تایا کے ہاں گئے تھے، کون کون آیا ہوا تھا؟ کیا باتیں ہوئیں؟
تائی کچھ کہہ رہی تھیں کیا ہمارے بارے میں؟
چچا کے ہاں گئے تھے؟ چچی کیا کر رہی تھیں؟ گھر پہ کون کون تھا؟
کھانا کیا پک رہا تھا؟ تم سے صحیح طرح بات کی یا غصے میں تھیں؟
ماموں کے گھر تھے، مامی کہاں جا رہی تھیں؟ ہیں بازار؟ اکیلی جا رہی تھیں یا کسی کے ساتھ؟ نانی کا کھانا پکا دیا تھا؟
پھپھپو کی گاڑی دیکھ کے آ رہے ہو؟ قیمت کے بارے میں کوئی بات ہوئی تھی؟ پیسے کہاں سے آۓ؟ سدرہ باجی کے رشتے کی بات چل رہی ہے سنا ہے، تمہارے سامنے ذکر نکلا تھا کیا؟
خالہ جان مانی بھائ کو ڈانٹ رہی تھیں کیا؟ سنا ہے کوئی لڑکی وڑکی پسند کرلی ہے، خالو کا موڈ کیسا تھا؟
——————-
بچے کچی مٹی کی مانند ہوتے ہیں اور بڑے انھیں کمہار کی طرح جو شکل دینا چاہیں دیتے ہیں اور جس شخصیت میں ڈھالنا چاہیں ڈھالتے ہیں۔
اگر آپ اپنے چھوٹے بچوں کو دوسروں کے گھروں کی خبریں حاصل لرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں تو آپ مستقبل کے ایک منفی تجسس سے بھرپور ایسے انسان کی تشکیل کر رہے ہیں جو ساری زندگی، اپنی زندگی، ارادوں، منزلوں اور کامیابیوں پہ نظر رکھنے کے بجائے دوسروں کی زندگیوں، کامیابیوں مسئلے مسائل، منفی خیالوں، مقابلے بازی اور حسد میں ہی الجھا رہے گا اور اس کی اپنی زندگی کبھی بھی پرو ڈکٹیو یا کارآمد نہیں ہوسکے گی۔
اپنے بچوں کو گھریلو سراغرساں مت بنائیں، اپنے تعلقات اور رشتوں کے بیچ انھیں خاندانی سیاستوں میں نہ الجھائیں۔
بد قسمتی اب تو کچھ ٹی وی ڈراموں میں بھی بچوں کو ایسا کرتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے اور ایسے ننھے کرداروں اور حرکتوں کو کیوٹ کہا جاتا ہے، بچے وڈیو ریکارڈ کر رہے ہیں، بڑوں کی بات چیت ریکارڈ کر کے جن کے بارے میں بات ہو رہی ہے انھیں سنا رہے ہیں اور اسے شرارت سے تعبیر کیا جا رہا ہے، یہ سب دکھانے والوں کی بھی مت ماری گئی ہے، دیکھنے والے بھی اپنا دماغ گروی رکھے بیٹھے ہیں اور گھروں میں لگی مست ملنگ فیکٹریاں شدید ٹاکسک انسانوں کی تیاریوں میں مشغول ہیں جنھیں بڑے ہو کر صرف منفیت پھیلانی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کسی کے گھر جاؤ تو اندھے بن کے جاؤ اور گونگے بن کے نکلو، سوره حجرات میں ہے “ولا تجسسسو” کہ تجسس نہ کرو ، ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو ، لیکن بد قسمتی سے ہم ہاتھ اوپر یا نیچے باندھنے ، چہرے کا پردہ آواز کا پردہ، شلوار ٹخنے سے اوپر یا نیچے، اور ان جیسی کئی باتوں پہ تو گھنٹوں بحث کر لیتے ہیں لیکن جب بندوں کے جان مال کی حرمت، ان کی پردہ پوشی اور انھیں ذہنی اور جسمانی دقت اور اپنے اعمال و کردار کے ذریعے انھیں تکلیف نہ دینے کی بات آتی ہے تو ہمیں دین کے سارے احکامات بھول جاتے ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
قرۃالعین صباؔ
