تقریب رونمائی “موتیا کی خوشبو میپل کے رنگ “، ملٹن کینیڈا

‎ کراچی کی سردی کے خوشگوار موسم اور اپنوں کے ساتھ گزارے خوبصورت اور یادگار لمحوں کے بعد کینیڈا کی برف زدہ شاموں سے دوبارہ دوستی کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے، خاموشی، اندھیری دوپہریں، جامد سا ماحول اور سونے پہ سہاگہ جیٹ لیگ کی بدولت بے وقت کا سونا جاگنا، دل پُکار پُکار کے کہہ رہا ہوتا ہے کہ “چل اڑ جا او بھولیا پنچھیا تیرا کوئی “
“نہیں پردیس میں
‎یہ واردات ہر پردیسی پہ گزرتی ہے
‎پھر آہستہ آہستہ یاداشت کو واپس لانا پڑتا ہے کہ او ہیلو ہوش میں آؤ،جاگ جاؤ ، اب یہی دیس ہے، گھر بچے منتظر ہیں، اپنے کام سنبھالو، نہاری قورمے پکاؤ بہُت ہو گئے عیش اور یہ جو ایک نئی دنیا کینیڈا میں بسا کے بیٹھے ہو اس کی خبر لو، دوست منتظر بیں، موتیا کی خوشبو یہاں تک پہنچ چکی ہے احباب مشتاق ہیں کہ کب میپل کے رنگوں کی بات ہو اور کتاب سے ملاقات ہو، تو جناب وہ وقت بھی آ ہی گیا۔
‎کتاب کی رونمائی کراچی میں ہو چکی تھی لیکن یہاں کے “ہم خیال” وہ تھے جو اس کتاب کی موٹیویشن بنے، وہ بھی کیونکہ دونوں جگہ کے باسی ہیں تو ہر خیال کے دونوں ذائقے ہماری طرح محسوس کرتے ہیں، گرمی ہو، سردی ہو ، خزاں، بہار ہو یا برفوں کے موسم ہر بزم میں نا صرف آن موجود ہوتے ہیں بلکہ ہر معاملے میں ساتھ بھی دیتے ہیں، یہاں رہتے ہوئے اس عرصے میں اگر کچھ کمایا ہے تو وہ یہی پیارے لوگ ہیں اور ان کے ساتھ اپنی کتاب کی خوشبو اور رنگ محسوس کرنا ہماری بھرپور خواہش تھی۔
‎دو دن سے طوفان کی پیشین گوئیوں نے پریشان کیا ہوا تھا جمعے اور ہفتے کو موسم آنکھ مچولی کھیلتا رہا لیکن شکر ہے کہ اتوار کو اگرچہ سردی منفی سترہ کو چھو رہی تھی لیکن برف زدہ بادلوں کو شکست دے کے سورج نکل آیا تھا۔
‎تقریب “ہیو فاسٹر ہال” ملٹن میں منعقد کی گئی، یہ اٹھارویں صدی کی ایک تاریخی عمارات ہے جسے اب ایک چھوٹے سے ہال کی شکل دے دی گئی ہے ، کچھ عرصہ قبل جب پہلی بار اسے دیکھا تو فوراً ہی یہ خیال آیا کہ کتاب کی تقریب کے لیے اس سے بہتر جگہ نہیں ہو سکتی، باہر ایک وکٹوریہ طرز کا پارک اور فوارہ بھی ہے جو اچھے موسم میں بہُت خوبصورت لگتا ہے۔
‎بس یہ جگہ مہینوں پہلے بک کی جاتی ہے اور یہاں سارا دِن تقریبات ہوتی ہیں، ہم نے سہ پہر کا وقت منتخب کیا۔
‎تقریب کی ابتدا محمد ابراہیم صدیقی کی تلاوت سے ہوئی ، جس کا ترجمہ فاطمہ نے پیش کیا۔
‎اپنی تقریب کے لیے میزبان کی انتخاب کا مرحلہ آیا تو جو پہلا نام ذہن میں آیا وہ انجیلا وجیہہ کا تھا، انجیلا کو ہم نے اپنے کالج کے دِنوں میں ڈیبیٹ اور میزبانی کرتے دیکھا تھا، یہ ہماری سینئر تھیں اسوقت کوئی بات چیت نہ تھی پھر سالوں بعد کینیڈا میں کتابوں کے توسط سے ملے، انجیلا ٹیچر ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کی رائٹر ہیں اور دو کتابیں بھی لکھ چکی ہیں، ہم خیال لائیو سیشن میں بھی ان سے ملاقات رہی، انجیلا نے میزبانی کے فرائض بے انتہا خوبصورتی سے انجام دیے۔ یہ ایک بُہت بڑی حقیقت ہے کہ اگر پروگرام کا میزبان گفتگو کے فن سے آشنا نہ ہو تو پروگرام کسی بھی نوعیت کا ہو جم نہیں پاتا, انجیلا ماشااللہ اس فن سے بخوبی واقف ہیں اُنہونے آخر تک حاضرین کی توجہ برقرار رکھی اور سب سے داد سمیٹی۔
‎انجیلا وجیہہ بہُت شکریہ
‎یوں تو ہر مہمان اپنی جگہ خاص تھا لیکن کتاب پہ گفتگو کے سلسلے میں جنہیں مدعو کیا گیا اُن میں سب سے پہلے تھیں تسنیم انجم صاحبہ, جو شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں، انگریزی کی لیکچرر رہی ہیں، انٹرنیشنل لینگویج ٹیچر ہیں، اردو تنظیم جواۓ آف اردو
سے بھی منسلک ہیں۔ سیکنڈ لینگویج انسٹرکشن اور کینیڈا میں آنے والی دوسری زبانوں، اور ہوم لینگویج مینٹیننس سے منسلک کام میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں اور یونیورسٹی آف ٹورانٹو کے ماسٹرز پروگرام میں اور اس کے بعد یونیورسٹی سے منسلک دوسرے محققین کے ساتھ اس سلسلے میں تحقیقی کامُ بھی انجام دے چکی ہیں۔ 2016 میں یونیورسٹی آف ٹورانٹو کے لیے ماسٹرز کا مقالہ لکھا تھا جس کا عنوان
“Language Choices of Pakistani Canadians in the Peel Region”
تھا جس میں نہ صرف اردو زبان سے متعلق پیل ریجن کے رہائشی لوگوں کے تاثرات شامل ہیں بلکہ ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں میں اُردو زبان کا فروغ کیسے کرسکتے ہیں۔
کینیڈا کی کسی بھی یونیورسٹی میں اُردو زبان اور پاکستانی کینیڈین لوگوں کے متعلق یہ واحد مقالہ ہے۔
آپ کی گفتگو میں سب کے سیکھنے کے لئے بہت سے پہلو تھے۔
تسنیم آپا بہت شکریہ
‎پھر عدنان حقی صاحب تھے جو
شان الحق حقی صاحب کے فرزند ہیں، علمی و ادبی گھرانے سے وابستگی اور لکھنے پڑھنے سے تعلق ہے، خوش گفتار ہیں ، گزشتہ تیس سال سے کینیڈا میں مقیم ہیں ، ریئلٹر بھی ہیں۔ انھونے کتاب کے بارے میں جامع گفتگو کی۔
عدنان حقی صاحب بہت شکریہ
‎ملٹن کی ریجنل کونسلر سمیرا علی جو ہمارے ٹاؤن کی نمائندہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہُت کتاب دوست شخصیت ہیں، اُن کے والد صاحب بھی شاعر تھے اور یہی وجہ ہے کہ اُن کے کینیڈین انتظامی امور کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کی چاشنی اور قدروں سے بخوبی واقف ہیں اور متوازن گفتگو کرتی ہیں اور دل جیت لیتی ہیں۔
‎سمیرا علی بہُت شکریہ
‎چوتھی مہمان ممبر آف پارلیمنٹ اقراء خالد تھیں جو ناسازی طبیعت کی بنا شریک نہ ہو سکیں جس کا بہُت قلق رہا لیکن انشاءاللہ پھر سہی۔
‎ان کے علاوہ ادبی حلقے کے لوگوں میں بہُت مصروفیت کے باوجود محترم شاعر بشارت ریحان صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ بے حد محبت سے تشریف لائے، ان کی مہربان شخصیت، شفقت اور حوصلہ افزائی کے ہم پہلی ملاقات سے ہی گرویدہ ہیں، ان کا آنا بہت اچھا لگا۔
‎بشارت ریحان صاحب بہُت شکریہ
‎ پھر بیس سے زائد کتب کے مصنف اور سائیکالوجسٹ ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کو اپنی تقریب میں دیکھ کر بُہت خوشی ہوئی جن کے “ہم سب” کے مضامین سے ہم نے بہُت کچھ سیکھا اور سیکھتے رہتے ہیں، ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب کا تحفہ اپنے دستخط کیے ساتھ پیش کیا اور ہماری کتاب پہ بھی ہماری عبارت لی جو کہ ہمارے لیے بہُت اعزاز کی بات ہے۔ آپ عظمیٰ عرفان صاحبہ کے ساتھ تشریف لائے جو مالٹن ویمن کونسل کی ایکزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں، اُن سے مل کے بہُت خوشی ہوئی۔
‎آپ دونوں کا بہُت شکریہ
‎تقریب کی سجاوٹ سے لے کر ذائقوں تک کہ سارا انتظام اور صرف انتظام نہیں بلکہ محبت تھی جاز پلیٹر کی یاسمین کی اور اُن کی مددگار تھیں ہم سب کی دوست عائشہ، یاسمین اتنی محبت سے آپ کے ایونٹ کو اپناتی ہیں کہ وہ اُن کا ہو جاتا ہے، پاکستان میں تو انتظام سب مکمل ملتا ہے تو کسی بات کی فکر ہی نہیں ہوتی یہاں سب آپ کو خود سنبھالنا پڑتا ہے، کرسی میز کے علاوہ سب سجاوٹ، چیزیں اور کھانا لگانا اٹھانا آپ کی ذمےداری ہے، اور واپسی پہ اپنی لائی ہوئی ایک ایک چیز سمیٹ کے واپس رکھنا ہوتی ہے اور یہ سب پروگرام سمیت تین گھنٹے میں کرنا بہُت مشکل ہوتا ہے، ناشتے کی میز اور سجاوٹ یاسمین اور عائشہ نے یوں سنبھالا جیسے گھر کے لوگ ہوں،سو قیمتی دوستو! بہُت شکریہ۔
‎جواد بھائی اور صنوبر ہمارے قریبی دوست ہیں اُنکی فیملی ہر انتظام میں ہر موقع پہ شریک رہتی ہے، لاجسٹک کے معاملات سے لے کر ، فوٹو اور ویڈیو گرافی تک کے سارے معاملات صنوبر اور اُن کی بیتی ارحمہ نے سنبھالے اور خُوب سنبھالے، بہُت شکریہ۔
‎جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ یہاں کے فاصلوں کو سمجھتے ہیں، عام حالات میں بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ کا قریبی فاصلہ بھی کم از کم بیس پچیس منٹ کا تو ہو ہی جاتا ہے، شدید سردی میں ویسے ہی گھر سے نکلنے کے لیے محنت کرنی پرٹی ہے، ایسے میں دوسرے شہروں سے کتاب اور ادیب کی حوصلہ افزائی کے لیے آنا بہُت بڑی بات ہے، محبت کرنے والے دوست احباب ملٹن اور مسی ساگا کے علاوہ، پورٹ ایلگن، نارتھ یارک، کچنر، واٹرلو، ویٹبی اور اجیکس تک سے شریک ہونے آئے اور محبت سے شریک ہوئے اس کے لیے سب کا بُہت شکریہ۔
‎ہماری خواہش تھی کہ ایونٹ پبلک کیا جائے لیکن جگہ اور کتابوں کی محدود تعداد کے باعث ایسا کرنا ممکن نہ تھا، اسلیے ایک دن پہلے پیج پہ پوسٹ کیا اور اس پہ بھی کچھ محبت کرنے والے فوراً چلے آئے۔ یہ محبتیں بے حد قیمتی ہیں، بہُت شکریہ۔
‎ گھر کے بچوں خضر، فاطمہ، بلال، ابراہیم نے انتظامی امور میں بہُت مدد کی ، پھر ہماری فیملی کے “میں ہوں نا” محمد اکمل صاحب جن کے بغیر تو گزارا ہی ممکن نہیں، اللّٰہ ان سب لوگوں کو سلامت رکھے، آمین
ایک لکھنے والے کے لیے اس کی کتاب کی محبت ہی بڑا اثاثہ ہے
تحفے تحائف کی ضرورت نہیں تھی لیکن سب کی محبت کے اپنے انداز ہیں، سو اس کے لئے بھی شکریہ ،
ہاں یہ ضرور ہے کہ گھر خوش رنگ پھولوں سے سج گیا اور چاکلیٹس کی
مٹھاس کے ذائقے سردی میں مزا دے رہے ہیں۔
‎تقریب کی تفصیلی ویڈیوز آتی رہیں گی، جب تک فوٹوز دیکھیے، کتابیں آج کل میں پہنچ جائیں گی، اپنی کاپی حاصل کرنے کے لئے آپ انباکس کر سکتے ہیں۔
‎پڑھیں لکھیں
‎خوش رہیں
‎خیال رکھیں
‎قرۃ العین صبا
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *