Trigger warning!
کیا تماشہ ہے کب سے جاری ہے!
ہم اسکول میں پڑھتے تھے شائد چھٹی ساتویں جماعت کی بات ہوگی، گلشن اقبال کی ایک بلڈنگ میں رہتے تھے ، ایک فلور پہ چار اپارٹمنٹ تھے برابر میں جنّت آنٹی اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں ہسپتال میں کام کرتی تھیں ، ان کے سامنے والا گھر شریف صاحب کا تھا، یہ پشاور کے بھلے لوگ تھے ، فلور کا چوتھا گھر اس لحاظ سے منفرد تھا کہ یہاں آنے والے کرایے دار اپنے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی چھوڑ جاتے تھے، پہلے یہاں ایک صحافی آنٹی اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں پھر یہاں انسپکٹر صاحب کا خاندان آ کے آباد ہو گیا ، یہ رینجرز میں انسپکٹر تھے ، شفقت آنٹی ان کی بیگم تھیں اور ان کا تعلق پنجاب کے کسی گاؤں سے تھا ، ان کو ایک بیڈ مین بھی ملا ہوا تھا ، گھر اور باہر کے کاموں کی ذمہ داری اسی کی تھی، شفقت آنٹی کا ایک بیٹا تھا پھر دو سال بعد ایک اور بیٹا بھی وہیں پیدا ہوا ۔
کچھ عرصے بعد ہی اس گھرانے کی ریپوٹیشن کے بارے میں محلے میں چہ منگوئیاں ہونا شروع ہو گیئں، انسپکٹر صاحب جلال میں آتے تو گھر سے خوب آوازیں آتیں، باورچی خانے کی کھڑکی ملی ہوئی تھی، گالم گلوچ کی آوازیں بھی پتہ چلتیں، جلال زیادہ ہو جاتا تو نوبت مار پیٹ تک بھی پہنچ جاتی, بات یہاں پہ ختم نہیں تھی ، ان کا محلے کے ہی ایک گھر میں کچھ نامناسب سا آنا جانا بھی تھا، شفقت آنٹی سے بھی پتہ چلتا رہتا باقی سب لوگ بھی جانتے تھے لیکن لحیم شحیم سے رینجرز کی وردی والے انسپکٹر صاحب، وردی میں اڑسی ہوئ ریوالور اور ان کو لیجانے لانے کے لئے ہمہ وقت ہتیھیاروں سے لیس رنگروٹوں سے بھری موبائل کے سامنے بھلا کس کی آواز نکلنی تھی، ہاں انسپکٹر صاحب آتے جاتے ہم بچوں سے جب بھی ملتے بے حد گرم جوشی اور خوش اخلاقی سے ملتے اور حال چال پوچھتے اور ہم سوچ میں پڑ جاتے کہ یہ وہی شفقت آنٹی والے انسپکٹر صاحب ہیں؟
اب سوچو تو خیال آتا ہے کہ کم عمری میں ہی قدرت نے کیسے کیسے مشاہدات سے گزروا دیا تھا۔
ہمیں شفقت آنٹی بلکل بھی اچھی نہیں لگتی تھیں، حالانکہ معصوم سی تھیں اور مظلوم بھی، لیکن شاید بچپن سے ہی ہماری ذہنیت کچھ مختلف تھی ، ہمیں “جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا ” اور ہمہ وقت اپنے حالات کا رونا رونے والے لوگ کبھی بھی اچھے نہیں لگے ،وہ اکثر امی کے پاس اپنے درد و غم کہنے چلی آتیں، جب گاؤں سے ان کی ساس اور نند رہنے آ جاتیں تو انسپکٹر صاحب کا جلال اور شفقت آنٹی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا۔
کبھی کبھی اپنے بنائے ہوئے کھانے بھی یا گاؤں سے آئ کوئی سبزی بھی پکا کے بھیجتیں لیکن ہمارے گھر کا ذائقہ بہت مختلف تھا یوں بھی ایسی عمروں میں سبزیوں سے رغبت کسے ہوتی ہے، ایک بار بہت پیار سے “چھلیاں” بھی لے کر آیئں یہ ابلے ہوے بھٹے تھے، کراچی میں تو ہمیشہ سے بھنے ہوے بھٹے ملتے ہیں، ابلے ہوئے بھٹّوں کا ٹیسٹ تو کے ایف سی کی آمد کے بعد ڈیولپ ہوا پھر امی نے انھیں رسان سے منع کر دیا کہ بھئ یہ بچے نہیں کھاتے اتنا مت بھیجا کرو۔ پتہ نہیں یہ ان کے گھر کی ساکھ یا امیج تھا یا ذائقے کا فرق کہ ان کے کھانے سے کبھی بھی رغبت محسوس نہیں ہوئی۔
ایک بار ہمیں اسکول میں صبح اسمبلی کے دوران چکر آ گیا، صبح ناشتہ کرنے کی عادت نہیں تھی غالباً پرنسپل صاحب کی تقریر لمبی ہوئی اور پھر “تارے زمیں پر” یا دن میں تارے نظر آ گئے، اسکول والوں نے گھر بھیج دیا ، گھر پہنچے تو امی کے پاس شفقت آنٹی آئی ہوئی تھیں بیچاری ہماری حالت دیکھ کر پریشان ہو گئیں، ہاتھ پاؤں سہلاۓ کچھ پلانے کے لئے لائیں ساتھ ساتھ محبت سے نصیحتیں بھی کرتی رہیں کہ ناشتہ کر کے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ، امی نے بعد میں ہمیں گھرُکا کہ دیکھا کتنا خیال کر رہی تھی بیچاری اور تم لوگ ہر وقت اس کے آنے پہ منہ بناتے ہو، اس دن واقعی ہمیں اپنے رویے پہ تھوڑی شرمندگی ہوئی۔
پھر وہ شام آئی۔۔گھر پہ بھائی صاحب کے ایک دوست آۓ، موبائل فون کا تو زمانہ نہیں تھا جو بھی آتا تین فلور چڑھ کے آتا، گھنٹی بجتی پھر دروازہ کھول کے دیکھا جاتا کہ کس کے ملنے والے ہیں اور پھر گھر کے متعلقہ فرد کو اطلاع دی جاتی سو جھانک کے بھائی صاحب کو اطلاع دی گئی، اب جیسے ہی بھائی صاحب نے دروازہ کھولا سامنے والوں کا دروازہ دھڑ سے کھلا اور انسپکٹر صاحب نے مغلظات بکتے شفقت آنٹی کو باہر دھکیلا ،پیچھے ان کی والدہ اور بہن بھی نظر آیئیں، سامنے کا دروازہ پورا کھلا ہوا تھا اس لیے اِدھر کے مکینوں نے اپنے ڈرائنگ روم سے یہ منظر دیکھا ،بھائی صاحب کو کچھ سمجھ نہیں آیا ادھر ان کے دوست بھی اس اچانک افتاد پہ بوکھلا گئے ، بھائی صاحب نے ان کا ہاتھ پکڑ کے ان کو گھر کے اندر کھینچا اور دروازہ بند کر دیا، گھر کے اندر کے سارے لوگ متوحش کہ یہ ہوا کیا ہے، آج کی زبان میں کہیں تو ایک Trauma کی کیفیت تھی لیکن اسوقت ایسے فینسی الفاظ ہماری لغت میں نہ تھے ، مہمان کو اندر کمرے میں لے جایا گیا، کچھ دیر میں شور و غل تھما،ان کے گھر کے اندر سے یوں تماشہ باہر نکلنے کا یہ پہلا موقع تھا، ہم بچے تھے پھر بھی شرمندگی ، بے بسی اور غصّے کی ملی جلی سی کیفیت تھی ۔
یہ سلسلہ شاید یونہی چلتا رہتا کہ ایک دن ہم اسکول سے لوٹے تو پتہ چلا شفقت آنٹی نے خود کشی کرلی ہے، انہوں نے خود کو بچوں کے ساتھ کمرے میں بند کیا اور انسپکٹر صاحب کا ریوالور لے کر گلے پہ رکھا اور لبلبی دبا دی ، بیڈ مین نے آواز سن کے دروازہ توڑا ، چھوٹا بچہ تو شاید سال کا تھا اور بڑا ڈھائی تین سال کا ، بڑا والا ماں کے دوپٹے سے خون صاف کرنے کی کوشش کر رہا تھا، سوچیں تو اس منظر نے بچوں کے ذہنوں پہ کیا اثر ڈالا ہوگا، بھاگم بھاگ اسپتال لے جایا گیا ، ابھی خدا کو ان کی موت منظور نہیں تھی، شفقت آنٹی بچ گیئں، امی انھیں دیکھنے اسپتال بھی گئیں۔گولی ایسی جگہ پھنس گئی تھی کہ ڈاکٹر نکال نہیں سکے وہ اسی کے ساتھ زندہ تھیں، کافی دن بعد گھر واپس آییں ، ملاقات بھی ہوئی، پتہ چلا کہ اب انسپکٹر صاحب کا رویہ ان کے ساتھ کافی بہتر ہو گیا ہے، شفقت آنٹی نے قیمت بھی تو کتنی بڑی دی تھی ،کیس بنا یا نہیں ، اندر خانے کیا ہوا یہ پتا نہیں چل سکا پھر وہ واپس اپنے گاؤں چلی گئیں یا شائد انھیں بھیج دیا گیا، ہم نے بھی وہ گھر چھوڑ دیا اور شفقت آنٹی کی کہانی ختم ہوئی۔
ہم سوچتے تھے کہ شاید ناخواندہ لوگوں ، گاؤں گوٹھوں میں جہالت کی بدولت پروان چڑھے دین و دنیا کی تعلیم سے بے بہرہ مرد، اپنی عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تیسری دنیا کے گاؤں کی شفقت آنٹی سے لے کر چھوٹے بڑے شہروں کے پڑھے لکھے دیندار لوگوں اور کینیڈا امریکہ میں بسنے والے پہلے درجے کے پڑھے لکھے شہریوں تک، ان پڑھ، کم تعلیم یافتہ اور بے حد قابل کئی شفقت آنٹیوں کی کہانیاں نظر سے گزریں اور ہر بار انسپکٹر صاحب کے کئی روپ سامنے آۓ جو دینا سے ملتے ہیں تو ویسی ہی خوش اخلاقی اور گرم جوشی سے ملتے ہیں جسے بچپن میں ہم دیکھ کر حیران ہو جایا کرتے تھے،اللہ اللہ بھی کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ان کے گھروں میں بھی کوئی” شفقت آنٹی جیسی” ذلتوں سے اکتا کر موت کے انتظار میں اپنے نصیبوں کو رو رہی ہوتی ہے یا سسک سسک کے وقت کاٹ رہی ہوتی ہے کہ زمانے سے لڑنا اس کے بس کی بات نہیں ہوتی اور ہر کوئی بہتر رویوں کے لئے شفقت آنٹی جیسی قیمت بھی تو نہیں دے سکتا۔۔
کیا تماشا ہے کب سے جاری ہے
زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے
اس کہانی کو کون روکے گا
عمر یہ ساری کون سوچے گا
ساتھ کاٹی ہے یا گزاری ہے
زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے
رنگوں سے کہوں لکیروں سے کہوں
میلی میلی سی تصویروں سے کہوں
بے قراری سی بے قراری ہے
زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے!
Happy Women’s Day!
قرۃالعین صبا
(Visited 1 times, 1 visits today)

