عورت کی ترقی کی راہ میں کیا حائل ہے؟
کچھ دن قبل ہماری ایک لاہوری دوست نے ہماری بریانی کا طریقہ کار پوچھنے کے لیے فون کیا، ہم دو دن پہلے ہی ملے تھے تو ذکر ہوا تھا ، سب ہی جانتے ہیں کہ جہاں کراچی والے بریانی کے دیوانے ہوتے ہیں وہاں پنجاب میں اب تک مستند بریانی نہ ملنے پہ اکثر بحث رہتی ہے اور پلاؤ کا راج ہے، سو اس دن انہونے خاص طور پہ فون کیا کہ میں بریانی پکا رہی ہوں آپ سٹیپ بتایں، جمعہ کا دن تھا اور نماز کا وقت ہونے والا تھا تو صاحب بھی آس پاس ہی اپنی تیاریوں میں مشغول تھے ، پھر ہوا کچھ یوں کہ ادھر ہم انھیں ترکیب بتاتے رہے کہ یوں گوشت بھونیں، آلو بخارے ڈالیں، اب ہرے مصالحے کی تہہ لگایں وغیرہ وغیرہ ادھر گھر والوں کے کانوں میں پڑنے والی آوازوں نے پوری طرح بریانی کا سماں باندھ دیا، جتنی دیر میں فون رکھا یہ عندیہ ملا کہ اب تو آپ کو بھی بریانی پکانی پڑے گی ، اگرچے ارادہ نہیں تھا لیکن یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے “ بریانی پک گئی اور پھر ماشاءالله دن بھر کھائی گئی اور جھوٹ کیوں کہیں ہمیں یہ شوق خود بھی بہت اچھا لگا۔
کچھ دن پہلے رمضان کی بات ہے کہ ایک دن سب کی فرمائش آئ کہ کچھ افطاری نہ بنایں بس بریانی پکا دیں، ہمارا خیال تھا کہ روزے کی وجہ سے سب کا دل چاہ رہا ہے ورنہ افطاری میں کھانا کھانے کی عادت نہیں ہے اسلئے بریانی کسی سے زیادہ نہیں کھائی جائے گی لیکن ماشاءالله جتنی شوق اور محبت سے بیسٹ بریانی ” کہہ کہہ کے ڈھیروں تعریفیں کر کر کے کھائی گئی اس سے ہمیں اتنی ہمت ملی کہ اگلے ہفتے ہمیں فیملی کی دعوت کرنی تھی اور ارادہ تھا کہ بریانی آرڈر کر دیں گے لیکن پھر یہ ہوا کہ خود ہی پکالیں گے، گھر والوں نے مدد کا وعدہ کیا اور یوں ہم نے منی دیگ پکائی اور الحمداللہ اچھی پک بھی گئی ۔ ہمارا چھوٹا بیٹا جب ہماری پکائی ہوئی نہاری کو چسکے لےُلے کھا رہا ہوتا ہے اور اس کے لئے کہیں اور کی نہاری کی اچھائی کا پیمانہ بھی یہی ہے کہ “یہ تو بالکل اماں جیسی ہے” تو بے اختیار ایک خوشی کی لہر اندر تک سرایئت کر جاتی ہے۔
جب آپ کا پکایا ہوا کھانا آپ کے پیارے شوق محبت اور ڈھیروں تعریفوں کے ساتھ کھاتے ہیں اور ساتھ ساتھ آپ کے مددگار بھی ہوتے ہیں تو اس سے پیاری بات اور کوئی نہیں لگتی اور خاتون ایک نئی انرجی کے ساتھ دس بار وہی کھانا پکانے کو تیار بھی ہو جاتی ہیں ، مسائل جب شروع ہوتے ہیں جب موقع، محل اور حالات دیکھے بنا کھانے کی ذمےداری کو کسی پہ عذاب بنا کے مسلط کر دیا جائے اور ناک بھوں چڑھا کے شکایتیں اور نقائص نکالے جایں اور بے جا توقعات کا بوجھ ڈالا جائے اور پھر یہ توقع بھی کی جائے کہ وہ زندگی کے باقی امور، جاب، بچے رشتہ داریاں کیریر سب کچھ پرفیکٹ طریقہ سے سر انجام دے تو بھئ یہ تو ناممکن ہے۔
ایک جاننے والی یہیں رہتی ہیں، پڑھی لکھی اور سلیقہ شعار خاتون ہیں بچے بھی بڑے ہو گئے تھے اپنی ذات کی خوشی کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھیں لیکن گھر میں کھانے کا یہ عالم تھا کہ دوپہر کا کھانا شام کو نہیں کھایا جائے گا سو ناشتے کے علاوہ دو وقت گھر میں تازہ کھانا پکتا تھا اور پھر شام کی چاۓپہ الگ اہتمام ضروری تھا تو کبھی حلوہ بھون رہی ہوتیں تو کبھی گھر کا پزا بنا رہی ہوتیں پھر ظاہر ہے روٹی وغیرہ پکانا، کھانے کے بعد کی چاۓ الگ تو دن کا بیشتر حصہ کچن میں ہی نکل جاتا، یہاں کوئی ماسی مددگار کا تو سلسلہ ہی نہیں تو گھر اور باتھ رومز کی صفائیاں اور ڈھیروں کام، کیریئر اورینٹڈ نہیں تھیں اور ان وقتوں کی تھیں جب عورت کی “اصل” زندگی یہی سمجھی جاتی ہے اور مرد گھر کا کام کرتے اچھے نہیں لگتے تو یونہی گزر گئی، کچھ ہٹ کے کرنا بھی چاہتی تھیں سلائ اور ڈیڑائننگ کا بھی شوق تھا لیکن کچھ نہ ہو سکا۔
پھر ایک اور پڑوسن ملی، پروفیشنل ڈاکٹر تھی لیکن کینیڈا آ کے پڑھائی اپ ڈیٹ نہیں ہو سکی، بچوں کی مصروفیت بڑھ گئی یہ ہماری ہم عمر تھی کیریر بنانے کے لئے پڑھائی بھی کی تھی، گھریلو معاملات میں بھی اچھی تھی لیکن اکثر سخت جھنجلائی رہتی کہ میاں اٹھ کر پانی کا گلاس تک نہیں رکھتے، ایک دن بڑے مزے سے کہنے لگی کہ اوپر کمرے میں گئی تو میاں نے چاۓ کے ڈھیروں کپ جمع کیے ہوۓ تھے، جل کے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کیا یہاں یوں جمع کرنے سے یہ کپ مزید انڈے بچے دینا شروع کر دیں گے؟ ہم ہنس پڑے، آخری خبریں آنے تک کچھ نہیں بدلا تھا۔
پھر ایک انسٹیٹوٹ میں پڑھانا شروع کیا تو ایک پیاری سی لڑکی سے ملاقات ہوئی کمپیوٹر میں ڈگری کی ہوئی تھی اسلام آباد سے نئے نئے آۓ تھے، اس کا گھر ہمارے راستے میں پڑتا تھا تو ہم اکثر پک اینڈ ڈراپ کر دیا کرتے تھے، جب بھی گاڑی میں آ کے بیٹھتی گاڑی انواع اقسام کے کھانوں سے مہک جاتی، یہاں رہنے والے جانتے ہیں کہ گھر بند ہونے کی وجہ سے کیسے دیسی مصالحوں کی بو کپڑوں میں بس جاتی ہے اور ساتھ بیٹھنے والا اگر اپنا ہو تو بآسانی بتا سکتا ہے کہ آج گھر میں قورمہ بنا تھا یا پلاؤ ، اکثر کپڑے بدل بھی لئے جایں تو بھی خوشبو گھر میں اتنی بس چکی ہوتی ہے کہ آسانی سے نہیں جاتی ، تھوڑی بے تکلفی ہوئی تو یہ راز بھی کھل گیا ، یہاں بھی شوہر نامدار بیگم کے کیریئر سے بے نیاز دونوں وقت نیااور تازہ کھانا اور گرما گرم پھلکے کھانے کے عادی تھے اور ساتھ ہی کمبینیشن اور لوازمات کا بھی اہتمام ضروری تھا ، کلاس شام کو ہوتی تھی اور رات نو بجے تک واپسی ہوتی تھی تو شنید ہے کہ شام کے لئے تازہ کھانا پکا کے آتی تھی اور روٹی کبھی پکا کے آتی تو کبھی جا کے پکاتی، یہاں بھی میاں کو نہ کام کرنے کی عادت تھی نہ ہی کوشش کرتے تھے۔
یہ سب باتیں کینیڈا کی ہیں اور ایسی ہزاروں کہانیاں موجود ہیں، پاکستان میں جہاں جوائنٹ فیملی سسٹم ہیں اور بڑے کنبے آباد ہیں وہاں روزانہ اپنی باری پہ دو وقت ہانڈی کے ساتھ چالیس پچاس روٹیاں پکنا ایک معمول کی بات ہے پھر اگر خاندان در خاندان ایک گھر میں آباد ہوں تو سب کے مزاج، مختلف ذائقوں اور کبھی لبھی مقابلے بازی میں بھی ایک جنگ سی چھڑی رہتی ہے جس کی چکی میں عورت کی باقی ماندہ قابلیت، ڈگری، شعور اور اسکلز کا سفوف ہی بن جاتا ہے اور اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ وہ باورچی خانے سے ہٹ کر کیا ہے؟،
مزے کی بات یہ ہے کہ چاہے دادی نانی کے زمانے کی خاتون ہوں جب خواتین کے پڑھنے کا رواج نہیں تھا اور وہ رسوئی اور گھر تک محدود تھیں، یا پھر کچھ آگے کے زمانے کی خاتون ہوں جب واجبی تعلیم تھی لیکن دنیا گھر تک ہی محدود تھی، یا پھر ہماری نسل کی خواتین ہوں جب پروفیشنل ایجوکیشن تو تھی لیکن بیشتر نے کیریر کو دوسری ترجیح رکھا یا پھر آج کی لڑکیاں ہوں جو یہ بات سمجھتی ہیں کہ جس جہت کو انھونے زندگی کے سولہ سال دیے ہیں انھیں وہاں وہ اپنی قسمت کا تارا بھی چمکا سکتی ہیں اور گھر کے کاموں کے لئے کسی کی مدد بھی لے سکتی ہیں،ان سب خواتین کو پرکھنے کے لئے ہمارے معاشرے کا پیمانہ آج بھی ایک ہی ہے اور وہ ہے گول روٹی، اس کا ڈائمیٹر اور ریڈییس، اس کی موٹائی اور نرمی، سالنوں کی صحیح بھنائی، چاولوں کا ٹیکسچر باقی عورت کتنی قابل ہے، کیا کیا کر سکتی ہے، ہنرمند ہے، کچھ ہٹ کے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا کچھ اپنی ذات اور خوشی کے لئے کرنا چاہتی ہے جس سے گھر اور خاندان میں بھی مثبت تبدیلی لائ جا سکتی ہے یہ سب باتیں آج بھی معاشرے کے لئے بے معنی ہیں اور یہی وہ سوچ ہے جو خواتین کی ترقی کی راہ میں حائل ہے۔
کھانا ایک نعمت، ایک اسکل بھی ہے، زندگی کی ضرورت ہے، سب کو آنا چاہیے،کچھ کو یہ کام مشکل لگتا ہے لیکن بیشتر خواتین کے لیے شوق اور محبت سے پکانا ایک تھراپی ہے بشرط یہ کہ آپ ان کے مددگار بنیں اور اس کو ان کے لئے بے جا ضدوں اور تکلیف دہ عادات سے اذیت نہ بنایئں، اور یہ بات فریقین کے لئے فقط کھانے پکانے تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر معاملے اور کام پہ صادق آتی ہے۔
عورت کی ترقی کی راہ میں کچن نہیں بلکہ سوچ اور زندگیوں میں توازن کا نہ ہونا حائل ہے۔
قرۃالعین صبا
#khayalbysaba


