مور بلیندا- نیلم احمد بشیر

کل نیلم احمد بشیر صاحبہ کی کتاب “مور بلیندا” کی تقریب رونمائی میں شرکت کا موقع ملا اور کتاب کے ساتھ ساتھ مشرق اور مغرب میں لکھنے پڑھنے کے ماحول، کہانی بننے کے عمل، پاکستان کی تاریخ، ادیب، ادب، احمد بشیر صاحب کی خدمات اور دیگر موضوعات پہ گفتگو سننے کو ملی۔

تقریب کی صدارت نسیم سید صاحبہ نے کی اور دیگر مہمانوں کے علاوہ ڈرامہ “پری زاد “سے شہرت پانے والے اداکار اور قصّہ گو “عدیل افضل” اور انڈین گلوکار “ربی “ بھی موجود تھے تقریب میں نیلم آپا کے بارے میں تعارف اور تحسین کے ساتھ ان کے افسانوں کا کچھ حصّہ بھی پڑھا گیا۔

ہمارے پاس ان کی ایک کتاب “طاوس فقط رنگ” پہلے سے موجود تھی جس پہ ہم نے ان سے دستخط لئے اور جسے دیکھ کر وہ بہت خوش بھی ہوئیں، ایک ادیب کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات کوئی نہیں ہوتی کہ اس کی کتاب کو اہمیت ملے کہ کسی نے بلخصوس وہ پاکستان سے کینیڈا منگوائی ہو۔
آخر میں انھونے ہلکے پھلکے ماحول میں اپنی طنز و مزاح سے پر شاعری اور شہرتِ عام پانے والا امن کا نغمہ “گوانڈنے گوانڈنے” بھی سنایا۔

گفتگو کی کچھ باتیں جو یاد رہ گئیں

  • اگر کسی میں creativity یعنی تخلیق کا کیڑا ہو تو وہ اس سے کچھ نہ کچھ کروا کے دم لیتا ہے۔
  • کہانی کہنا یا لکھنا شعوری کوشش نہیں ہوتی مجھے لگتا ہے کہ جیسے لہریں آ رہی ہیں اور ٹکرا رہی ہیں اور میں لکھ رہی ہوں۔
  • پاکستان کے مطالعے کے طالب علموں کے لیے بہت ضروری ہے کہ احمد بشیر صاحب کی کتابیں پڑھی جائیں، انھونے بحثیت ایک محب وطن پاکستانی بہت کچھ لکھاجو کسی اور نے نہیں لکھا، وہ شہرت کے متلاشی نہیں تھے اس لئے ٹی وی وغیرہ پر نہیں دکھائی دئیے۔
  • لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ابا بہت بڑے لکھاری تھے تو ہم ان کو اپنا لکھا دکھاتے ہوں گے یا وہ ہماری مدد کرتے ہوں گے لیکن ہماری تو ان کے سامنے ہمت ہی نہیں ہوتی تھی کہ اپنا لکھا ان کو دکھائیں بلکہ جب میری پہلی کتاب چھپی تو میں کی امی سے کہا کہ ابا دکھا دیں۔ ابا نے جب تحریر کی تعریف کی تو بہت خوشی ہوئی۔
  • پاکستان اور انڈیا کے معاشرے میں مغربی زندگی کی نسبت تکلیفیں اور پریشانیاں زیادہ ہیں جن کی چبھن یا تلخی کہانی کہلواتی ہے، آرام دہ ماحول میں ویسی تخلیق نہیں ہو سکتی، جنگلی پھول کا حسن مختلف ہوتا ہے ، لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں رہتے ہیں، آپ کے پاس آنکھیں ہوناچاہییں آگے پیچھے ہر طرف، ایک دل ہونا چاہیے، ایک دماغ ہونا چاہیے تو کہانی آ ہی جاتی ہے۔

قرۃالعین صبا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *