہت زیادہ شکار ہو جاتے ہیں اور رہی سہی کسر اپنوں سے دوری اور تنہائ پوری کر دیتی ہے، اس تنہائ کا بھی علاج ہو ہی جاتا ہے جب کام کی مصروفیت اور بچوں کی ذمہ داریاں بڑھتی ہیں پھر دوست اور احباب کا حلقہ وسیع ہوتا ہے لیکن ان سب میں وقت لگتا ہے، پھر بھی جب وہ وقت یاد آتا ہے تو عجیب سی گھبراہٹ وجود کا احاطہ کر لیتی ہے۔

ایک سبق سیکھنے والا ہے اور وہ یہ کہ انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں جا کے بس جاۓ اور چاہے جتنی بھی ترقی اور خوشحالی حاصل کر لے اگر کوئی چیز اسے خوفزدہ یا بےچین رکھتی ہے تو شائد وہ احساسِ تنہائی ہی ہے ، زندگی  کے ساتھ بھاگنے دوڑنے کی ہمت رکھنے والے لوگ تو پھر کوئی  نہ کوئی  حل تلاش کر لیتے ہیں لیکن بڑی عمر کے لوگوں  کے لئے یہ ایک بڑا مسئلہٴ  ہے، شائد اسی لئے اکثر  بزرگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو چاہے وہ اپنی دنیا میں کتنے  ہی کیوں نہ مصروف ہوں کسی نہ کسی بہانے سے اپنے ساتھ رکھیں، کہیں کہیں ایسے میں خود غرضی بھی در آتی ہے لیکن اس کے پیچھے بھی دراصل تنہائ کا خوف چھپا ہوتا ہے۔

اب بھی کبھی کبھی فیس بک کے مختلف گروپس پہ کسی نئے آۓ ہوۓ پنچھی کا یہ مسئلہ پڑھتی ہوں کہ یہاں  آ  کے ایسی  کیفیت ہے گویا    

 بھری  دنیا  میں  جی  نہیں  لگتا 

جانے کس  چیز  کی کمی  ہے ابھی 

تو خیال آتا ہے کہ اب تو پھر اسمارٹ فونز اور واٹس ایپ کی بدولت پل پل کی خیر خبر اور تصویریں ایک کونے  سے دوسرے کونے میں پہنچ  رہی  ہوتی  ہیں، ساری  دنیا  کی  تفریح ، سوشل  میڈیا، دوست، ڈرامے، گیمز  ہتھیلی  میں سمٹ  آۓ ہیں، جب یہ سب نہیں تھا تو وقت کتنا  مشکل تھا  لیکن بہر حال ٹیکنالوجی  کتنی  ہی  ترقی  کر  لے  یہ برقی ڈور  سے جڑا  تعلق  بھی اپنے  من پسند لوگوں  کے پاس بیٹھ  کر  بات کرنے  ، ہاتھ  تھامنے ، چہرے دیکھنے اور گلے  لگنے کا متبادل  نہیں  ہو سکتا اس لئے بھاگ  دوڑ  ، کاموں  اور  فون  سے ہٹ  کر  اپنوں  سے ملنے  اور  بات کرنے  کے لئے وقت  نکالا  کریں کہ زندگی میں بس یہی  یادیں  اندھیرے  موسموں میں  ننھے  ننھے  دیے  بن  کر  جگمگاتی ہیں۔ 

ہم  نے پل  بھر  میں چاۓ  کا گھونٹ  بھرتے ہوئے  اپنے  پہلے  اپارٹمنٹ  کی کھڑکی  کے شیشے  سے موجودہ  گھر کے لاونج تک کا سفر طے کیا اور مسکراتے  ہوئے  سوچا کہ پردیس کے پہلے سرد اور جامد خاموشی والے رمضان سے ماشااللہ بھرے گھر کے شور و غل والے رمضان کے تک کہیں ہم بڑے ہو گئے۔

قرۃالعین صباؔ

#Ramzan2024 

#khayalbysaba

(Visited 2 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *