تقریب رونمائی “موتیا کی خوشبو میپل کے رنگ “، کراچی

تمہارے شہر کا موسم بہُت سہانا لگے

میں اِک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

کراچی کا موسم بھی خوشگوار ہے اور فضا بھی سازگار ہے ایک شام چرانی تھی اور “موتیا کی خوشبو میپل کے رنگ” کے نام کرنی تھی، مگر کیسے چرائ جاے؟، ہم نے کافی ریسرچ کی اور انٹرنیٹ کھنگالا۔۔

مغرب میں “بک لانچ پارٹی” ہوتی ہے اور مشرق میں کتاب کی “تقریبِ رونمائی” یا “تقریبِ پزیرائی” دلچسپ بات یہ ہے کہ گرچہ دونوں کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے یعنی کہ سلیبرشن یا جشن لیکن دونوں جگہ طریقہ کار تھوڑا مختلف ہے ، بک لانچ پارٹی میں پارٹی کا عنصر غالب رہتا ہے، یہ آپ کے گھر، بیکیارڈ یعنی پائیں باغ یا پھر کسی بھی ہال میں منعقد کی جا سکتی ہے، ریفریشمٹ ٹیبلز سیٹ کی جاتی ہیں، کتاب اور موضوع کی مناسبت سے کلر تھیم اور سجاوٹ کی جاتی ہے، کہیں کہیں کتاب کے ٹائٹل کے کوکیز بھی بنوائے جاتے ہیں، اور اسی رنگ کی ڈرنکس کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ پارٹی کا محور صرف مصنف ہوتا ہے، وہی اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، اپنی کتاب سے کچھ پڑھ کے سناتا ہے، مہمانوں کے سوالات کا جواب دیتا ہے، کتاب خریدنے والوں کو کتاب سائن کر کے دیتا ہے اور پھر کھانے پینے کے ساتھ اپنی پارٹی کے مزے لیتا ہے ، پارٹی میں زیادہ تعداد قریبی دوست احباب کی ہوتی ہے جو دراصل حوصلہ افزائی یا خوشی منانے شریک ہوتے ہیں اور کتاب کو اپنے حلقے میں پرموٹ بھی کرتے ہیں۔

مشرق میں بنیادی طور پہ اسٹیج توجہ کا مرکز ہوتا ہے، کتاب کی تقریب رونمائی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ کچھ صاحبِ علم یا لکھنے پڑھنے والے لوگوں کو بھی مدعو کیا جائے، وہ کتاب پڑھیں اور کتاب کے مزاج اور مصنف کے حوالے سے اظہارِ خیال کریں، اس سے نا صرف تقریب میں مختلف لوگوں کی گفتگو کے رنگ اور آہنگ جمع ہوتے ہیں بلکہ آنے والوں کے لیے سیکھنے کا بھی بُہت سامان ہو جاتا ہے ۔

یہ مشرقی بک لانچ کی خوبصورتی ہے۔

مہمانوں میں عموماً کتاب سے شغف رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ آپ کے خاندان کے سب لوگوں کو کتاب سے رغبت ہو۔

مغرب کی بک لانچ پارٹی کا ایک اُصول ہمیں بہُت پسند آیا اور وہ تھا

Enjoy Your Big Day!

یعنی آپ نے سالوں محنت کر کے یہ کتاب ترتیب دی ہے تو گویا اگر یہ آپ کی پہلی کتاب ہے تو یہ تقریب آپ کے پہلے بچے کے عقیقے کی مانند ہے اور ہم تو اُن لوگوں میں سے ہیں کہ جنہیں خوشی منانے کا مناّ سا بھی موقع ملے تو اس سے بھی جشن کا ماحول بنا لیتے ہیں پھر یہ خوشی تو ہمارے دل کے بہت قریب تھی۔

کتاب کے نام سے لے کر ہمارے مزاج تک ہر چیز ہی مشرق اور مغرب کا امتزاج ہے تو یہ تقریب بھی کچھ ایسی ہی ہونا چاہیے، کچھ صاحبِ علم لوگ، کچھ صاحبِ کتاب لوگ جو اپنی قیمتی رائے کا اظہار کر سکیں، اس کے بعد ہم نے خود سے اپنے قریبی پیاروں اور بڑوں کو دعوت نامے بھیجے، کچھ کو ہمارے بڑوں نے مدعو کیا، ہم نے اپنی بچپن کی دوستوں کو اکھٹا کیا، خاندان میں کچھ اُن لوگوں کو بھی بلایا جو جو”خیال باۓ صبا” سے جُڑے ہوئے تھے، مزے کی بات یہ تھی کہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن سے عرصہ دراز سے ملنا نہیں ہوا تھا بس شوق سے ہمیں پڑھتے تھے اور تبصروں کے ذریعے حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے،

تیسرے وہ لوگ تھے جن سے صرف قلم کا رشتہ تھا، ان کے لیے بلاگ پہ اعلان کیا گیا، انہونے شرکت کی خواہش ظاہر کی اور یہ بس تحریر کی ڈور سے بندھے چلے آئے، یہ سب بے حد خاص تھے اور بہُت محبت سے آئے تھے۔

یہ سارے وہ لوگ تھے جن کے ساتھ ہم اپنی خوشی منانا چاہتے تھے۔ایک غلطی یہ ہوئی کہ اب ایک عرصہ کینیڈا میں رہتے ہوئے ہمارا دماغ بھی کچھ اسی نہج پہ چلتا ہے، مثلاً وہاں اگر ہال میں ساٹھ لوگوں کی جگہ ہوتی ہے تو لازم ہے کہ ساٹھ لوگوں کو ہی بلایا جائے، اس سے زیادہ پہ انتظامیہ اعتراض کرتی ہے اور آپ کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے اسلیے جنہیں دعوت نامہ دیا جائے وہ ضرور جواب سے مطلع فرما دیتے ہیں یعنی کنفرم کر دیتے ہیں کہ آئیں گے یا نہیں تاکہ میزبان اُن کے بجائے کسی اور کو مدعو کر لے اور جگہ اور کھانا ضائع نہ ہو، پاکستان میں

‏RSVP

نہیں ہوتا یہاں”انشاءاللہ” ہوتا ہے 😄

اور ہم جیسے لوگ اسے اقرار سمجھتے ہیں جبکہ دراصل بندہ واقعی اپنی کمٹمنٹ کو اللہ کی رضا پہ چھوڑ کر فارغ ہو جاتا ہے یعنی دیکھیں گے، شاید آ جائیں شاید نہ بھی آئیں، شاید اسی دن بتا دیں جس دن تقریب ہو کہ ہم آ رہے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آخری وقت میں پروگرام بدل دیں اور اگر کوئی کنفرم کر کے کسی عذر کی وجہ سے نہ بھی آ سکے تو بتانا بھی ضروری نہیں سمجھتا۔ ہم اس مزاج کے عادی نہیں اسلیے چونکہ سو لوگوں کا ہال تھا سو ڈرتے ڈرتے سو ہی لوگوں کا حساب رکھا، بعد میں اندازہ ہوا کہ دس بیس لوگ اور بھی بلائے جا سکتے تھے اور اگر زیادہ بھی ہو جاتے تو یہاں کون سی سیکیورٹی پوچھنے والی تھی خیر ابھی موتیا کی خوشبو والوں کو

‏RSVP

کی رسم تک آنے کے لیے کافی وقت درکار ہے بس خوشی یہ ہے کہ جو لوگ دل کے بہُت قریب تھے وہ سب بہُت محبت سے شریک ہوئے۔

نظامت کے فرائض فصیح بھائی نے انجام دیے اور کیا خوب انجام دیے، کتاب کے مختلف پہلوؤں کو چار حصوں میں تقسیم کر کے ناصرف بہُت اہم باتوں پہ حاضرین کی توجہ دلائی بلکہ اُنہیں سوالوں اور یاد دھانی کے زریعے مستقل جوڑے رکھا، وہ چار حصے تھے

کتاب اور مطالعے کی اہمیت اور ضرورت

رشتوں کی خوبصورتی

رابطہ، کمیونیکشن، اظہار یا بات کرنے کی صلاحیت

رنگ، خوشبو اور موسم

خوشی یہ ہوئی کہ حاضرین نے دلچسپی سے بات سنی اور سوالات کے جوابات بھی دیتے رہے، اس ایکٹیویٹی کا مقصد یہ تھا کہ ان چاروں موضوعات کے بارے میں حاضرین کو یاد دھانی کروائی جائے اور اگر کوئی ایک فرد بھی محفل سے ان باتوں کو ذہن نشین کر کے اٹھے تو سمجھیے محنت وصول ہو گئی، آخر میں کتاب میں کیونکہ کچھ تحریریں شخصیات کے متعلق ہیں تو اُن کے بارے میں اشارے دے کر حاضرین سے شخصیات بجھوائ گئیں اور فصیح بھائی کے ہلکے پھلکے انداز سے دلچسپ فضا قائم رہی۔

تقریب کا آغاز حافظ عبدالله بن عمیر کی تلاوت سے ہوا، ترجمہ عروہ عمیر نے پڑھا۔

اظہارِ خیال کے لیے سب سے پہلی مقررہ ہماری دوست اور “فرزین نامہ” “فرزین کہانیاں” کی مصنفہ فرزین لہرا تھیں، فرزین حال ہی میں ساس کے رشتے پہ فائز ہوئی ہیں اور بیٹی کے رشتے کی بے حد مصروفیت کے باوجود اپنی امی جی کے اصرار پر ہماری محبت میں چلی آئیں تھیں(تھینک یو امی جی), فرزین نے محبت سے اپنی رائے کا اظہار کیا اور کتاب کے کچھ اقتباسات بھی پڑھے۔

ہماری تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اقبال محسن صاحب تھے، ڈاکٹر صاحب جیولوجی کے پروفیسر ہیں، جامعہ کراچی کے ڈین فیکلٹی آف سائنس رہے ہیں، وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ہیں، لکھنے پڑھنے کے شوقین ہیں اور “اقبال نامہ” کے نام سے مضامین بھی لکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے ہمارا تعارف اپنے بڑے بھائی ضیاء الدین صاحب کے توسط سے ہوا جن سے ڈاکٹر صاحب کا تعلق ستائیس برس پرانا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم لکھنے پڑھنے والے بزرگوں سے تھوڑا ڈرتے ہیں لیکن پہلی ملاقات میں ڈاکٹر صاحب کی حلیم الطباع طبیعت نے بے حد متاثر کیا اور پھر تقریب میں ڈاکٹر صاحب کا خوبصورت بیان گویا نرم سبک ہوا کے جھونکوں کی مانند تھا، آپ نے کتاب کے نام اور سرورق سے لے کر مصنفہ یعنی ہمارے نام اور کتاب کے مضامین پہ اس قدر خوبصورتی سے تبصرہ کیا کہ محفل کو چار چاند لگا دئیے، اپنے نام کے اتنے سارے اور اتنے خوبصورت معنی کبھی ہم نے اس طرح محسوس نہیں کیے تھے، پھر کتاب ڈاکٹر صاحب نے اتنی توجہ سے پڑھی اور اس کے جملوں کو اتنی نزاکت سے اپنی گفتگو میں شامل کیا کہ اپنا لکھا ہوا بہُت معتبر محسوس ہوا اور یہی بڑوں کا بڑا پن ہوتا ہے۔ آپ کا لہجہ اتنا نفیس تھا کہ حاضرین لمحہ لمحہ ہمہ تن گوش رہے۔

تیسری مہمان “ان کہی” کی مصنفہ محترمہ غزالہ خالد صاحبہ اور ہماری غزالہ آپا تھیں ، آپ “ان کہی باے غزالہ خالد” کے نام سے بلاگ بھی لکھتی ہیں اور روزنامہ جنگ میں بھی لکھتی رہی ہیں، آپ کی شگفتہ تحریروں پہ آپ کو معروف صحافی محمود شام صاحب نے “خواتین کی ابنِ انشاء” کا بھی خطاب دیا ہے۔ غزالہ آپا نے اپنے شگفتہ انداز میں بہُت خوبصورت اظہارِ خیال کیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ کہہ کے ہماری مشکل آسان کی دی کہ ،

“میں نے کتاب منگوائی اور یہ اسلیے کہہ رہی ہوں تاکہ سب کو پتہ چل جائے کہ کتاب خرید کے منگوائی جاتی ہے ایسے ہی نہیں ملتی”

کتاب کے بارے میں نجانے کیوں ایک عام تصور یہ ہے کہ یہ مصنف بس تحفتاً ہی پیش کرتے ہیں حالانکہ سیلف پبلشنگ میں پہلے مصنف اپنے دماغ کی رگیں سکھا کر تحریریں لکھتا ہے پھر دِن رات کی محنت، مختلف لوگوں سے ڈیزائننگ، پروفریڈنگ اور چھپائی کے معاملات کے بعد اپنا سرمایہ لگا کے کتاب چھپواتا ہے، اور ان سب کے بعد جو لوگ کتاب نہیں بھی پڑھتے وہ بھی جانے کیوں یہ توقع کرتے ہیں کہ کتاب اُنہیں تحفتاً پیش کی جائے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اپنی زبان اور پڑھنے کا رجحان زندہ رکھنے والوں کی کوششوں کو کتاب خرید کے اور اس کو اپنے حلقے میں پروموٹ کر کے اپنی سپورٹ اور تعاون کا ثبوت دیا جائے خیر ۔

غزالہ آپا گھٹنے کی شدید تکلیف کا شکار ہونے کے باوجود اسٹک کے سہارے ہماری محبت میں چلی آئیں اور تقریب کے لیے شروع سے معاونت بھی کرتی رہیں اس کے لیے اُن کا بے حد شکریہ

چوتھی مہمان ہماری والدہ اور “جگ بیتی کی مصنفہ ثریا خاتون صاحبہ تھیں اور آج اُن کا چہرہ خوشی اور مسرت سے تمتما رہا تھا کیونکہ ایک عرصے بعد ماشااللہ اُن کے گلشن کے سارے پھول ایک جگہ جمع ہوئے تھے، خوشی کے لمحات آدمی میں عجیب قسم کی توانائی بھر دیتے ہیں، ہم نے کوشش کی کہ آپ کو مائک سیٹ پہ ہی دے دیا جائے لیکن وہ بضد تھیں کہ میں بغیر سہارے کھڑے ہو کر پوڈیم پہ ہی بولوں گی۔ اُن کے بیان میں بیٹی کے ساتھ ساتھ داماد صاحب کا ذکر بھی عروج پہ رہا اور یقیناً داماد صاحب بھی لائیو دیکھ کر بے حد مسرور ہوں گے۔

پانچویں مہمان نیشنل اکیڈمی آف پرفامنگ آرٹس کے روحِ رواں جنید زبیری صاحب تھے جو قیمتی وقت نکال کے شریک ہوے اور اپنا پیغام بھی ریکارڈ کروایا۔

پھر فدویہ نے اظہارِ تشکر کیا اور تمام فیملی ممبرز، دوستوں، مہمانوں اور انتظامی ٹیم کا فرداً فرداً شکریہ ادا کرنے کے بعد کتابوں پہ اپنی ایک نظم سنائی اور اختتام کیا۔

آخر میں ڈاکٹر صاحب کو ایک بار بھی دعوت دی گئی اور انہوں نے مقررین کے خیالات کا احاطہ کیے گفتگو کو سمیٹا۔

مجموعی طور پہ تقریب بے حد خوبصورت اور یادگار رہی، صاحب اور بچوں کی کمی محسوس ہوئی لیکن انشاء اللّٰہ وہ کینیڈا میں ہونے والے بک لانچ پارٹی میں ساتھ ہوں گے ۔

مہمان بہُت محبت سے آئے اور اُن کی محبت کے ساتھ ساتھ اُن کے لائے ہوئے خوبصورت اور قیمتی تحفوں نے بھی ہمیں شرمندہ کر دیا، ایک مصنف کو کتاب کے حوالے سے پذیرائی مل جائے وہی کافی ہے اس پہ یوں تحائف کا تکلف، بس آپ سب کا شکریہ ہی ادا کیا جا سکتا ہے سو ڈھیر سارا شکریہ اور بہُت ساری دعائیں۔

محبت کے ساتھ

خوش رہیں

خیال رکھیں!

قرۃالعین صبا

Check Album for more photos

https://www.facebook.com/media/set/?set=a.814288037374281&type=3&mibextid=WC7FNe&rdid=gPHeZcRTqA3qEYrg&share_url=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fshare%2FuxVy6NSdTzVSKC7f%2F%3Fmibextid%3DWC7FNe

#موتیا_کی_خوشبو_میپل_کے_رنگ

#mkkmkr

#khayalbysaba

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *