ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تکبات نہیں کی گئی بات نہیں سنی گئی سوچنے، سمجھنے اور پھر ان سوچوں کا عکس تحریر میں اتارنے والے […]
New Life Isn’t Easy
KMKT: To all new couples stepping into a new life! I wish I could sit down with Sharjeena and Mustafa and reassure them that everything they are experiencing is normal […]
مور بلیندا- نیلم احمد بشیر
کل نیلم احمد بشیر صاحبہ کی کتاب “مور بلیندا” کی تقریب رونمائی میں شرکت کا موقع ملا اور کتاب کے ساتھ ساتھ مشرق اور مغرب میں لکھنے پڑھنے کے ماحول، […]
بچوں کی تربیت
تایا کے ہاں گئے تھے، کون کون آیا ہوا تھا؟ کیا باتیں ہوئیں؟تائی کچھ کہہ رہی تھیں کیا ہمارے بارے میں؟ چچا کے ہاں گئے تھے؟ چچی کیا کر رہی […]
عورت کی ترقی کی راہ میں کیا حائل ہے؟
کچھ دن قبل ہماری ایک لاہوری دوست نے ہماری بریانی کا طریقہ کار پوچھنے کے لیے فون کیا، ہم دو دن پہلے ہی ملے تھے تو ذکر ہوا تھا ، سب ہی جانتے ہیں کہ جہاں کراچی والے بریانی کے دیوانے ہوتے ہیں وہاں پنجاب میں اب تک مستند بریانی نہ ملنے پہ اکثر بحث رہتی ہے اور پلاؤ کا راج ہے، سو اس دن انہونے خاص طور پہ فون کیا کہ میں بریانی پکا رہی ہوں آپ سٹیپ بتایں، جمعہ کا دن تھا اور نماز کا وقت ہونے والا تھا تو صاحب بھی آس پاس ہی اپنی تیاریوں میں مشغول تھے ، پھر ہوا کچھ یوں کہ ادھر ہم انھیں ترکیب بتاتے رہے کہ یوں گوشت بھونیں، آلو بخارے ڈالیں، اب ہرے مصالحے کی تہہ لگایں وغیرہ وغیرہ ادھر گھر والوں کے کانوں میں پڑنے والی آوازوں نے پوری طرح بریانی کا سماں باندھ دیا، جتنی دیر میں فون رکھا یہ عندیہ ملا کہ اب تو آپ کو بھی بریانی پکانی پڑے گی ، اگرچے ارادہ نہیں تھا لیکن یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے ” بریانی پک گئی اور پھر ماشاءالله دن بھر کھائی گئی اور جھوٹ کیوں کہیں ہمیں یہ شوق خود بھی بہت اچھا لگا۔
کیا تماشہ ہے کب سے جاری ہے
ہم اسکول میں پڑھتے تھے شائد چھٹی ساتویں جماعت کی بات ہوگی، گلشن اقبال کی ایک بلڈنگ میں رہتے تھے ، ایک فلور پہ چار اپارٹمنٹ تھے برابر میں جنّت آنٹی اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں ہسپتال میں کام کرتی تھیں ، ان کے سامنے والا گھر شریف صاحب کا تھا، یہ پشاور کے بھلے لوگ تھے ، فلور کا چوتھا گھر اس لحاظ سے منفرد تھا کہ یہاں آنے والے کرایے دار اپنے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی چھوڑ جاتے تھے، پہلے یہاں ایک صحافی آنٹی اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں پھر یہاں انسپکٹر صاحب کا خاندان آ کے آباد ہو گیا ، یہ رینجرز میں انسپکٹر تھے ، شفقت آنٹی ان کی بیگم تھیں اور ان کا تعلق پنجاب کے کسی گاؤں سے تھا ، ان کو ایک بیڈ مین بھی ملا ہوا تھا ، گھر اور باہر کے کاموں کی ذمہ داری اسی کی تھی، شفقت آنٹی کا ایک بیٹا تھا پھر دو سال بعد ایک اور بیٹا بھی وہیں پیدا ہوا ۔