پاکستانی کینیڈین شادیاں (تیسرا حصہ)

دیسی بدیسی رسمیں اور شادیاں

پچھلے دنوں شادیوں کے حوالے سے لکھا تو کچھ لوگوں کو یہ تاثر ملا کہ شاید گوروں کی شادیاں سادگی سے ہوتی ہیں، جس میں بہت زیادہ صداقت نہیں،
ایک اسٹڈی کے مطابق ایک ایوریج کینیڈین یا امریکن شادی میں تقریباً تیس ہزار ڈالر کی لاگت آتی ہے جس میں شادی کی تقریب کی جگہ، کھانے کے انتظامات، کپڑے جیولری، فوٹو اور وڈیو گرافر ، ڈیکوریشن اور کیک وغیرہ شامل ہیں۔
فرق یہ ہے کہ ان کے مہمانوں کی تعداد ہماری جیسی نہیں ہوتی بلکہ بہت قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو مدعو کیا جاتا ہے دوسرا یہ کہ رسموں کا سلسلہ ان کے ہاں بھی ہے جیسے “برائڈل شاور “ اور “بیچلرز پارٹی” وغیرہ لیکن پھر وہی بات کہ یہ سب بہت قریبی دوستوں یا فیملی کی تقریبات ہیں،
ساوتھ ایسٹ ایشیا سے مغرب ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہاتھ یہ ہوا کہ وہ اپنی رسوم و روایات بھی ساتھ لاۓ اور پھر یہاں کے کلچر کا حصہ بنتے ہوۓ ان کی رسومات بھی شامل کر لی گئیں، اب یہاں ایک بات غور طلب ہے اور وہ یہ کہ کس نے کیا اپنایا۔

گوروں کی شادی کا انداز جب ہم لوگ اپنی روایتوں کے ساتھ اپناتے ہیں اور سو کے بجاۓ تین چار سو لوگوں کا انتظام کرتے ہیں تو نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے پھر اپنی رسموں کے ساتھ ساتھ کیک کٹنگ، رنگ ایکسچینج، برائڈل شاور وغیرہ بھی مل جاتی ہیں تو اخراجات کا بڑھنا لازمی ہے۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ نئی نسل اب سمجھداری کی طرف گامزن ہے، اور کیونکہ بیشتر بچے اپنی شادی کا خرچ خود ہی اٹھاتے ہیں تو چاہے وہ روایتی شادی کریں یا ڈیسٹینیشن ویڈنگ ان کا موقف یہ ہوتا ہے کہ قریب ترین رشتہ داروں کے علاوہ بس ان لوگوں کو بلایا جاۓ جن سے رسمی کے بجاۓ اصل میں ملنا جلنا ہو اور وہ واقعی آپ کی خوشی میں شریک ہونا چاہتے ہوں باقی سب غیر ضروری ہے لیکن اپنی قدروں کی پاسداری کرنے والے خاندانوں میں یہ “گورا ٹرینڈ” گردانا جاتا ہے کیونکہ ظاہر ہے ہمارے ہاں جب تک تمام رشتہ داروں اور دوست احباب کو بچوں کی شادی میں شریک نہ کیا جاۓ گھر کی شادی اجنبی سی لگتی ہے۔

کچھ رسمیں ایسی ہیں جنھیں اگرچہ اپنانے کی چنداں ضرورت نہیں جیسے “رنگ ایکسچینج”، “برائڈل شاور” اور “کیک کٹنگ” وغیرہ لیکن ایک جگہ رہنے والے یا پلنے بڑھنے والے بچے اپنی شادی پہ ان رسومات کو پسند کرتے ہیں، ایک مخصوص خطے میں پیدا ہونے اور پرورش پانے کے بعد اس جگہ کے کلچر یا کچھ رسموں کو اپنانا ایک فطری عمل ہے اس لیے مغربی دیسی شادیاں دونوں طرح کے کلچر کا امتزاج ہوتی ہیں۔

ایک رسم جو ہمیں یہاں کی اچھی لگتی ہے وہ ہے “ویڈنگ ٹوسٹ”، کیونکہ اس رسم میں تھوڑی تخلیقی صلاحیت اور سوچنے سمجھنے کا عمل درکار ہوتا ہے تو اکثر پاکستانی لوگ اس کو “ڈرامہ بازی” یا “فضول تقریروں” سے مامور کرتے ہیں اور دراصل اکثر شادیوں میں اس کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے لیکن اگر تھوڑا غور کیا جاۓ تو یہ شادی میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں سے اپنے قریب ترین رشتوں اور خاندان کے تعارف کا ایک پروقار طریقہ ہو سکتا ہے۔
“ویڈنگ ٹوسٹ” دولہا یا دلہن کے قریب ترین رشتہ داروں کا ان کے لئے اس خاص الخاص موقع پر ان کے متعلق کسی خوبصورت یاد، بات، یا واقعہ کا ذکر کرنے یا کسی نظم یا گیت کی صورت سنجیدہ یا مزاحیہ انداز میں تہنید اور تحسین کے اظہار کا ایک خوبصورت طریقہ ہے اگر اسے اچھے طریقے سے ادا کیا جاۓ۔
اکثر لوگوں کے لیے پبلک اسپیکنگ آسان نہیں ہوتی، مائک پہ گفتگو اور پریزنٹیشن کا سلیقہ بھی کم لوگوں کو آتا ہے، دو تین سو لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر کچھ بھی بولنا ایک مشکل عمل ہے جس کے لیے تھوڑی بہت تیاری ضرور ہونی چاہئے لیکن پھر بھی لوگ غیر ضروری اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوۓ نہ تو اپنے خیالات یا پوائنٹس کو لکھتے ہیں اور نہ اس کی کوئی تیاری کرتے ہیں نتیجتاً کبھی کبھی ویڈنگ ٹوسٹ ایک لمبی بورنگ تقریر بن جاتا ہے اور کبھی کبھی اسٹیج فیئر اور گھبراہٹ میں فی البدیہہ بولنے کی بنا پر کچھ ایسی باتیں بھی کہہ دی جاتی ہیں جو موقع محل کے حساب سے مناسب نہیں ہوتیں اور جب بغیر تیاری کے ٹرین چلتی ہے گھبراہٹ میں کہیں کی کہیں نکل جاتی ہے اس لیے اکثر پاکستانی شادیوں میں “ویڈنگ ٹوسٹ” مضحکہ خیز صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر اس رسم کو شامل کیا جا رہا ہے تو بہتر ہے کہ اس کو احسن طریقے سے پلان کیا جاۓ، اپنی تقریروں کو جامع، مختصر اور دلچسپ رکھا جاۓ، ان کی بھرپور تیاری بھی کی جاۓ اور بہتر ہو کہ گھر کا ایک فرد پہلے سب کا لکھا ہوا ایک بار پڑھ لے تاکہ عین موقع پہ کسی بھی قسم کی بد انتظامی یا بد مزگی سے بچا جا سکے۔

رسومات جو بھی ہوں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ مغرب میں شادی کا سارا فوکس “روٹی” یا “کھانا” نہیں ہوتا جو کہ اب پاکستان میں افسوسناک حد تک اس قدر بڑھ گیا ہے کہ لوگ رات دس گیارہ بجے بادل نخواستہ آتے ہیں لفافہ پکڑا کے کھانا کھا کے چلے جاتے ہیں، میزبان اگر وقت کی پابندی کرنا بھی چاہیں، بارات غیرہ وقت پہ آ بھی جاۓ پھر بھی مہمان نہیں پہنچتے، وقت کی پابندی نہ کرنا ایک عمومی رویہ بن گیا ہے جس کی وجہ سے ہر کام میں افرا تفری اور تاخیر ہوتی ہے، ملنا ملانا یا اہتمام سے ایونٹ کی سج دھج میں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کا بھی موقع نہیں ملتا، جب ہم کسی کو بتاتے ہیں کہ یہاں شادی کا بلاوہ شام چھ سات بجے کا ہوتا ہے اور مہمان وقت پہ آ بھی جاتے ہیں تو یہ ان کے لئے خاصی حیرت کا باعث ہوتا ہے، اور یہ بھی کہ اتنی دیر لوگ تقریب میں آ کے کرتے کیا ہیں تو شادی سوشلائزنگ، ملنے ملانے، سننے سنانے، کھانے پینے، ایکٹیوٹیز، اور تفریحات کا امتزاج ہے، آغاز “ایپیٹائزر” سے ہوتا ہے، پھر دولہا دلہن اور ان کے گھر والوں کی باقاعدہ آمد اور اگر بارات کادن ہے تو نکاح اہتمام سے سنا جاتا ہے، عموماً جو بھی امام یا نکاح خواں آتے ہیں وہ نکاح سے پہلے ایک چھوٹا سا بیان شادی اور اس رشتے سے جڑی اہمیت اور میاں بیوی کے حقوق و فرائض کے بارے میں بھی دیتے ہیں، اس کے بعد ویڈنگ ٹوسٹ کا سلسلہ ہوتا ہے اور پھر کھانا ، ساتھ ساتھ دولہا دلہن کے ساتھ تصویریں کھچوانا، ملنا ملانا، فوٹو بوتھ اور گیسٹ بک میں اپنی نیک خواہشات تحریر کرنے کی ایکٹیوٹیز بھی جاری رہتی ہیں اور تقریباً رات گیارہ بجے تک تمام کام نمٹ جاتے ہیں۔
شادیاں جہاں بھی ہوں ان پہ اچھی خاصی لاگت آتی ہے اور لوگ اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق خرچ کرتے ہیں لیکن اگر تقریبات میں جلدی شریک ہو کے اچھا وقت گزارا جاۓ تو کم از کم تقریب کا اہتمام، خرچے اور محنت کی وصولیابی بھرپور طریقے سے ہو جاتی ہے۔

قرۃالعین صباؔ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *