
ایک اتوار کی سست سی صبح کو ایک کتاب کو تھاما اور پھر جیسے ہم کسی کی زندگی کے کئی زمانوں میں سفر کرتے چلے گئے۔
انسان جیسے جیسے سنجیدہ ہوتا جاتا ہے اُسے ماورائی اور تصوراتی، اُمنگوں اور رنگوں سے بھرپور کہانیوں سے زیادہ لوگوں کی اصل زندگی کی کہانیاں، تجربے ، واقعات اور اسباق زیادہ متاثر کرنے لگتے ہیں، ہمیں بھی اب اسی لیے “آپ بیتیاں” اور “جگ بیتیاں” پڑھنے میں زیادہ مزا آتا ہے۔
نوشابہ آپا سے تعارف اسی پیج کے ذریعے ہوا، ایک کمنٹ میں انہوں نے اپنی کتاب کے بارے میں بتایا، ہم نے کہا کہ ضرور پڑھیں گے اور پھر ذہن سے محو ہو گیا، کچھ عرصہ پہلے پھر اپنی کسی پوسٹ پہ انکا کوئی کمنٹ نظر سے گزرا تو اسی وقت ایمیزون سے کتاب آرڈر کر دی اور “ایسا ہوا جینا” ہم تک پہنچ گئی۔
نوشابہ آپا نے پنجاب یونیورسٹی سے ایجوکیشن اور کراچی یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹرز کیا اور تقریباً اٹھائیس سال درس و تدریس سے وابستہ رہیں، لاہور اور کراچی میں ایک وقت گزارنے کے بعد اب امریکہ میں مقیم ہیں۔
سادہ سے انداز میں اُنکی لکھی ہوئی زندگی کی اس روداد نے ہمیں زندگی کے کئی رموز سے آشنا کروایا اور کہیں کہیں کچھ صفحات ایسے تھے جنہوں نے اسی منظر میں پہنچا کے تھوڑی دیر کے لیے سوچوں کو منجمد کر دیا۔
ایک بچی جو گھر میں گیارہویں نمبر پہ پیدا ہوتی ہے، گھر جو بظاھر خوشحال ہے اور جہاں راوی چین ہی چین لکھتا، جو محنتوں اور محبتوں کےبعد بنایا گیا ہے، جہاں امیدیں، خوشیاں اور بے فکری ہے اور پھر والدہ کے اچانک انتقال کے بعد ایک ایسا موڑ آتا ہے جو سب کچھ بدل دیتا ہے۔
گھر کے چھوٹوں میں ایک قدر مشترک ہوتی ہے کہ گھر کا چھوٹا جہاں عموماً سب کا لاڈلا ہوتا ہے اور اس کی ضرورتوں اور خواہشات کا خیال رکھا جاتا ہے وہیں اس پہ گھر اور بہن بھائیوں کو سمیٹے رکھنے کا ایک ایسا ان کہا دباؤ ہوتا ہے جس کے تحت اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ محبتیں جوڑے رکھنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کر سکے، ہر طرح کے حالات میں گزارا کر سکے، اور کسی طرح سب کو خوش رکھ سکے، اس کو محبت تو شاید بے تحاشہ ملتی ہے لیکن توجہ سے وہ اکثر محروم رہتا ہے۔
ایسا ہوا جینا” میں دو تین سبق ایسے تھے جو شائد ہر” ایک کو سمجھنے چاہئیں۔ مثلاً ہم میں سے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پیسہ ہر مسئلے کا حل ہے، یعنی جہاں ضروریات اچھی طرح سے پوری ہو رہی ہوں وہاں کوئی اور پریشانی نہیں ہوتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ہر ایک کے لیے الگ چیلنجز ہیں، کہیں کہیں رشتوں کی ڈور اتنی گنجلک ہو جاتی ہے کہ سلجھائے نہیں سلجھتی، کہیں کہیں تنہائی اتنا بڑا مسئلہ ہوتی ہے کہ کوئی دولت کوئی خوشحالی اُسے پر نہیں کر سکتی۔
کتاب کے اُن صفحات میں جہاں نوشابہ آپا نے اپنے اُن دنوں کے بارے میں لکھا ہے جب وہ اس گھر میں تنہا تھیں جہاں ایک وقت میں والدین اور گیارہ بہن بھائی رہا کرتے تھے تو ایک لمحے کے لیے سوچ کے ہی تنہائی ہمارے اندر تک اُتر گئی۔ ستر اسّی کی دہائی اور ایک یونیورسٹی کی لڑکی، پڑھنے بھی جا رہی ہے، شام کو اپنا وقت بھی اچھا گزارنے کی کوشش کر رہی ہے، سودا سلف اور گھر بھی دیکھ رہی ہے۔ اگرچہ نیچے کرائے دار آباد تھے لیکن بڑے سارے گھر میں یوں اکیلا رہ کر پورے گھر کو سنبھالنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ ایک بات اسمیں یہ اچھی بھی لگی کہ شاید اسوقت کے پاکستان میں یہ ممکن تھا، بدقسمتی سے ہماری نسل نے تو اتنا محفوظ پاکستان کبھی نہیں دیکھا۔
کتاب میں ایک بہُت اہم سبق یہ بھی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں کو اپنے والدین سے شکوے شکایات ہوتی ہیں، ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہمیں اس نہج پہ پروان چڑھایا جاتا یا یوں توجہ دی جاتی تو ہم شاید مختلف ہوتے لیکن دراصل ہر بچہ اپنی فطرت اور قابلیت پہ پیدا ہوتا ہے اور اپنی راہیں بناتا ہے، اس کے بعد قسمت اور تقدیر کی باری آتی ہے، زندگی دراصل ایک کومبو ہے یعنی ان سب کا امتزاج۔ نوشابہ آپا نے جیسے اپنے اور اپنے بچوں کے بارے میں لکھا اس نے ہمیں کافی کچھ سوچنے پہ مجبور کیا۔
تیسرا سبق وہی کہ گھر مکینوں سے ہوتے ہیں، اکثر لوگ زندگی بھر یہ سوچ کے خوش نہیں رہ پاتے کہ گھر کرائے کا ہے، دوڑتے رہتے ہیں کہ گھر ہے تو چھوٹا ہے تھوڑا اور بڑا ہونا چاہیے، ایک خواہش کے بعد دوسری خواہش اور پھر پتہ چلتا ہے کہ خوشی کشید کرنے کا وقت ہی نکل گیا۔ مکان اور چیزیں بھی بہُت ضروری ہیں لیکن اُنہیں ذات کا محور نہیں بنانا چاہیے، اُن سے اپنی “ساری” خوشیاں منسلک نہیں کرنی چاہئیں۔ لمحہ لمحہ جیئیں اور زندگی محسوس کریں۔
وہ منظر جہاں نوشابہ آپا اپنے والدین کے گھر کو خالی کر رہی ہوتی ہیں اور برسوں سے جمع چیزوں، دستاویزت اور خطوں کو نظر آتش کر رہی ہوتی ہے ہمیں ایک لمحے کے لیے اسی گھر میں لے گیا اور ایک یاسیت سی اندر اُتر گئی، یہ ہم سب کے لیے ایک یاد دھیانی ہے۔
لب لباب یہ کہ کتاب میں ایک زندگی ہے، اور جب یہ کہا جاتا ہے کہ کتاب پڑھنے والے ایک زندگی میں کئی زندگیاں جیتے ہیں تو اسکا مطلب بھی یہی ہے کہ پڑھیں، محسوس کریں، اور سیکھیں۔
“ایسا ہوا جینا” ایمیزون پہ موجود ہے اور آپ بڑے آرام سے آرڈر کر سکتے ہیں, ہم نے اپنے ایمیزون پہ بھی اسے ایڈ کر لیا ہے، لنک کمنٹ میں موجود ہے۔
بس ایک بات جس سے تھوڑی سی اُلجھن محسوس ہوئی وہ یہ ہے کہ کتاب اُردو کی طرف کے بجائے انگریزی کی طرف چھپی ہے، یہ غالباً پبلشنگ کا مسئلہ ہے کیونکہ کتاب امریکہ میں ہی چھپی ہے لیکن خیر کچھ صفحات کے بعد یونہی پڑھنے کی عادت ہو گئی۔
رائٹر کی اجازت سے کتاب کے دو باب یہاں شیئر کر رہی ہوں۔
نوشابہ آپا! اتنی پیاری کتاب لکھنے اور اپنے تجربات ہمارے ساتھ شئیر کرنے کا شکریہ۔
خوش رہیں
سلامت رہیں 💕
نوٹ:
پاکستان میں آپ یہ کتاب اس واٹس ایپ نمبر پر آرڈر کر سکتے ہیں۔
±92 303 4188872
قرۃ العین صبا
#khayalbysaba

