ڈیلس ڈائری

الحمدللہ خیریت سے ڈیلس پہنچ گئے ہیں، ملٹن اونٹاریو سے ڈیلس ٹیکساس تقریباً بائیس گھنٹے کی ڈرائیو ہے یہ سفر ہم نے تین دن میں طے کیا۔ شہر کی فضا میں کچھ کچھ کراچی کی کیفیت ہے، کیونکہ یہ گرم علاقہ ہے تو سدا بہار کے پھول ، سبز باڑیں اور شجر بھی کچھ جانے پہچانے سے لگتے ہیں جیسے بچپن ان کے آس پاس گزرا ہو۔

گرمی کے بارے میں سنا تھا کہ لاہور جیسی پڑتی ہے اور کسی ایسے علاقے سے آنا جہاں گرمی کے دو تین مہینوں میں بھی کچھ ٹھنڈے ٹھار دن آجاتے ہیں ذرا گھبراہٹ کا موجب تھا لیکن جب شام میں ہولے سے چلی جب بادِ نسیم تو بیمار کو قرار آگیا کہ گرمی شدید ہے لیکن لاہور کی طرح حبس زدہ نہیں، دھوپ چمکدار ہے لیکن سچ کہیں جہاں گرمی سے پرانی یادیں تازہ ہو رہی ہیں وہاں ایسا بھی لگ رہا ہے جیسے ایک عرصے بعد ہڈیاں وٹامن ڈی کی اتنی وافر ڈوز پہ شکر گزار ہو رہی ہوں، یوں بھی جہاں بجلی پانی کے مسائل نہ ہوں اور ہر جگہ اتنے شدید اے سی چل رہے ہوں وہاں گرمی کی شکایت کرتے ہوۓ کچھ شرم سی آتی ہے۔

پرندوں کی آوازیں زیادہ سنائی دے رہی ہیں یہ بھی موسم کی بدولت ہے، کینیڈا کی طرح جگہ جگہ جھیلیں، اونچے نیچے راستے، پہاڑیاں اور خوبصورتی تو نہیں لیکن کھلا کھلا یہ شہر بالکل بنجر بھی نہیں ہے۔ ہر گھر کے آگے پیچھے ہریالی اور پھول اور گھاس کے خطے موجود ہیں۔لگ رہا ہے soccer اور ہماری زبان میں فٹ بال بہت کھیلی جاتی ہے اسی لئے جگہ جگہ اسٹیڈیم اور فیلڈز دکھائی دے رہی ہیں ۔

اپنوں کی اور اپنے جیسوں کی بہتات ہے، مسجدیں بہت زیادہ ہیں اور بے حد فعال ہیں۔

لوگ پوچھ رہے ہیں کہ دونوں جگہوں کا فرق بتائیے، تو ابھی تو اس شہر میں ہمارا ہنی مون پیریڈ چل رہا ہے اور ہنی مون کے دنوں میں تو کہتے ہیں کہ کتاّ بھی بھونکے تو سرُ میں بھونکتا ہوا محسوس ہوتا ہے پھر ابھی گھر بھی ایر بی این بی کی بدولت عارضی ہے اور سامان پہنچنے میں وقت لگے گا تو اپنی جگہ پہ ایک اچھا وقت گزارے بغیر کوئی بھی تقابلی جائزہ لینا صحیح نہیں سو تھوڑا انتظار کیجیے ، البتہ کہانیاں بہت ساری جمع ہو گئی ہیں لیکن سنانے کا وقت نہیں مل پا رہا، انشااللہ آہستہ آہستہ گوش گزار کریں گے۔

ایک بات بہت خوبصورت ہے کہ اللہ نے دوستوں کی صورت جو رزق یہاں ہمیں عطا کیا اس نے نئی جگہ پہ تنہائی کا احساس زائل کر دیا ہے، صاحب کے زمانہ طالب علمی کے دوست اور انُ کا پورا خاندان پہلے ہی دن ہمارے لیے اکھٹا ہو گیا، جیسے اپنوں سے دور اپنے لوگ، بہت اچھا لگا۔ کچھ ہمارے کینیڈا کے دوست جو اب یہاں رہتے ہیں اور کچھ وہ پیارے لوگ جو اس بلاگ کا تحفہ اور “خیال فیملی” کاحصہ ہیں، سب نے بھرپور خوش آمدید کہا، ہر قسم کی مدد کی پیشکش کی اور اپنے دروازے بھی وا کر دیے، اور کیا چاہیے سو یہ نہیں کہہ سکتے کہ
اجنبی شہر کے اجنبی راستے میری تنہائی پر مسکراتے رہے
بلکہ بقول شاعر
نیا تصورِ دیوار و در بھئ اچھا ہے
وہ گھر بھی ٹھیک تھا لیکن یہ گھر بھی اچھا ہے

الحمدللہ

canadatousa

dallastexas

urdublog

khayalbysaba

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *