ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کی گئی بات نہیں سنی گئی
سوچنے، سمجھنے اور پھر ان سوچوں کا عکس تحریر میں اتارنے والے جب کوئی چھوٹی سی بات بھی کہتے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی تجربہ یا مشاہدہ ضرور ہوتا ہے۔
اس شعر کے تناظر میں بھی ایک بڑا مشاہدہ ہے جو بہت نازک عمر میں بہت سی چیزوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد میسر آیا، ہماری نسل ایک کنفیوژ معاشرےمیں پروان چڑھی ہے، اس نسل کے کتنے ہی ایسے سوالات تھے جو ذہن میں حشر بپا کرتے تھے لیکن انھیں پوچھنے سے پہلے ہی دبا دیا جاتا تھا کہ بری بات ایسی باتیں نہیں کرتے۔
مسجد، مدرسہ سے منسلک لوگوں کی اپنی دنیا ہوتی ہے، ان سے عقیدت رکھنے والوں کے اپنے بت خانے جہاں عقیدے سے زیادہ عقیدت حاوی رہتی ہے۔ اسی طرح ہمارے اطراف بھی بہت سارے لوگ ہوتے ہیں جن کو ایک مذہبی امپریشن رکھنے کی وجہ سے اونچے مقام پہ بٹھا دیا جاتا ہے لیکن پھر ان کے کسی بھی فعل پہ سوال اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
اچھے برے لوگ ہر جگہ پاۓ جاتے ہیں لیکن مسئلہ جب ہوتا ہے جب عقیدت اس قدر بڑھ جاۓ کہ کچھ برا یا غلط نظر ہی نہ آۓ اور سوال اٹھانے کی بھی اجازت نہ ہو ۔
ٹین ایج کی یاد ہے کہ ایک مدرسے کی باجی تھیں اور ان کے بہت سارے معتقد ایک دن گفتگو میں بتانے لگیں کہ دیکھو آج کل کی لڑکیاں کیسے کیسے سوال کرتی ہیں، میں نے کہا کہ کالج یونیورسٹی کی پڑھائی چھوڑو مدرسے کی پڑھائی اصل پڑھائی ہے تو مجھ سے پوچھنے لگیں کہ اچھا آپ یہ بتائیے کہ اس کے بعد آگے ہمارا اسکوپ کیا ہوگا، میں نے کہا بھئی یہ ہی ہو سکتا ہوگا کہ تم پڑھو اور پھر آگے پڑھانا شروع کر دو، اب بتائیں یہ کوئی بات ہے؟ باقی ساری معتقد خواتین “زمانہ خراب ہے” اور “یہ آج کل کی لڑکیاں” قسم کے تاثرات کے ساتھ تاسف سے سر ہلانے لگیں کہ دیکھو زرا یہ بھی کوئی سوال ہے، ادھر ہمارا کچا ذہن سوچے جاۓ کہ اس عام سے سوال میں ایسی بھی کیا بات ہے لیکن جب آپ ایک جیسی سوچ والے مجمع میں ہوں اور عمر بھی کم ہو تو سوال در سوال تو سراسر بد تمیزی میں شمار ہوتے ہیں۔۔
کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ باجی اپنے بیٹے کے لئے ایڈورٹایزنگ کی فیلڈ میں جاب ڈھونڈ رہی ہیں اور موقف یہ ہے کہ جب ہمارے لوگ ایسی فیلڈ میں آئیں گے تو چیزیں بدلیں گی، بیٹے کا اسکوپ اچھا تھا۔
اسی طرح ایک بار ہر تفریح پہ تنقید ہو رہی تھی، کرکٹ میچ دیکھنا بھی حرام ٹھہرا ، ہم نے تازہ تازہ سنا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حبشیوں کا کھیل دکھایا کرتے تھے، سوال کیا تو پھر وہی چپ کرو کیا کیا لے کر آتی ہو۔ اور ہم سوچتے رہ گئے کہ کہاں حبشیوں کا لائیو کھیل کہاں یہ ٹی وی پہ کرکٹ میچ لیکن سوال کی اجازت نہیں تھی اور جواب تو تھا ہی نہیں۔
ایک بہت محترم بزرگ جوڑا تھا، متمول اور مذہبی لوگ تھے لیکن ان کے ہاں چھوٹے بچوں کو کام کرتا دیکھ کر اور پھر ان بچوں کے ساتھ ان کا سخت سلوک روا دیکھ کر بڑا تضاد محسوس ہوتا تھا لیکن اس پہ بات کرنے کا کبھی موقع ہی نہیں آیا کہ یہ تو بے ادبی ہے اور ان کا مقام ہمیشہ یونہی قائم رہا۔
ہمیشہ سنا کہ بینک کی کمائی سود پہ مبنی اور ناجائز ہے لیکن بہت قریب سے دیکھا کہ بینک کے دو بہت اعلیٰ عہدوں پہ فائز لوگ ایک مفتی صاحب کے بے حد قریب ہیں اور گاہے بگاہے مسجد اور مدرسے کے لیے ڈونیشن بھی دیتے رہتے ہیں، اب یہ کیا بات ہوئی، دماغ میں پھر کیڑا کلبلایا، کیا اس طرح یہ پیسہ حلال ہو جاتا ہے؟ تو باقی لوگوں کے لئے کیسے حرام ہے ، بس سوال سوال ہی رہ گیا۔
ایسے ہی ایک تیرہ چودہ سال کی بچی کو دیکھا کہ پاکستان انڈیا سے ورلڈ کپ کا میچ کیا ہارا کہ دل برداشتہ ہو کے بپھر گئی کہ بھئی ہم تو مسلمان ہیں پھر اللہ نے ان بت پرستوں کو کیوں جتوایا، شٹاخ سے ایک جھانپڑ رسید کیا گیا کہ کیا کفرانا باتیں ہیں، بچی حق دق چپ کی چپ رہ گئی ہم بھی پیچ و تاب کھا کے رہ گئے کہ خود بچے تھے، اب سوچو تو جیسے چھوٹے بچوں کے پاس چھوٹے چھوٹے بےشمار سوالات ہوتے ہیں جیسے “کیا چڑیاں اسکول جاتی ہیں؟”، “اللہ میاں کیسے دکھتے ہیں؟” “لوگ کیوں مرتے ہیں” “ بارش کیسے ہوتی ہے؟” وغیرہ وغیرہ اسی طرح ٹین ایج یا پچیس سال تک بھی جب تک دماغ پوری طرح ڈیولپ نہیں ہو جاتا اس عمر میں اپنے ہی جسم سے لڑتے ہارمون اور کیمکلز اور دین، دینا کو سمجھتے پرکھتے بچوں کے پاس ڈھیروں سوالات اور تحفظات ہوتے ہیں جن کو شٹ اپ کال دے دی جاۓ تو یا تو وہ بغاوت پہ اتر آتے ہیں یا پھر گھٹن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اب تو شکر ہے کہ والدین اور بڑوں کو یہ سمجھ آ رہی ہے کہ بچوں کے سوالوں کے جواب علم اور لاجک سے دینا بہت ضروری ہے اور جن سوالوں کا جواب نہ سوجھے اسے انا کا مسئلہ اور ضد بنانے کے بجاۓ ان سے فی الوقت معذرت کر کے مل کے تحقیق کرنے اور ان کا جواب ڈھونڈنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ اپنی کم علمی کو اپنی ایگو اور انا تلے چھپانے کا رواج کم ہو گیا ہے۔
علماء حضرات کا مرتبہ بہت بلند ہوتا ہے لیکن ان ہی میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے سوال کرنا ہی بے ادبی میں آتا ہے، اب یہ بدلاؤ خوش آئند ہے کہ موجودہ دور کے بہت سے دین کا علم رکھنے والے لوگ آج کی نسل سے اس حد تک رابطہ استوار کر رہے ہیں کہ وہ ان کے مسائل سمجھتے ہوۓ ان سے بات کر سکیں، ہر زمانے میں نئی چیزیں نئے مسائل ہوتے ہیں، ایسے میں صرف نصیحتیں کام نہیں آتیں، ہر طرح کا سوال کرنے کی اجازت ہونا اور جواب دینے والوں میں تدبر ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ ذہن سازی کرنے سے پہلے یہ تو سمجھا جا سکے کہ ذہنوں میں چل کیا رہا ہے، شٹ اپ کال یا بری بات کہہ کے چپ کرانے کے بجاۓ علم، تحقیق اور جستجو کا دروازہ کھولا جا سکے اور نرم جوئی سے بات کی جا سکے کہ ہم جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں وہ تو عرب بدوؤں کے جاہلانہ سوالات کا جواب بھی اخلاق اور خندہ پیشانی سے دیا کرتے تھے۔
قرۃالعین صباؔ