سنڈے برنچ کا خیال
آج خیال دوستوں کے ساتھ ایک بھرپور دوپہر گزری، ہماری کمیونٹی کی یہ محفلیں اس لحاظ سے منفرد اور مزیدار ہوتی ہیں کہ ان کا مقصد کھانے پینے اور سجنے سنورنے کی مقابلے بازی سے تھوڑا زیادہ ہوتا ہے ۔ میرا تجربہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ اچھا اور مفید ضرور سیکھ سکتے ہیں، ملنا ملانا اور تبادلہ خیال اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اچھی بات یہ ہے کہ ہر محفل میں کچھ نئے لوگوں کا اضافہ ہوتا ہے اور نہ نئے آنے والوں کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلی بار مل رہے ہیں اور نہ پرانے دوستوں کو ایسا لگتا ہے کہ “پہلی ملاقات ہے یہ پہلی ملاقات ہے “۔
اس بار بھی بہت سے موضوعات اور کمیونٹی کو درپیش مختلف مسائل پہ گفتگو رہی، ساتھ ساتھ سمیرا نے احمد فراز صاحب کی غزل سنا کے خوب داد سمیٹی، دوستوں کی فرمائش پہ فدویہ نے اپنی نظم “کیمپس کے دن” سنائی ، آخر میں یاسمین اپنی خوبصورت آواز میں یادوں کو دستک دے رہی تھیں تو بلآخر بے انتہا انتظار کے بعد سرو ہونے والے کھانے نے تسلسل توڑ دیا اور یاسمین کا گانا یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں ہم کیا کریں ، تصور میں اب کوئی ججتا نہیں ہم کیا کریں ” حاضرین نے گرما گرم پراٹھوں ، آملیٹ اور کبابوں کے نام کیا اور پیاری یادیں لے کر اپنے اپنے گھر سدھارے ۔
ویڈیو میں تفصیل ملاحظہ فرمایں ۔
سب پیارے ہم خیال دوستوں کی آمد اور محبت کا بہت شکریہ https://www.facebook.com/100063792756594/videos/a.870588735077544/3780956535558595

