عید گزر گئی، کل بیٹی سے بات ہو رہی تھی، ہم نے کہا کتنا خالی خالی لگ رہا ہے رمضان اور عید کے بعد جیسے سارے کام ختم ہو گئے ہیں کچھ کرنے کو نہیں بچا، کہنے لگیں
Amma! I hate post Eid Depression and Post Shadi depression
اوہ تو یہ بھی کچھ ہوتا ہے، ہم نے سوچا، اصل میں ہوتا تو واقعی ہے لیکن شاید ہمیں ان احساسات کے ایسے فینسی نام نہیں آتے تھے بلکہ بہت کچھ ہمارے ساتھ ہو جاتا تھا لیکن کیونکہ ہمیں ان چیزوں کے نام نہیں آتے تھے اسلئے ہم انہیں کچھ ہونا سمجھتے ہی نہیں تھے جیسے Emotional abuse
Bullying
وغیرہ وغیرہ اور سچ تو یہ ہے کہ آج بھی اگر اپنے مشرقی معاشرے میں کوئی اردومیں بھی کہے کہ میں عید کے بعد ہونے والی افسردگی ، پس روی یا حزن و ملال کا شکار ہوں تو اسکی طرف شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا کہ او بھائی ، دماغ تو ٹھیک ہے؟ زیادہ چونچلے بازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے جاوٴ اپنا کام کرو۔۔ بہر حال اپنے احساسات کو پہچانے یا انھیں نام دیں یا نہ دیں وہ موجود تو ہوتے ہی ہیں ۔
رمضان میں جو رونق اور بھاگ دوڑ کا روٹین رہتا ہے، سحری، افطاری کے اہتمام، نماز، تراویح کی دوڑ قیام اور دیگر معمولات بے حد مصروف اور تھکا دینے والے ہوتے ہیں پھر عید کی رونق، ملنا ملانا، پکوان اور اس کے بعد جب سب کچھ پرانے روٹین میں واپس آتا ہے تو کافی کمی محسوس ہوتی ہے، بقول بیٹی کہ
Sense of purpose
نہیں فیل ہو رہا، آسان سی بات یہ ہے کہ وہ سب کچھ صرف رمضان کے لئے نہیں ہوتا لیکن رمضان کی برکتوں کی وجہ سے بہت سے کام کرنے آسان ہو جاتے ہیں جن پہ عام دنوں میں قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے اور اسی مقصدیت پہ خود کو قائم رکھنا اصل امتحان ہے۔
گھر میں کوئی شادی ہو تو رونق اور تقریبات کے ہنگامے اور مہمانوں کے جانے کے بعد بھی گھر میں ایسی ہی اداسی اور افسردگی سرایت کر جاتی ہے اور اگر گھر سے بیٹی رخصت ہو تو اس میں کئی دنوں کے لئے مزید اضافہ ہو جاتا ہے، یہ پوسٹ شادی ڈیپریشن ہے اور ایسی دھوپ چھاوُں تو زندگی سے جڑی ہے۔
مغرب میں عیدیں چھٹیوں کے مطابق چلتی ہیں، عید اس بار ورکنگ ڈے میں پڑی تو سب نے ایک دن کی چھٹی لی اور اگلے دن اسکول اور کاموں کو سدھارے، ایسی باسی عید کا پاکستان سے قطعاً مقابلہ نہیں کیا جا سکتا، لیکن پھر آنے والے دو تین ویک اینڈز تک یہاں عید کی دعوتیں چلتی رہتی ہیں اسے یہاں کی روایت کہہ لیں یا انداز لیکن اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ خوشی دیر تک قائم رہتی ہیں۔
ہر عید پہ کافی پوسٹیں نظر سے گزرتی ہیں جس میں خواتین یہ شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ عید بالکل بے مزہ ہے،یہاں گھر پہ بچوں کے ساتھ کیا کریں وغیرہ وغیرہ، ہمیں لگتا ہے کہ اپنی خوشیاں خود کشید کرنے کے لئے بھی تھوڑی محنت کرنی پڑتی ہے، اگر آپ کا پردیس میں کوئی رشتہ دار نہیں یا ایک دو گھر ہیں تو ظاہر ہے پاکستان کی طرح آپ کے پاس بہت آپشن نہیں لیکن بات یہ ہے کہ اس بات کا انتظار کیوں کہ کوئی آپ کو مہمان بناۓ؟ اپنے اور اپنے بچوں کی عید میں رنگ بھرنے کے لئے اور اچھا وقت گزارنے کے لیے خود سے پروگرام ترتیب دیں، حلقہ احباب وسیع ہے تو اپنے گھر پہ ون ڈش پارٹی رکھ لیجئے، اگر ایسا نہیں چاہتے تو بہت زیادہ اہتمامُ نہ کریں ایک دو کھانے بنا کے دوستوں کو بلا لیجئے، کچھ لوگوں کو یہ دھڑکا بھی رہتا ہے کہ سادہ یا مناسب اہتمام کریں گے تو لوگ باتیں نہ بنائیں تو کسی کو نہ ہی بلاو تو اس سے تو مرتے دم تک گلو خلاصی ممکن نہیں، آپ دس اچھی چیزیں بھی پکائیں گے تو بھی کوئی نہ کوئی آواز تنقید بھری سننے کو مل ہی جاۓ گی، کوئ میٹھے کی بابت اپنی پسند نا پسند کا اظہار کر دے گا کوئی کہے گا ڈنر پہ برنچ کا مینیو لگ رہا ہے الغرض دوسروں کے رویوں کی زمہ داری ہماری نہیں ہوتی نہ انھیں سمجھایا جا سکتا ہے اس لیے اس کا کچھ نہیں کیا جا سکتا ہاں بس یہ ہے کہ ایسے لوگ اگر دوستوں میں ہیں تو اگلے موقعوں کے لیے ان سے فاصلہ اختیار کریں اور رشتہ داروں میں ہیں تو نظر انداز کریں بس اہم یہ ہے کہ آپ نے اپنے اور اپنے بچوں کی خوشی اور عید کا احساس منانے کے لیے کیا کیا اور کیسی یادیں اپنے البم میں محفوظ کیں۔
کیا آپ بھی آج کل میری طرح پوسٹ عید ڈپریشن یا عید کے بعد کی افسردگی اور حزن و ملال کا شکار ہیں ؟ ضرور بتائیے گا 🙂
قرۃ العین صباؔ
#eid2024
#posteiddepression
#khayalbysaba

