بچوں کے اسکول کی چھٹیاں چل رہی ہیں، آج کل یحییٰ کے ساتھ روزانہ کمیونٹی سینٹر اور لائبریری کا چکر لگ رہا ہے۔ یہاں یوں تو مختلف کھیلوں کے پروگرامز اور سرگرمیاں ہمیشہ ہی چلتی رہتی ہیں اور تیراکی وغیرہ کی ہفتہ وار کلاسسز ہوتی ہیں لیکن چھٹیوں میں یہ سینٹر مزید فعال ہو جاتے ہیں ، ہفتہ وار کلاسس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پہ بھی کلاسس شروع ہو جاتی ہیں جو کہ کافی فائدہ مند ہوتی ہیں۔
یہ کلاسس فری تو نہیں ہوتیں لیکن اگر کسی خاندان کی آمدنی کم ہے تو کچھ پروگرامز کے تحت بچوں کی ایکٹیوٹیز کے لیے انھیں مالی معاونت بھی دے دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بہت سارے لوگ اس طرف توجہ نہیں دیتے حالانکہ فی زمانہ بچوں کا اسکرین ٹائم کم کرنے اور ان کی ذہنی حالت درست رکھنے کے لیے انھیں کسی جسمانی مشقت میں لگانا بے حد ضروری ہے لیکن ظاہر ہے اس کے لیے خود کو بھی کھپانا پڑتا ہے ورنہ کس کا دل نہیں چاہتا کہ لانے لے جانے کی ڈیوٹی کرنے اور پھر وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے کے بجاۓ مزے سے صبح دیر تک لمبی تان کے سویا جاۓ یا اپنے کام اور تفریحات میں وقت لگایا جاۓ۔
مزے کی بات یہ ہے کہ جب زیادہ کھپنے اور تھکنے لگتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ایسا مل جاتا ہے جو ہمت بڑھا جاتا ہے۔
ادھر ہی ہماری ایک خاتون سے ملاقات ہوئی، دیکھنے میں انڈین لگ رہی تھیں ، ان کا بیٹا بارہ تیرہ سال کا ہوگا، بہت اچھی تیراکی کر رہا تھا، ہم نے تعریف کی تو پتہ چلا آٹھویں لیول میں ہے پھر خود ہی بتانے لگیں کہ اس کو ہم نے پرائیوٹ لیسن بھی دلواے ہیں، گروپ میں پانچ چھ لوگ ہوتے ہیں تو توجہ کم ہو جاتی ہے، ہم نے بادل نخواستہ مزید معلومات لی تو پتہ چلا انفرادی کلاس تین سو ڈالر کی ہوتی ہے( آۓ ہاۓ اوۓ ہوۓ، سوشل میڈیا کی بدولت دماغ میں اتنا کچرا بھر جاتا ہے کہ نہ چاہتے ہوۓ بھی بس یہی خیال آیا)، گروپ کلاس سو ڈالر سے کچھ اوپر کی ہوتی ہے یعنی انفرادی لیسن کی فیس دو گنا زیادہ، بڑے گروپ میں بچے دیر سے سیکھتے ہیں، انھونے بات آگے بڑھائی۔
باقی کسی کھیل کی طرح تیراکی بھی صبر طلب کام ہے، عموماً ایک سیشن دو ماہ پہ محیط ہوتا ہے جس میں تیس منٹ کی ہفتہ وار ایک کلاس ہوتی ہیں تو کل آٹھ نو کلاسیں اور ضروری نہیں کہ ہر سیشن کے بعد بچہ لیول بھی پاس کر لے کیونکہ اس کے لئے بھی مشق کی ضرورت ہوتی ہے نتیجتاً دو تین بار ایک ہی لیول کرنا پڑے تو والدین اور بچے دونوں اکتانے لگتے ہیں، ایسے میں اگر بچہ بھی شوقین اور والدین بھی مستقل مزاج ہوں تو سلسلہ چلتا رہتا ہے، پھر ان چیزوں پہ خرچہ کرنے کے لئے بھی دل چاہیے ہوتا ہے، اس معاملے میں اکثر لوگوں کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔
اب یہاں ایک بات اور نوٹ کر لیں ، بہت سے لوگ ان چیزوں کا ذکر آتے ہی خود ساختہ کم مائیگی میں مبتلا ہونا شروع ہو جاتے ہیں کہ نہ ہمارے پاس یہ سہولیات ہیں اور نہ پیسہ تو جناب کھیل یا جسمانی ایکٹیوٹی کوئی بھئ ہو سکتی ہے اور گھر کی چھت، گلی، کھلے میدان، آنگن اور قریبی پارک کہیں بھی کی جاسکتی ہے بس اس کے لئے وقت اور مشقت درکار ہے اور سچ تو یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو تو بچوں کو قریبی پارک لے جاتے ہوے بھی الکسی آتی ہے۔
ابھی ہمارے سستی مارے دل میں یہ خیال آ ہی رہا تھا کہ اتنی محنت کر رہی ہیں شاید یہ ان کا ایک ہی بچہ ہوگا کہ وہ بول پڑیں، میرے دو بڑے بچے اب لائف گارڈ بن چکے ہیں وہ اس کے ساتھ کام بھی کرتے تھے، انھونے سپر وائزر کی طرف اشارہ کیا، ایک چھوٹا بچہ شروع کے لیول میں بھی تھا، یہ تو ایک لائف اسکل ہے نا! وہ مزید گویا ہوئیں۔۔
نائس! بالکل اس میں کوئی شک نہیں، ہم سراہے بغیر نہ رہ سکے بچے یقیناً پڑھتے بھی ہوں گے لیکن سوئمنگ کے سارے لیول مکمل کر کے اب چھوٹی عمر میں اپنے حساب سے لائف گارڈ کی نوکری کرنے کے بھی قابل ہیں اور اس کے پیچھے یقیناً سالوں کی محنت ہوگی، بچوں کی سوئمنگ کے زیادہ تر انسٹریکٹر بھی یہی اسٹوڈنٹس ہوتے ہیں جو خود سیکھ کے اب سکھانے کی پوزیشن میں آجاتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ چاہے معاملہ دینی اور دیناوی تعلیم کا ہو یا پھر بچوں کی ذہنی و جسمانی نشو نما کا ہر مرحلے میں والدین کی مالی، ذہنی اور جسمانی مشقت درکار ہوتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنا وقت اور توانائی صحیح وقت پہ بچوں پہ لگا دی جاۓ تو انھیں معاشرے کا ایک کارآمد فرد بنتا دیکھ کر اور اپنے پیروں پہ کھڑا ہوتا دیکھنا ہی شاید والدین کی سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے جو اس ساری تھکن کا مداوا کر دیتی ہے۔
قرۃالعین صباؔ




