قصہ سبز ٹائی کا (صاحب کی سالگرہ پر خصوصی تحریر)

سنا ہے کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے، ہماری جو شامت آئی تو ہم صاحب سے نادانی میں ایک معصوم سی فرمائش کر بیٹھے ۔

ہوا کچھ یوں کہ صاحب کی بھتیجی کی شادی تھی، دولہا والے اوٹوا میں تھے، شادی مسی ساگا میں انجام پا چکی تھی اب سب کو ولیمے میں شرکت کے لیے اوٹوا جانا تھا۔
تیاریاں جاری تھیں کہ ایک دن پہلے ہم نے بڑے چاؤ سے بنوائی سبز ساڑھی کو نکال کے پیکنگ کے لئے سامنے رکھا تو صاحب کے سوٹ کو دیکھ کر اچانک ہی اک خیال آیا اور جو کسی کیڑے نے کاٹا تو خیال لفظوں میں ڈھل کے لبوں سے بھی پھسل گیا۔

سنئیے! آپ کے پاس ساڑھی کی میچنگ کی کوئی سبز ٹائی ہے کیا؟اچھی لگے گی۔۔

آپ میاں بیوی پہ کتنے ہی لطیفے بنا لیجیے جن میں بیگم کو میاں پہ حاوی دکھایا جاتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بیگم کا اپنا کوئی آیئڈیا میاں کے دماغ تک پہنچانا اور پھر اس کا شرفِ قبولیت پا جانا کسی جنگی محاز سے کم نہیں ہوتا لیکن اس سے بھی بڑا محاز وہ ہوتا ہے جب وہ بات حضرت کو خود بھا جاۓ پھر آپ کی خواہش اور فرمائش ایک طرف، آپ چاہے اس سے لاکھ دستبردار بھی ہو جائیں لیکن اب آندھی ہو یا طوفان وہ بات ہو کر رہے گی اور یہ آئیڈیا صاحب کو بھا گیا تھا۔

اب ٹائی کی تلاش شروع ہوئی جو تین جگہ دیکھنے پہ بھی نہیں ملی
پھر امیزون کا خیال آیا ، جو گویا کوئی جادو کی ڈبیا ہے جس سے سوئی سے لے کر ہاتھی تک ہر چیز گھر بیٹھے منگوائ جا سکتی ہے، شومئ قسمت کہ امیزون پہ ناصرف سبز ٹائی کی ظالم قسم کی میچنگ مل گئی بلکہ ساتھ میں کفلنگ وغیرہ کا پورا سیٹ بھی تھا، ایک مسئلہ یہ تھا کہ ڈلیوری اگلے دن میسر تو تھی لیکن ہمیں کیونکہ اگلے دن بارہ بجے نکل جانا تھا تو رسک تھا کہ ٹائی اس سے پہلے پہنچ بھی پاۓ گی یا نہیں، ہم نے کہا بھی کہ رہنے دیں لیکن وہ صاحب کا گویا وہ حال تھا کہ
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

امیزون پہ اسٹیٹس چیک کیا تو چوبیس گھنٹے میں ڈلیوری تھی، رسک موجود تھا، ہم نے کہا کسی دوست رشتہ دار سے پوچھ لیں ہو سکتا ہے کہ سبز ٹائی نکل آۓ لیکن بس انھیں وہی ٹائی بھا گئی تھی۔مزید سرچ پہ ٹائی ایک اور اکاونٹ پہ نظر آئی جس میں دورانیہ کم تھا، اب پہلا آرڈر کینسل کر کے دوسرا کر دیا گیا اور صاحب مطمئن ہو گئے کہ ٹائی بارہ بجے تک پہنچ جاۓ گی۔

اگلی صبح کئی بار دروازے پہ جھانکا گیا لیکن ٹائی ندارد، یہ امیزون بھی بڑی ناقابلِ اعتبار چیز ہے، ہمیں یہ شوق اور انتظار دیکھ کر قلق ہوا کہ خواں مخواہ ہی بیکار کی فرمائش کر دی، اب بارہ بجنے کو تھے سب رشتہ داروں کو ایک ساتھ نکلنا تھا اور ہوٹل میں سب کی بکنگ اور چیک ان ٹائم بھی ایک تھا، بچے ایکسائیٹد تھے سو اس وقت ایک ٹائی کے لئے اپنا پروگرام بدلنا بالکل بھی مناسب نہیں تھا اور حال یہ تھا کہ تیاریوں کے بجاۓ صاحب کا سارا دھیان امیزون پہ ٹائی کا اسٹیٹس دیکھنے اور دہلیز چیک کرنے پر تھا، اب ہمیں اس “ٹائی” سے الجھن شروع ہو گئی تھی۔

بارہ بج گئے، نکلنے کا وقت آ گیا لیکن افسوس کہ ٹائی نہیں پہنچی، بادل نخواستہ سب گاڑی میں بیٹھ گئے، امیزون کی شان میں کچھ بڑبڑاہٹیں بھی ہوئیں اور سفر شروع ہوا۔
ہم اس وقت تک اپنی خواہش سے مکمل دستبردار ہو چکے تھی جو جانے کس کمزور لمحے کی زد میں سرزد ہو گئی تھی لیکن دوسری طرف اب بھی آگ برابر لگی ہوئی تھی جس پہ بیٹے صاحب کی تجویز نے مزید تیل ڈال دیا، اب تک بچے بھی ابّا کی لگن اور شوق بھانپ چکے تھے۔
ابّا! ایک کام ہو سکتا ہے، آپ ایسا کریں کہ ایک اور آرڈر اوٹوا کی ہوٹل کے ایڈریس پہ کر دیں، ولیمہ تو کل شام کو ہے جب تک تو پہنچ ہی جاۓ گی پھر ادھر والا واپس کر دیجیے گا۔
ابّا اگر بادشاہ سلامت ہوتے تو یقیناً ایسی کام کی تجویز پہ بیٹے کو اپنا تخت و تاج سونپ دیتے یا کم از کم خزانوں کے منہ تو کھول ہی دیتے، اسی وقت گاڑی میں ہی اسی سبز ٹائی کا تیسرا آرڈر کیا گیا اور باقی راستہ سکون اور ٹائی پانے کی امید کے سرور میں گزرا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

اوٹوا پہنچ گئے شام کو کچھ گھومنا پھرنا ہوا پھر اگلے دن اگرچے ہمارا باقی پارٹیوں کی طرح آرام کا ارادہ تھا لیکن صاحب بضد کہ اوٹوا یونیورسٹی اور گرد و نواح دیکھ کر آتے ہیں، اتنے میں پتہ چلا کہ بھتیجے کے دوستوں کا ایک گروپ اوٹوا آنے والا ہے، ان کے چشمِ تصور میں پھر امیزون کا لفافہ آیا جو یقیناً اب گھر کی دہلیز پہ پڑا ہوگا، پتہ چلا کہ وہ گروپ بھی نکل چکا ہے، اب ہمیں ٹائی پر اور اس سے بھی زیادہ صاحب کے اس قدر شوق پہ غصہ آنا شروع ہو چکا تھا اور اپنی فرمائش پہ شدید پچھتاوہ کہ بھئی آجاۓ تو پہن لیں اور نہیں ہے تو نہیں سہی کوئی ولیمے سے نکال تھوڑی دے گا لیکن مرد حضرات جب آپ کا ضبط آزمانے پہ آجائیں تو پھر چاہے وہ ایک سبز ٹائی کیوں نہ ہو ضد بن کے آپ کا خون جلاتی ہے۔

گرمی خاصی تھی یونیورسٹی گھوم کےُآۓ تو تھک چکے تھے ارادہ تھا کہ آرام کیا جاۓ تاکہ شام کو تقریب میں تر و تازہ ہو کے شرکت کر سکیں لیکن جناب قسمت میں آرام نہیں تھا، اسٹیٹس سے پتہ چلا کہ ٹائی ڈلیور کی گئی تھی لیکن کسی وجہ سے آرڈر واپس چلا گیا، اب تو گویا کمرے میں بھونچال ہی آگیا، ہوٹل کے ریسیپشن پہ جا کے معلومات کی گئی کہ بھئی ٹائی تو نہیں آئی، اب ہمیں ٹائی سے نفرت ہو گئی تھی ، لاکھ کہا کہ آرام کریں (اور ہمیں بھی کرنے دیں)
Enjoy the moment
ہوٹل کے آرام دہ بستر کے مزے لیں، پزا کھائیں، سو جائیں
لیکن نہیں بھئی۔۔

اب سب سے صبر آزما معاملہ آیا یعنی امیزون کی کسٹمر سروس کو نمبر ملایا گیا، اور فون اٹھاتے ہی اندازہ ہو گیا کہ کال کینیڈا میں نہیں انڈیا میں ملی ہے، اگر آپ کو اپنے صبر اور برداشت کے اسکلز پہ شک ہو تو کسی ایسی کسٹمر سروس پہ بات کرلیں جو انڈیا یا پاکستان آوٹ سورس کر دی گئی ہو، سروس دینے والا بلاوجہ بدیسی لہجہ بنا کے ٹوٹی پھوٹی انگریزی بول کے آپ پہ دھاک بٹھانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ آپ کی پراڈکٹ کی بابت وہ معلومات دینے کی کوشش کرے گا جو اس کو سرے سے ہوتی ہی نہیں، اسپیکر آن تھا اور ضبط کا امتحان تھا، ادھر صاحب منت سماجت، غصہ، شکایت ہر حربہ استعمال کرنے کی کوشش کریں کہ ٹائی کا سراغ مل جاۓ ادھر وہ ہر تھوڑی دیر بعد انھیں شانت کرے اور ہولڈ کروا دے، اور ادھر ہم کمبل سر تک اوڑھے اس لمحے کو کوسیں جب ٹائی کی فرمائش کی تھی، پتہ چلا کہ ٹائی آئی تو تھی لیکن لانے والا ہوٹل کا ایڈریس دیکھ کے کنفیوز ہو گیا اور یوں یہ تاریخی آرڈر واپس چلا گیا، اب صاحب کا بس نہ چلے کہ وہ جگہ پتہ کر لیں جہاں سے خود جا کے اپنی ٹائی لے آئیں اور ہم لاکھ اشارے کریں کہ وہ انڈیا میں بیٹھا ہے اسے یہاں کی کچھ خبر نہیں،
آخر ہمارا پیمانہ لبریز ہو گیا اور ہم آرام پہ دو حرف بیچ کر کمبل پھینک کر اٹھ بیٹھے، استری نکال کے شام کی تیاری شروع کر دی، بچے پہلے ہی موڈ بھانپ کے کمرے سے ادھر ادھر ہو چکے تھے، صاحب نے جو ہمیں ساڑھی پہ زور زور سے دبا دبا کے استری کرتے دیکھا تو فون سمیت باہر جانے میں عافیت جانی۔

خواتین کو ایسے وقت میں میکے والے یاد آتے ہیں، اور بہت کچھ بھی دماغ میں آتا ہے جو دماغ تک رہے تو بہتر ہے، ہمیں بھی اپنے بھائی بھابی یاد آۓ جنہوں نے محبت سے یہ ساڑھی بھیجی تھی، کاش اس کا رنگ کوئی آسان سا ہوتا جس کی ٹائی گھر میں موجود ہوتی تو شائد یہ سب نہیں ہوتا، اس کے بعد ہم چھوٹے یحیی کو لے کر پول کنارے آ بیٹھے کہ شائد کچھ ٹھنڈے ہو جائیں۔

ولیمے کی تیاری شروع ہو گئی، اب دونوں طرف جامد خاموشی تھی، صاحب اپنے سوٹ میں ملبوس تھے، ٹائی کس رنگ کی تھی اس سے اب ہمیں قطعاَ دلچسپی نہیں تھی، ہم اپنی ساڑھی کا پلو سنمبھالتے باہر نکلے تو آس پاس سے کچھ ایسے جملے سننے کو ملے

اچھا۔۔۔۔ جبھی(ہیں؟)
اوہ اس لئے چھوٹے چچا گرین ٹائی ڈھونڈ رہے تھے

ہم نے خشمگیں نگاہوں سے صاحب کو دیکھا،
“وہ میں نے سوچا شائد کسی کے پاس گرین ٹائی ہو” انھونے تھوک نگلتے ہوۓ جواب دیا
اف!(جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے)
آخری کوشش کے طور پہ پورے ہوٹل میں منادی کر دی گئی تھی، حد ہے بھئی۔۔

شادی میں شرکت ہوئی واپسی پہ گھر کے دروازے پہ سبز ٹائی کا پیکٹ ہمارا منہ چڑا رہا تھا۔
دو ہفتے بعد محلے میں شادی تھی فرمائش ہوئی وہی گرین ساڑھی پہن لو، ہم نے کہا کہ اب محلے کی شادی میں یہ شوخ رنگ کیا پہنیں، نہیں بہت اچھی لگی تھی پہن لو، تھوڑی دیر بعد دیکھا تو فاتحانہ انداز سے سوٹ پہ سبز ٹائی لگا کر مسکرا کے سیڑھیاں اتر رہے تھے، جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ مار لیا ہو، گرین ساڑھی، گرین ٹائی میچنگ میچنگ
زرا ہماری ایک فوٹو تو لے لینا!

یہ مرد لوگ اور ان کی فتوحات، ہماری ہنسی چھوٹ گئی۔

Happy Birthday to the Most annoying and loving person!

ہمیں اپنی دعاوں میں یاد رکھیں🤲

قرۃالعین صباؔ

BirthdaySpecial

urdublog

khayalbysaba

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *