پہلی بارش

پہلی بارش
بچپن کی !
ایک عجیب خوشی اور سرشاری
بے فکری اور لا پرواہی
بس بھیگتے جاؤ بھیگتے جاؤ
گیلی مٹی کی خوشبو جیسے
ہر دولت پہ بھاری
گرما گرم پکوان
ہر کھیل کا مزا دوبالا
بارش سے بڑھ کر بھی کوئی خوشی ہے کیا؟

پہلی بارش
لڑکپن کی!
ابھی گھٹا پوری طرح آئی نہیں کہ
خوابوں کی جھالر پہلے امڈ آئی
بوندیں شیشے پہ پڑیں تو
کیا کیا تصویریں بننا شروع ہو گئیں
بے وجہ ڈھیر ساری مسکراہٹ
آنکھیں موند کے
بارش کی آواز محسوس کرو تو
خیال کا سفر انجانے راستوں پہ
کہاں کہاں پہنچ جائے
کچھ سمجھ نہ آیا تو
بارش کے گیتوں سے دل بہلا لیا
اے دیوانی بارش اب رک بھی جا
آنکھیں بھر گئیں خوابوں سے
اب بس!

پہلی بارش
جوانی کی !
پہلی بوند پڑی تو
کسی کی یاد چپکے سے چلی آئی
کبھی رسوئی میں پناہ ڈھونڈی
تو کبھی کتابوں میں
بھاپ اڑاتا چائے کا کپ
آس پاس بکھری شاعری کی کتابیں
برکھا رُت کی خوشبو جیسے
ہر سو بس گئی
برستی پھوار میں رات کو
مدھم پڑتی اسٹریٹ لائٹ کا فسوں
دھندلی نارنجی روشنیوں میں
دوڑتی گاڑی
شیشے پہ ہولے ہولے ہلتے
وائپرز کی گھرر گھرر
اور نصرت فتح علی خان کی
فضا میں بکھرتی آواز
“مورے سیاں تو ہیں پردیس میں کیا کروں ساون کو
سونا لاگے سجن بن دیس میں ڈھونڈوں ساجن کو۔۔
رک جاؤ بوندو بس اب تنگ نہ کرو!

پہلی بارش
ڈھلتی عمر کی!
اپنے جیون ساتھی کے ساتھ
لان میں چھتری تلے
کرسی ڈالے بیٹھی میں
لمبے سفر کی یادیں کھوجتی
بھیگتے شجر دیکھتے ہوئے
چائے کی چسکیاں لیتے
ایک کا بچپن،ایک کا لڑکپن ایک کی جوانی
اپنے بچوں کے چہروں پہ خود پہ بیتے
بارش کے سارے رنگ دیکھنا
کتنا اچھا لگتا ہے
پیاری بوندو!
برستی رہو
برستی رہو…!

قرۃ العین صبآ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Discover more from Life, Literature & Everything in Between

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Life, Literature & Everything in Between

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading