دیس دیس کی افطاریاں

رمضان کے آخری  جمعے کے اہتمام  میں سب  نے چھٹی لے  لی  تھی، نماز کے بعد پلان  بنا  کہ  آج  افطار  ISNA مسجد  میں کر لیتے  ہیں ، کافی بڑی  مسجد اور اچھے  انتظامی امور  کی وجہ  سے وہاں  رمضان  کی مناسبت  سے بہت  اچھا ماحول  ہوتا  ہے اور مختلف  ممالک  کے مسلمانوں کی ایک  بڑی  تعداد  کو  ایک ساتھ دیکھ کر کمیونٹی  کا احساس  بڑھ جاتا ہے،  مغرب بھی جماعت  سے ہو جاتی ہے اور پھر بڑے بڑے دسترخوان پہ افطار کے بعد کچھ لوگ گھر کی راہ لیتے ہیں اور کچھ تراویح  کا انتظار کرتے ہیں، یوں ایک دن گھر کے افطار کی ہلچل اور پکوڑوں کی  ڈیوٹی  سے بھی گلو خلاصی ہو جاتی ہے تو  بس ارادہ  تو یہی تھا کہ سات  بجے  کے قریب  دروازے  کی بیل بجی ، پچھلے  پورے روزوں  میں تمام متوقع افطاریاں آ چکی  تھیں دوسرا  یہ  کہ  پاکستان  کے بر عکس  یہاں پلیٹ  یا تھال  میں افطاری کے ساتھ ساتھ اب فل  پیکج  افطاری  کا رواج  بڑھتا  جا رہا ہے یعنی  لوگ ہر  چیز  الگ  الگ پیک  کر  کے پورے  گھر کی افطاری  بھیج  دیتے  ہیں اور کیونکہ  یہ کافی  زیادہ  ہوتی  ہے تو اکثر پہلے  سے بتا  بھی دیتے  ہیں کہ  آج  ہم افطاری  بھیجیں  گے تاکہ گھر والے تھوڑا کم اہتمام  کریں  اور کھانا  ضائع نہ ہو، ویسے تو ہمیں روایتی پلیٹ یا تھال میں تھوڑی تھوڑی چیزیں اچھی لگتی ہیں، ایک تو یہ کہ اس طرح دوسرے ذائقے بھی چکھنے کو مل جاتے ہیں اور اگر  کھانے  کا مزہ گھر  والوں  کے ذائقوں سے  مطابقت نہیں  بھی رکھتا تو کھانا ضائع  نہیں ہوتا، دروازہ  کھولا تو سامنے  صاحب کے ایک عرب کولیگ کھڑے تھے جو کہ محلے دار بھی ہیں، افطاری دینے آۓ تھے ۔

 پاکستان اور انڈیا کے علاوہ  باقی  قومیتوں  کا مرکز  افطار کی سوغاتوں کے  بجاے  مکمل  کھانا  ہی ہوتا ہے اور مشاہدہ  ہے کہ عرب  ، مصر  ، صومالیہ اور دیگر مسلمان ممالک کے لوگ جب بھی کچھ بھیجتے ہیں ماشاءالله  بہت وافر بھیجتے ہیں اور اس سے  خوف  اسلئے  آتا  ہے کہ  پاکستانی  قوم کے اندر  چٹ پٹے مصالحے جیسے  خون  میں  دوڑ  رہے  ہیں جو  دیگر  ممالک کے کھانوں  میں نہیں پاۓ جاتے، یوں ان محبت سے لاۓ کھانوں  کو برتنا  اور سمبھالنا مشکل ہو جاتا ہے یا پھر ان کو کسی فیوژن سے نئی شکل دینا پڑتی ہے۔

 افطاری  کا باکس  کھولا تو  وہ انواع اقسام کی نعمتوں سے بھرا ہوا تھا ، ہم نے مسجد کا ارادہ موقوف کیا کہ پھر اس کا کیا کریں گے اور سوچا اس کے ساتھ عوام کی دل پشوری کے لئے بس  کوئی  ایک  چیز اور  پکوڑے بنا لیتے ہیں تاکہ  مکس اینڈ میچ  ہو جائے  ، ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ بیل بجی اور ہماری ایک پاکستانی پڑوسن  بریانی اور دیگر  سوغاتوں  کے ساتھ موجود  تھیں ، ہم  نے شکریہ کے ساتھ پروگرام  مزید شرنک کیا۔

 محلے  سے افطاری  آنا اور افطاری بھیجنا  یا  عام  دنوں  میں بھی کوئی  اچھی چیز پکے  تو آس  پڑوس  میں  بھیج  دینا ایک بڑی  پیاری  روایت  ہے ،

 جب نئے  نئے  یہاں آۓتھے تو اپنے اپارٹمنٹ کے  فلور پہ یہ سلسلہ  شروع  کیا ، کافی سارے  پاکستانی  آباد تھے اسلئے اچھا لگتا  تھا ، دوسری  قومیتوں  کے لوگوں  میں ایک افغان  خاندان تھا اسمیں دو بھائی  اپنے  بوڑھی  اماں  کے ساتھ رہتے تھے ، اماں  سے اکثر  کچرا پھینکنے گاربیج شوٹ کی طرف جاتے  ہوے  ملاقات  ہوتی تھی ، اپارٹمنٹ  بلڈنگس  میں ہر فلور  پہ ایک مختصر  سا اسٹور  کچرے کو نیچے پھینکنے کے لئے بنا ہوتا ہے آپ کسی لیٹر  باکس  کی طرح  تھیلی کا منہ  بند  کر کے  اسے سرکا دیتے  ہیں اور وہ نیچے  ڈرم  میں جا کے گر  جاتی  ہے ، باقی  ڈبے، گتے، بوتلیں  اور دیگر ریسائکل یا دوسرے  لفظوں  میں ردی  پیپر  والی  چیزیں چاہے  آپ پہلے  فلور  پہ رہیں  یا  بائیسویں پہ نیچے بنے کمرے  میں جا  کے ہی رکھنی  ہوتی  ہیں، سو اماں جی سے جب  بھی ملاقات ہوتی وہ یا تو اشاروں  سے حال چال پوچھتیں یا کہتیں

“خوب استی” “خوب استم”؟ 

ہم بھی اشاروں میں جواب دے دیتے، کبھی ان کے ہاں کچھ بھیج دیتے تو کچھ دن بعد تیز خوشبوؤں والا روایتی کشمش اور گاجروں سے سجا غالباً “کابلی پلاؤ” آ جاتا۔

ایک رمضان خیال آیا کہ فلور کے باقی گھروں میں بھی افطاری بھیجنا چاہئے، لیکن ساتھ ہی یہ خدشہ بھی تھا کہ ہمارے اجزا دوسروں کے لئے مسئلہ نہ ہوں پھر  کمپیوٹر پہ سموسے ، پکوڑے  رول کے  شیپ کے ساتھ چیزیں بنائیں اور ساتھ ساتھ نام اور انگرڈینٹس بھی لکھ دیے، ساتھ میں رمضان کے متعلق ایک نوٹ بھی پرنٹ کرنے رکھ دیا۔

بچے بہت چھوٹے تھے، انھیں فلور پہ یہ ایکٹیوٹی کرنے میں بہت مزا آیا، ہمارے برابر والی گوری پڑوسن بھی ہلچل دیکھ کے باہر نکل آئی اسے تھال میں سجی چیزیں بہت اچھی لگیں، ایک گھر میں اکیلے عمر رسیدہ بابا جی تھے بچے کہیں الگ آباد تھے، وہ تو باقاعدہ   حیران پریشان ہو گئے اور پھر بہت جذباتی اور خوش کہ “تم میرے لئے فوڈ لاۓ ہو”، ابھی افطار ہوا ہی تھا کہ دروازے پہ دستک ہوئی ، وہی گورے بابا جی کھڑے تھے،ایک تھیلے میں کچھ اسنیکس وغیرہ لے کر ، ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیسے شکریہ ادا کریں اور انھیں یہ سمجھانا مشکل لگ رہا تھا کہ یہ تو ایک عام سی بات ہے۔

 لوگ کسی قومیت کے ہوں اپنی کہانیاں رکھتے ہیں اور تنہائ کے مارے ہوں تو چھوٹی چھوٹی چیزیں انھیں بے انتہا جذباتی کر دیتی ہیں، شکریہ ادا کرتے ہوۓ ان کی آواز بھرا گئی وہ تھوڑی دیر چپ کھڑے رہے پھر جانے کیا دماغ میں آئی کہ پانچ ڈالر کا نوٹ ہمارے بیٹے کو پکڑا دیا جو اس وقت چھ سات سال کا تھا، 

Just want to thank you

  بعد کے رمضانوں میں بھی جس جس محلے میں رہے رمضان  میں یہ سلسلہ  جاری  رکھا، غیر مسلم پڑوسیوں کا ردعمل اچھا رہا لیکن ایک بات جو  نوٹ  کی وہ یہ  تھی کہ  یہاں سب کسی  کی بھیجی  ہوئی  چیز  کو جیسے  قرض  کی مانند  سمجھتے  ہیں ، اگرچہ  ہماری  بھی  کوشش ہوتی  ہے کہ اگر  کہیں  سے کچھ  آۓ تو جب بھی پھر گھر  میں کچھ اچھا  پکے  ہم  بھی بھیج  دیں  لیکن ان لوگوں  کی کوشش  ہوتی  ہے کہ فوری  طور  پہ  بدلہ کر  دیا جائے، مسئلہ جب ہو جاتا ہے جب ان کے  اجزا  حلال  نہ ہوں یا پھر شک رہ جاۓ، ایسا  بھی ہوا  کہ ادھر  کچھ بھیجا اور فوراً ہی پڑوسی کچھ لئے دروازے پہ کھڑے تھے، کافی بار بڑے بڑے کیک اور کوکیز وغیرہ کو مشکوک انگریڈینٹس کی وجہ سے ٹھکانے لگانا مشکل ہو گیا، اگر چہ اب انٹرنیٹ اور گوگل کی بدولت لوگ ایک دوسرے کے مذہب اور کلچر کے بارے میں کافی کچھ جان گئے ہیں لیکن پھر بھی کچھ معصوم لوگ شیمپین کی بوتل لیے اپنے مسلم دوستوں کو خوشی  خوشی  رمضان اور عید کی مبارکباد  دینے  چلے  آتے  ہیں۔

جہاں کبھی کبھی ذائقے مطابقت نہیں رکھتے وہیں کبھی کبھی کوئی ایسی چیز کھانے کو مل جاتی ہے جس کی ترکیب جاننے کا دل چاہتا ہے، ایسی ہی ایک ڈش کل ہمارے برابر میں نئی شفٹ ہونے والی مصری پڑوسن لے کر آئیں، اور ڈبے پہ ضروری ہدایت بھی ساتھ لکھ کر لائیں جو ہمیں بہت اچھا لگا، “ام علی” نام کا یہ میٹھا ہم نے کافی بار کھایا ہے سعودیہ میں بھی کھایا لیکن سچ کہیں تو یہ ہمیں ہمیشہ دودھ ڈبل روٹی سے مشابہ لگا لیکن ان کا لایا ہوا “امُ علی” واقعی بہت مزیدار تھا۔کل گھنٹی بجی جتنی دیر میں دروازہ کھولا آنے والا جا چکا تھا لیکن فوائل سے ڈھکا تھال دروازے پہ چھوڑ گیا تھا، کھولا تو سجا سجایا پائن ایپل کیک تھا، جلدی سے فون دیکھا کہ شاید کسی کا میسج ہو لیکن کچھ نہیں تھا، پھر گھر میں انویسٹی گیشن شروع ہوئی تو سب نے لا علمی کا اظہار کیا، گماں ہے کہ دوسری گلی کے عرب پڑوسی ہوں گے لیکن تفتیش جاری ہے۔

   

وقت کے ساتھ کچھ باتیں یہ سیکھیں کہ اگر افطاری بھیجنا ہو تو چھٹی کے دن کے بجاۓ بیچ کے کسی دن کا انتخاب کیا جاۓ کیونکہ ہفتہ اتوار کو اکثر گھروں میں دعوتوں کا اہتمام رہتا ہے اور لوگ گھر پہ افطار نہیں کرتے، دوسرا یہ کہ اگر زیادہ مقدار میں بھیجنے کا ارادہ ہو تو پہلے سے بتا دینا بہتر ہوتا ہے، تیسرا یہ کہ اگر کسی دوسرے کلچر یا مذہب کے لوگوں کو اپنی کوئی چیز بھیجی جاۓ تو اس کے ساتھ اجزا، ضروری ہدایات یا تعارف لکھنا ایک طرح سے آپ کے ملک اور کھانے کا کسی اور ثقافت میں تعارف کروانے کی مانند ہوتا ہے اور اگر کسی کو کسی خاص چیز سے الرجی ہو تو احتیاط بھی ہو جاتی ہے، رمضان یا عید کا موقع ہے تو اس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات مذہبی تہواروں کا تعارف بن جاتی ہے۔

  اس بات کا بھی بہت شکر  ہے کہ جہاں جہاں رہے اللّه تعالیٰ  نے غیر مسلم ملک میں بھی اتنے سارے اپنے لوگوں کے بیچ رکھا اور یہ روایتیں تازہ رکھنے کا موقع ملا کیونکہ کچھ لوگ ایسی جگہوں پہ بھی آباد ہیں جہاں ان کے علاوہ کوئی مسلمان خاندان نہیں بستا یا پھر  چند مسلم خاندان ہیں جنہیں انگلیوں پہ گنا جا سکتا ہے اور یہ سب اپنے تہواروں خاص کر رمضان اور عید کے موقعوں پہ خاصی اداسی کا باعث ہوتا ہے۔

قرۃالعین صبآ

#Ramzanincanada 

#Ramzan2024

#khayalbysaba

(Visited 2 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *