بشکریہ رضوان طاہر مبین
یہ خوبصورت تبصرہ روزنامہ ایکسپریس میں فروری کے مہینے میں شائع ہوا تھا اگرچہ ہم تک پہنچتے پہنچتے اسے تھوڑا وقت لگ گیا لیکن چونکے اس میں پرانی ہونے والی کوئی بات نہیں اس لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، آپ بھی پڑھئے

’پرانی تہذیب اور یادوں کی خوش بو‘
موتیا کی خوشبو، میپل کے رنگ‘ کہنے کو کینیڈا جا بسنے والی قرة العین صبا کی ’آن لائن‘ لکھی گئی مختلف تحریروں کا مجموعہ ہے، لیکن اس کی ورق گردانی کرتے ہوئے نہ صرف آپ کو کراچی شہر کے تہذیبی رکھ رکھاﺅ، ریت رواج اور معاشرت کی جھلک خوب ملے گی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کینیڈا میں مقیم ایک حساس دل پاکستانی کے محسوسات بھی بدرجہ اتم محسوس ہوں گے۔
وہاں پاکستانی کیسے اپنے مختلف تیوہار مناتے ہیں اور تب انھیں کراچی میں اپنے بزرگوں کی سنگت میں بِتائے گئے وہ دن اور عیدیں یاد آتی ہیں، مصنفہ نے ایسی یادوں کو بھی اس کتاب میں سمویا ہے۔
ان اوراق میں آپ کو پچھلی صدی میں برپا وہ فرصت کے زمانے ابھرتے ہوئے نظر آئیں گے، اور اگر آپ بھی گذشتہ صدی کی ایسی یادوں اور ایسے بچپن کے حامل ہیں، تو یقیناً آپ کی پلکیں بھی اپنے بچھڑ جانے والوں کی یاد میں چھلک جائیں گی۔ تب کی گنگا جمنا تہذیب کی یادیں تو اب کتابوں میں ہی مل سکتی ہیں، کیوں کہ وقت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور گزرتے وقت سے ماضی کی مسافت اور دوری میں جتنا اضافہ ہوگا، اتنا ہی وہ روایتیں، وہ طور طریقے، انداز، فقرے، جملے اور وہ والا ’اپنا پن‘ کم سے کم تر ہوتا جائے گا۔ اس کتاب میں ہمیں آج کی تیز رفتار زندگی کی کٹھنائیاں اور گئے وقتوں کی وہ پرچھائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ اس کی سب سے اہم خوبی شمار کی جانی چاہیے۔
قرة العین صبا نے کراچی سے کینیڈا چلے جانے کے بعد ان مضامین کو لکھنا شروع کیا اور جب انھیں پذیرائی ملی، تو پھر اسے ایک کتاب کی صورت میں محفوظ کرلیا۔ کتاب کے مندرجات چھوٹے چھوٹے مضامین پر مشتمل ہیں، اور ہر تحریر کا ایک الگ ’ذائقہ‘ محسوس ہوتا ہے۔ وقت کی تنگی کے شکار قارئین کی سہولت کے پیش نظر یہ انداز بہت اہم رہتا ہے۔ اس سے نہ صرف تحریر کی پیش کش اچھی ہوتی ہے، بلکہ ساتھ ساتھ پڑھنے والا بہت آسانی سے کوئی بھی ایک مضمون منتخب کرتا ہے اور شاید روانی سے پھر بہت ساری تحریریں پڑھتا چلا جاتا ہے، جو شاید ایک موضوع تلے ہوں تو اس طرح نہ پڑھی جا سکتی ہوں۔
لیکھیک نے اپنی یادوں کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور ادبی موضوعات پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔ کتاب میں بہت سی شخصیات کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اردو زبان کے لطف اور زبان وبیان کا ذکر بھی کئی جگہوں پر موجود ہے۔ ساتھ ہی خود اچھی اردو لکھنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے نہ صرف روزمرہ زبان میں درآنے والے انگریزی الفاظ کو اردو میں منتقل نہیں کیا، بلکہ جوں کا توں ہی استعمال کرلیا ہے۔ یہی نہیں بُہتیرے انگریزی میں لکھے گئے موضوعات بھی اس کتاب میں دکھائی دیتے ہیں، یہی کچھ صورت پنجابی زبان عنوانات کی صورت میں بھی انھی صفحات کے درمیان دکھائی دیتی ہے۔
کتاب پر جناب عارفہ زہرا سید جیسی علمی شخصیت کی ستائش اس پر ایک اور مہر ثبت کرتی ہے۔ 448 صفحات پر مشتمل مجلد کتاب کی قیمت 1500 روپے ہے۔ تقسیم کار ’فضلی بک سپر مارکیٹ‘ (0336-2633887) کراچی ہے۔
روزنامہ ایکسپریس
Rizwan Tahir Mubeen