شادی اور بچپن کی یادیں

شادی اور بچپن کی یادیں

چیزیں ایک سی نہیں رہتیں زمانے کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، شادی کی تقریبات ، رسمیں اور گیت بھی کچھ ایسے ہی بدلے ہیں ۔

ہمارے بچپن میں ہم بچوں کے لئے شادی کی سب سے بڑی کشش رات گئے ڈھولکیوں کی محفل اور رت جگے ہوا کرتے تھے، گھروں میں ڈیکوریشن سے دریاں اور سفید چاندنیاں منگوا لی جاتیں ، کسی کسی گھر میں شادی کا آغاز قرآن خوانی یا میلاد سے ہوا کرتا تھا جس میں لہک لہک کے نعتیں پڑھی جاتیں تھیں ، اس میں بھی سب ہم آواز ہو جاتے ، یہ طریقہ کار اسلامی تصورات کے حساب سے تو ٹھیک نہ تھے لیکن بڑوں کی نیت اچھی ہی ہوا کرتی تھی کہ شادی کی شروعات اللّه کے نام سے ہو، پھر انھیں چاندنیوں پہ خاندان کی لڑکیوں کی محفل جمتی۔

ہمیں یاد ہے کہ قریبی رشتے داروں کے کارڈ پہ لکھا جاتا فلاں تاریخ سے فلاں تاریخ تک “کنڈی بند دعوت” ،پہلی بار پڑھا تو بہت ہنسی آئی، یہ کنڈی بند دعوت کیا ہوتی ہے؟ پھر کسی نے سمجھایا کہ اسکا مطلب یہ ہے کہ اس تاریخ سے جب آپ آ جایں گے تو بس پھر ہمارے گھر میں ہی مہمان رہیں گے اور گھر کی کنڈی بند کر دی جائے گی یعنی بس آگئے تو آگئے ، طرح طرح کے انداز اور محبت تھی، سب سے بڑھ کر سب کے پاس وقت تھا اور شادی کے گھر میں رہنے کا رواج بھی، میزبان رشتہ داروں کے نہ رہنے پر خفا ہو جاتے تھے ، سادگی بھی تھی اسلئے مہمان چاۓ پاپے یا ڈبل روٹی کے ناشتے اور آلو کی تہاری، ٹماٹر پیاز کی چٹنی اور رائتے کے کھانے پہ برا نہیں مانتے تھے باقی شام میں رسم یا تقریب کا کھانا ہو گیا اور اگلے دن کل کا بچا ہوا کھانا اللّه اللّه خیر صلا۔

دن بھر ناشتے کھانے اور شادی کے کام ساتھ ساتھ نمٹاۓ جاتے اور پھر ڈھول پہ گانوں کا سلسلہ چلتا رہتا اگرچہ ہم بچوں کا دل اسوقت کے فلمی گانوں یا پاپ کلچر کی طرف مائل ہوتا جو پورے پورے ازبر تھے لیکن بڑوں کا سارا زور سہرے، سہاگ اور شادی بیاہ کے گیتوں پر ہوتا، اور ان گیتوں کی باقاعدہ ڈائریاں بھی بنی ہوئ تھیں۔

رت جگوں میں جب بچے اپنا شوق پورا کر چکتے تو بڑوں کی باری آتی، ہمارے خاندان کی کچھ بزرگ خواتین کی آواز اتنی پاٹ دار تھی کہ وہ دو تین مل کے بھی گاتی تھیں تو کافی ہوتا، دلہن کے دوپٹے میں بیل ٹانکتے ہوئے یا جزدان کے غلاف میں گوٹا کناری لگاتے ہوئے جب وہ مل کے گاتیں تو خاصی اونچی تان لگتی، اسوقت ہمیں وہ سہرے اور سہاگ بڑے دقیانوسی سے لگا کرتے تھے اور “بنّے” “بنّی”، “بندڑے”، “بندڑی” کے الفاظ بہت ہی عجیب لیکن اب جب اس میں چھپے احساسات اور بول سمجھ آتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بڑوں کو وہ گیت کیوں اچھے لگتے تھے ، ان لوگوں سے سن سن کے وہ بول ہم بچوں کو بھی یاد ہو گئے تھے اور اب بھی ہیں، جیسے

میری مالن بہت اچھا سا بنا لا سہرا

دلہا کمسن ہے کھلونا سا بنا لا سہرا

ہنستے ہوۓ پھول جو جھڑتے ہیں دلھن کے منہ سے

میری مالن انھیُ پھولوں کا بنا لا سہرا

سکھیوں آؤ چلیں گلشن میں آج کلیاں لایں ہم

چن کر ان کلیوں کا سہرا بنایا باندھیں گے بیرن

اماں تیری لے کے بلائیں کہتی ہیں خوش ہو ہو

مایوں تیری آج ہوئی اور شادی ہو جم جم

سہرا دولہا کے اعزاز میں ہوتا ہے اور دلہن کے لئے “سہاگ” گاۓ جاتے تھے، جیسے یہ یاد رہ گیا

اس پیاری بندڑی کا ہے پیارا سہاگ

کھلا بیلا چمبیلی چمن میں گلاب

ہو مبارک بہن دلہن بیگم تمہیں

سدا قائم رہے یہ تمہارا سہاگ

اس کے علاوہ “رسولِ پاک کا سایا مبارکُ ہو مبارک ہو” بہت مشہور تھا ایک عرصے بعد پتہ چلا کہ اس کی طرز ہیمنت کمار کے مشہورِ زمانہ گیت “ہے اپنا دل تو آوارہ نجانے کس پہ آۓ گا” سے مستعار لی گئی ہے۔ شادی کے اور دوسرے گیت بھی تھے جیسے

ہاتھ میں زرد رومال بنی کا بندڑا

اس رے بنے کو میں جانے نہ دوں گی

بنّا ڈبے میں لایا سہاگ سہاگن تیرے لئے

ہریالا بنا مورا من بھایا ری چلو دیکھیں

بنا میرا عید کا چاند ناجو چاندی ہے

چاندنی میں آیو میاں بندڑے

میرے نیہر سے آج مجھے آیا

بنّو تیرے ابا کی اونچی حویلی

اے ری بنو الجھو ہو کیوں لمبے بالوں سے

اسکے علاوہ مسرت نزیر کے پنجابی گانے، پنجابی ہماری زبان تو نہیں تھی لیکن شادی کے حوالے سے سمجھ بھی آتے تھے اور گا بھی لئے جاتے تھے۔

شادی کے اکثر گانوں میں بات ابٹن سے شروع ہوتی پھر مہندی، جوڑے اور سہرے پہ ختم ہوتی، ہم جیسے بچوں کے لئے گویا یہ گانا یاد کرنے کا ایک فارمولا تھا ۔ کچھ کچھ گانوں کے حصّے حذف بھی کر دیے جاتے تھے کہ بچوں کے لیے مناسب نہیں حالانکہ وہ بھی آج کے حساب سے قدرے معصوم ہی ہوتے ہونگے ۔

ان سب گانوں کے بعد نیگ مانگنے کا سلسلہ بھی چلتا تھا جس کے لئے “گاؤ مبارکبادی مائ جم جم نتھ نتھ” والا گانا رشتوں کے نام لے کر گایا جاتا کہ

دلہن کے ابّا جگ جگ جیوے، جم جم جیوے

یہاں سوئی اٹک جاتی تھی جب تک دلہن کے ابّا جیب سے کچھ پیسے نکال کے لڑکیوں کے حوالے نہ کر دیں اس کے بعد اگلا حصّہ گایا جاتا “ہوے بیٹی کی شادی مائی جم جم نتھ نتھ ” یوں باری باری سارے رشتوں کے ساتھ اچھا خاصا شغل میلا لگ جاتا اسکے بعد وہ پیسے سب میں تقسیم ہوتے ۔

رات گئے پھر ایک دور غزلوں کا بھی ہوتا ، اس میں کچھ نعتیہ اشعار بھی ہوتے تھے، پتہ نہیں ان سب گیتوں اور غزلوں کے تخلیق کار کون تھے لیکن کچھ سنا تھا کہ کیونکہ پہلے شادی بیاہ پہ سہرے اور رخصتی لکھنے کا رواج تھا تو پرانی ڈائریوں میں کچھ تخلیقات خاندان کے بڑوں کی بھی تھیں جس کو اپنی طرز بنا کے گایا جاتا تھا۔

ایک نعت کا کچھ حصہ یاد ہے

چھٹ جاے گھٹا چاند نکل آۓ محمد

گیسو یہ تیرے کالے کالے چھائے محمد

گلدستے لئے پھرتی ہیں فردوس کی حوریں

کہتی ہیں کہاں دفن ہیں شیداۓ محمد

غزلوں میں سرِ فہرست تھی

بےوفا یوں تیرا مسکرانا ناز اٹھانے کے قابل نہیں ہے

میں نے پوچھا کہ شب کو کہاں تھے پہلے جھنجلاۓ پھر ہنس کے بولے

آپ وہ بات کیوں پوچھتے ہیں جو بتانے کے قابل نہیں ہے

تیر تلوار تم نہ اٹھاؤ مجھ کو زحمت گوارا نہیں ہے

جانتا ہوں تمہاری کلائی بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے

لوگ چلتے ہیں کانٹوں سے بچ کر میں بچاتا ہوں پھولوں سے دامن

اسقدر کھاے ہیں میں نے دھوکے اب کسی پہ بھروسہ نہیں ہے ،

شاید شاعری کی حس قدرتی طور پہ موجود تھی اسلئے اسوقت دس بارہ سال کی عمر میں بھی ان غزلوں میں کشش محسوس ہوئی اور کچھ کلام یاد بھی رہ گیا انہی میں ایک غزل اسوقت بہت اچھی لگی تھی جس کے کچھ اشعار یاد رہ گئے بعد میں اپنی ایک خالہ ڈاکٹر تسنیم اقبال سے اس کا باقی حصہ پوچھا جو کچھ یوں تھی

جب ہجر کی راتوں میں لب پہ آہوں کے شرارے ہوتے ھیں

اس وقت رفیقِ تنہائی یہ چاند ستارے ہوتے ھیں

اس وقت گھٹا اور بجلی میں کیا کیا نہ اشارے ھوتے ھیں

جب بال بکھیرے وہ میرے بازو کے سہارے ہوتے ھیں

ہر وقت تلاوت ٹھیک نہیں فرق آئے نہ عظمت میں کہیں

رنگین جمالوں کے چہرے قرآن کے پارے ہوتے ھیں

ان سے محبت چھوٹ گئی ، کیا غم کہ جو عشرت روٹھ گئی

جن کا جہاں میں کوئی نہیں ان کے بھی گزارے ھوتے ہیں

شادی کے گیتوں کا کلچر متروک ہو چلا ہے، جب بھی بچیوں کے سامنے ڈھولکی رکھو تو وہ یا تو یو ٹیوب کھول لیتے ہیں یا پھر سپوٹیفاے سے مدد لی جاتی ہے۔نئے بچے سہرے، سہاگ اور رسمی گیتوں سے نابلد ہیں، اب ان سب چیزوں کی جگہ شادیوں میں ڈانس فلور نے لے لی ہے باقی کی کمی آڈیو وڈیو ایپ پوری کر دیتے ہیں۔

زمانے نے بدلنا ہے اور وہ بدل کر رہتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پہلے شادی بیاہ کے موقع پہ بھی زبان، شاعری، ادب اور شائستگی کا پہلو موجود تھا جو ہمارے بڑوں کے زریعے ہم تک پہنچا، ہمارے خاندان کے وہ بیشتر نحیف وجود لیکن مضبوط آوازیں اب قبر تلے جا سوئی ہیں بس انُکی یادیں باقی ہیں، اللّه انھیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ، آمین

شادی ڈھولکی اور گیت کیا کیا یادیں ساتھ اڑا لاۓ، سوچا آپ کو بھی یادوں میں شریک کیا جائے ، اگر آپ کی بھی کچھ ملتی جلتی یادیں ہوں تو ضرور کمنٹس میں شیئر کریں، شادی مبارک!

قرۃ العین صبا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *