پہلا  پرندہ  گھونسلے سے اڑ  گیا

کل پہلا  پرندہ  گھونسلے سے اڑ  گیا۔

یوں تو بیک ٹو اسکول کا موقع ہر سال آتا ہے لیکن اس بار تھوڑا مختلف تھا۔ ایمٹی نیسٹ سینڈروم  کا احساس کیسا ہوتا  ہے اس  کا اب اندازہ  ہوا،  آپ کتنے  ہی مصروف کیوں  نہ  ہوں، کتنے ہی مشاغل کیوں  نہ رکھتے  ہوں اگر آپ والدین ہیں تو زندگی کے  کسی  نہ کسی  مرحلے پر آپ اس کیفیت  سے ضرور گزرتے ہیں، پالستان  میں عموماً  یہ وقت  جب ہی آتا ہے جب بچے شادی  کے بعد اپنے اپنے گھروں  میں مصروف ہو  جاتے ہیں یوں یہ کیفیت  والدین  کافی  دیر  میں محسوس  کرتے  ہیں، یہاں  یہ وقت اکثر  بچوں  کی یونیورسٹی شروع  ہوتے ہی آ  جاتا  ہے ، بیشتر  کیمپس  گھر سے دور یا دوسرے  شہروں میں ہوتے ہیں، ایڈمیشن کے  لئے پڑھای اور تگ  و دو  اپنی  جگہ  لیکن جب یہ  مرحلہ  طے ہو جاتا  ہے تو ساتھ  ساتھ اماں ابّا  کے پروں  کے نیچے  سے نکلنے کا بھی وقت آن  پڑتا  ہے کیونکہ  پڑھائی کے  بوجھ، محنت اور کلاسوں  کے مختلف اوقات  کے  ساتھ روزانہ  دو  تین  گھنٹے بسوں میں آنا آجانا بے انتہا  تھکا  دینے  والا  معملہ ہے اسلئے بہتر  یہی  ہوتا ہے  کہ  ایک  طرف  بیٹھ  کے یکسوئی سے  پڑھا  جائے۔

ایمپٹی نیسٹ  سنڈروم جیسا  کہ  نام  سے  ہی ظاہر  ہی کہ  خالی ہوتے  گھونسلے  کا  دکھ  ہے  لیکن اس خالی  پن کے  ساتھ  بہت  سے اور بھی احساسات جڑے  ہوتے  ہیں  جیسے   گھبراہٹ  ، خوف  ، پریشانی  ، خدشات  ، اپنی  تربیت کا خیال ، اکیلا  پن ، یہ سوچیں کہ کیا ہم نے اسے یوں زمانے  کے سرد  و غم  سہنے کے  لئے  تیار  کر دیا ہے ؟ آگے  اسے  کیسے  لوگ  ملیں  گے ؟ وغیرہ  وغیرہ  جو کہ بہت  نارمل ہے , ان تمام احساسات  کا دورانیہ والدین  کے لئے  اداسی  کا موجب  ہوتا  ہے خاص  کر  یہ خیال کہ اب ان کی اولاد  کو ان کی ضرورت  نہیں  رہی یا وہ اپنے کاموں  کے  لئے اب اپنے ماں یا باپ  کے محتاج  نہیں رہے والدین کو ڈپریشن کی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔ جہاں  والدین  کی اپنی مستقل مصروفیت  یعنی  جاب  وغیرہ  موجود  ہو یا  مشاغل اور دوستوں  کا حلقہ  اور سرگرمیاں ہوں  وہاں اس کیفیت پہ  قابو  پانا  تھوڑا  سہل  ہو جاتا  ہے لیکن جہاں والدین خاص  کر ماں کی زندگی کا محور ہی  بچے  ہوں وہاں یہ اداسی  کی کیفیت طویل  عرصے  تک  قائم رہتی  ہے اسلئے  ضروری  ہے کہ اپنے  آپ کو مصروف  رکھا  جائے ۔

گھر  سے نکلتے  وقت  جو اداسی  تھی وہ شہر  میں داخل  ہوتے  ہی چہل پہل  دیکھ  کے  تھوڑی  کم  ہو گئی  یہاں  کالج  اور یونیورسٹی والے  شہر  قرب و جوار  سے آۓ طالب علموں سے  آباد ہوتے  ہیں “واٹرلو”  بھی ایسا ہی  ایک  شہر  ہے ، یہاں  دو یونیورسٹیاں اور ایک کالج  ہے ۔چھٹیوں میں جو شہر  سویا  سویا  محسوس ہو  رہا  تھا  آج لگ رہا تھا کہ جیسے کسی نے سوئی  ہوئی  شہزادی  کی آنکھوں  کی سوئیاں نکال  دی ہوں اور سارا منجمد ہوا شہر ایک دم سے  جاگ  گیا  ہو، ہر طرف شفٹنگ  کے مناظر  تھے  کہیں  بچے  گروپ  کی صورت  سودا  سلف سمبھالتے پھر  رہے  تھے کہیں تکیے گددے  اپارٹمنٹ میں پہنچانے کا انتظام کیا جا رہا تھا ، بہت سارے  ہماری  طرح  کے فرسٹ ایئر  فول  قسم  کے والدین  بھی تھے کچھ  گھبراے  اور تھوڑے  بوکھلاے سے جو باقی بچوں سمیت اپنے بڑے  بچے کو چھوڑنے آے  تھے اور فکرمند تھے کہ کہیں  کوئی  چیز رہ نہ جائے ۔ یہ بھی گویا ایک نئے   گھر  کی بنیاد  تھی اور گھر  چاہے  ایک ہی کمرے  کا آباد  کیا جا رہا ہو چھوٹی  موٹی  چیزیں  ختم  ہونے  میں نہیں آتیں،   کپڑے  ، جوتے ،  چادریں ، تکیہ  ، کمفرٹر، برتن، تھوڑا بہت کچن کا سامان  ، صابن ، شیمپو ، ناشتے کھانے  کی چیزیں ، چاے، کیتلی وغیرہ  وغیرہ  ۔ 

اپنا  سامان اسوقت کچھ کم لگا  جب چھوٹی  موٹی  چیزیں  لینے  قریبی  وال مارٹ جانا  ہوا اور یہ ادراک  ہوا  کہ یوں  ایک دن پہلے کوئی  بھی چیز  لینے  کے  لئے یہاں کے اسٹور کا رخ  کرنا بلکل  بھی  عقل  مندی  نہیں  ، وال  مارٹ  بھی سٹوڈنٹس  سے بھرا  پڑا  تھا ، کوئی اسٹیشنری جمع  کر رہا ہے تو کوئی اپنے  کمرے  کے لئے کیتلی، چولہے اور پنکھے وغیرہ کی شاپنگ  میں منہمک ہے۔ ہمارے  ساتھ تو یہ اچھی بات تھی  کہ  گھر ایک گھنٹے  کے  فاصلے  پہ تھا تو کھانا  پکانے  کا کام نہیں تھا لیکن جو بچے  کسی  دور  دراز  شہر  یا  ملک  سے آۓ تھے انھیں پڑھائی  کے  ساتھ ساتھ پکانے  کی مشقت  سے بھی گزرنا  تھا ۔ ایک بڑی  تعداد انٹرنشنل سٹوڈنٹس کی تھی جو دو دو تین تین کے گروپ میں اپنے  انداز  کے کھانوں  کے  لئے گروسری  کر رہے تھے ، انڈین لڑکیوں  کی ایک ٹولی سوچ سوچ کے مصالحے جمع  کر رہی تھی ٹرالی میں انواع اقسام کی سبزیاں بھری  ہوئی  تھیں، چینی بچوں کی ٹرالی میں موٹے والے چاول دکھای دے رہے تھے، ایک طرف گوری  لڑکیوں  کا گروپ تھا وہاں انسٹینٹ  نوڈلز، میک اینڈ  چیز کی بہاریں تھیں، زیادہ  تر  سٹوڈنٹس  کا یہی حال تھا کہ اب پڑھائی  کے بعد تھک ہار کے  جب گھر  پہنچیں گے تو کس کی ہمت  ہوتی  ہوگی  کہ  باقاعدہ  کھانا  پکایا  جائے، روز باہر  کھانا بجٹ  کے لحاظ  سے بھی ممکن  نہیں  اور ظاہر  ہے صحت  کے لئے بھی مضر ہے ، یوں  تو کھانے  کے آپشن  کافی سارے  موجود تھے  لیکن فرائیڈ  چکن  یا  شوارمے تک  محدود تھے ، واٹرلو  میں محسوس  ہوا کہ گویا  ہر طرف  شوارمے کی بہاریں ہیں شاید اسلئے کہ اس طرز کا کھانا  ساری  قومیتوں کے لئے موضوع  ہوتا ہے نہ بہت نمک مرچ نہ کوئی تلی ہوئی  چیزیں اور یہی  وجہ  ہے کہ  یہ دوکانیں چلتی بھی بہت  ہیں۔

  بچپن  میں ٹی  وی  پر اکثر یہ حدیث  آتی تھی کہ “باپ  اپنی اولاد  کو جو کچھ دیتا ہے اس میں بہترین عطیہ  اچھی تعلیم  و تربیت ہے “

اپنے محدود تجربے سے جو کچھ بھی سیکھا ہے اس میں یہ بات بہت  اہم  ہے کہ بچوں  کو اچھا کھلانا  پلانا، پہنانا اور تعلیم دلوانا  تو بنیادی ضرورتوں  میں شامل ہے ہی لیکن انھیں عملی طور پر دنیا  کا سامنا کرنے اور اپنا  کام کرنے کا اہل  بنانا تربیت کا ایک بہت بڑا  جز ہے ، ہم میں سے اکثر والدین بچوں کی جوانی اور شادیوں  تک ان کو پروں  میں چھپا  کے دنیا  کی ہر سہولت دینے  کی کوشش  کرتے  ہیں نتیجتاً  انھیں  خود  سے اپنے کام کرنے اور خود کو اور اپنے معملات کو سمبھالنے کی عادت ہی نہیں ہوتی  اور وہ اپنے ہر معملے کے لئے دوسروں کے محتاج رہتے ہیں ۔یہ بات ہمارے مشرقی معاشرے میں بہت عام ہے اس کی نسبت مغرب میں بچے چالیس  گھنٹے  والنٹیر کام کئے  بغیر  ہائی  اسکول  پاس  نہیں کر سکتے، سولہ سترہ سال کی عمر سے تھوڑا بہت کمانے کے قابل بھی ہو جاتے ہیں اور رہی سہی کثر یوں گھروں سے دور رہ کر پڑھائ کرنے اور رگڑا کھانے میں پوری ہو جاتی ہے۔ 

ہم نے کنکھیوں سے ایک نظر  اپنے سپوت پہ ڈالی، بلا شبہ والدین کے لئے بچوں کو یوں چھوڑنا بڑا مشکل تجربہ ہوتا ہے لیکن جو کئی دن سے خوشی خوشی گھر سے جانے کی تیاریوں میں مشغول تھا اور جسے آزادی اور خودمختاری کا احساس پرجوش کیے دے رہا تھا جانے کیوں اس وقت کچھ بجھا بجھا سا تھا، شائد گھر چیز ہی ایسی ہے، آپ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں دوری اور اکیلے پن کے خیال سے تھوڑے سے ہوم سک ہو ہی جاتے ہیں ۔ ابھی کچھ دن کی بات ہے پھر وہ مصروفیت ہوگی کہ سر کھجانے کی فرصت نہیں ملے گی، ہم نے  خود کو تسلی  دی۔ زیادہ  جذباتی  ہونے  اور کرنے  کا ہمارا کوئی پلان  نہیں تھا، نئے  گھر چھوڑ  کے خدا حافظ  کہا اور چل پڑے۔

 اللّه میاں اب آپ کے حوالے، آپ کی امان میں !

باقی دونوں بچے بھی آج الحمداللہ  اپنے اپنے اسکول روانہ ہو گئے ہیں اور راوی بہت دن بعد خاموشی سے چین ہی  چین   لکھ رہا ہے بلکہ بلاگ لکھ رہا ہے 

 اللّه  ہم سب کے  بچوں  کی حفاظت  فرماے ، آمین 

Happy first day of school 🏫 

قرۃ العین صبا

#khayalbysaba 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *