ایک دن ایک پچھلی پیڑھی سے تعلق رکھنے والی خاتون سے آجکل کثرت سے ناکام ہونے والی شادیوں کے موضوع پہ بات ہو رہی تھی۔میں نے کہا کہ کے اکثر وجہ بتائی جاتی ہے کہ دونوں
Compatableنہیں تھے۔ہماری شادی کے زمانے میں لفظ
Compromiseہوتا تھا۔کہنے لگیں ہمارے زمانے میں تو
Sacrifice
ہوتا تھا اور ہم دونوں ہنس پڑے
پہلے چونکہ خواتین فقط گھر تک محدود تھیں۔بہت زیادہ تعلیم یا معاشی طور پہ مستحکم ہونے کا کچھ خاص رواج نہیں تھا اسلیے زیادتی کے باوجود ایک چھت تلے زندگی گذر جایا کرتی تھی اب حالات مختلف ہیں دوسری طرف چمک دمک کا ایک طوفان ہے۔ ویوز بڑھانے کی شو شا کے چکر میں سوشل میڈیا پہ اتنی غیر حقیقی نمود و نمائش کی جاتی ہے کہ دیکھ دیکھ کے سب ہی کی خواہشیں اور توقعات بے لگام ہیں اور سب کو لگتا ہے کہ شادی شدہ زندگی فقط اسی چکا چوند کا نام ہے،حالانکہ
وغیرہ وغیرہ اسکرین کے سوا کہیں نہیں پائے جاتے اور یہ ٹرمز اکثر نئی نئی شادی یا انیورسری کے علاوہ عام حالات میں بڑے بڑے معرکوں کے بعد صلح صفائ کی قوس و قزح کے طور پہ پوسٹ کی جاتی ہیں ورنہ ہر گھر میں ،پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں کہہ کے پچاس منٹ لگنے پر، پتا تھا کہ کچرے کا دن ہے تو رات کو کیوں نہیں رکھ دیا ،دعوت دینے سے پہلے ایک بار پوچھ تو لیا کریں، بل وقت پہ کیوں نہیں جمع کرایا؟ جب میں بچوں کو ڈانٹ رہی ہوں تو آپکو بھی اسی وقت ڈانٹنے کی کیا ضرورت ہے؟ اتنا زیادہ خرچہ ؟میری بات کی نفی کرنا ضروری ہے کیا ؟جیسی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ سارے کپل گولز برابر ہو رہے ہوتے ہیں ۔
کامیاب شادی کا کوئی ایک فارمولا نہیں ۔
،سب لوگ مختلف ہوتے ہیں اسلیے سب جوڑوں کی ایک دوسرے سے توقعات اور ترجیحات بھی مختلف ہوتی ہیں اسلیے کسی اور کو دیکھنےکے بجائے اک دوسرے کی ضرورتیں اور توقعات سمجھنا ضروری ہیں۔ دوسروں کی شادی سے اپنی شادی کا اور کسی کے ہمسفر سے اپنے ہمسفر کا مقابلہ فقط بیوقوفی اور خود کو بے آرام کرنا ہے کیونکہ سب اپنے اپنے چیلنجوں سے نبرآزما ہیں جنہیں آپ نہیں جانتے۔
انگریزی کا ایک بہت اچھا مقولہ ہے کہ
کل ماشااللہ ہماری شادی کی سترھویں سالگرہ ہے۔اس حوالے سے کچھ پرانی یادوں کے ساتھ شادی سے منسلک کچھ ایسی منفی چیزوں کے بارے میں بات کریں گے جن کو اگرچہ نہیں ہونا چاہیے لیکن آج بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔
اگر اس سلسلے میں آپ کسی موضوع کی نشاندھی کرنا چاہیں تو مجھے میسج کر سکتے ہیں۔
*
Lesson learnt: Times Square peh Nosar bazoon sey Sadar Aur Empress Market ki tarhan hoshiyar rahen۔
*
Check out the stories for some Shadi and pre Shadi memories
*
Khayal by Saba

