بدلتے زمانے کی الجھی ڈوریاں

اماں مجھے آپ کی طرح  نہیں  بننا!

پانچ  سالہ  بیٹی  کی یہ بات کوئی  بھی ماں  ہوتی  اس کی  محویت توڑنے کے  لئے  کافی  تھی، ہمارا  ہاتھ  بھی کچن میں کام کرتے  کرتے رک  گیا۔

کیا  مطلب؟  

I don’t want to just cook all day

ایک   لمحے  کے لئے غصّہ تو بہت  آیا  اور  اگر  تھوڑا  تحمل سے کام  نہ  لیتے تو فوراً شروع بھی  ہو جاتے کہ یہ  صلہ  دیا  ہے ہمارے صبح صبح  پراٹھوں  کے ناشتوں ، ہاتھ کی تھپی  روٹیوں ، نہاریوں، بریانیوں اور  ڈبہ پیک چیزوں کے بجائے انواع اقسام کے اسکول لنچز کا؟

 لیکن ہم سوچ میں پڑ  گئے کہ  یہ بچی  چھوٹی  عمر  سے  ہی  تھوڑی  فلاسفر نما واقع  ہوئیتھی اس لئے  ہم اس کی باتوں  کو بھی سنجیدہ لیتے تھے ، ایک بار پڑوس  کا ایک بچہ  کھیلنے آیا  تھا اس نے  بیٹے  سے پوچھا  تم کس گریڈ  میں ہو؟بیٹے نے جواب دے  دیا ، ان محترمہ نے اسی  سال اسکول شروع  کیا تھا، جب ان سے  سوال کیا  گیا تو جواب آیا 

Oh! I just started my journey

ہم دوسرے  کمرے میں سنتے ہوئے  ہنس پڑے۔

سو اس نکتے پہ بھی لمحہ بھر سوچا تو یہی خیال آیا کہ اس کے   سامنے اماں بس سارا دن کھانے  اور پکانے  کی فکروں میں ہی لگی  رہتی  ہے سو اسے ہمارا بس یہی ایک رول پتہ ہے جب کہ یہ یہاں کی بچی ہے اور ہمارے دور  کی نسبت جب زیادہ تر امیاں گھر تک ہی محدود رہتی تھیں اسے اپنے  آس پاس اسکول آتے جاتے، پڑھتے لکھتے  خواتین  مختلف  کرداروں  میں نظر آتی ہوں گی جن سے یہ متاثر  بھی ہوتی ہوگی خیر اس کے کچھ عرصے بعد ایک جگہ جاب شروع کی کام گھر سے کرنا تھا اور یہی سب سے اچھی بات تھی کہ بچوں کے روٹین پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس وقت ورک فرام ہوم نایاب بات تھی۔ جب گھر میں اس سلسلے میں بات ہوئی تو بچوں  کا رویہ حیران کن تھا، بچوں اس وقت پہلی بار پتہ چلا تھاکہ اماں انجنئیر ہیں، بیٹی کی تو  آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں 

You are an Engineer?

دوسرے دن اپنی کلاس میں بھی سب کو بتا کر آئی، اسوقت ہمیں بھی احساس ہوا کہ اگرچے ہم تھوڑے تھوڑے عرصے میں کچھ کچھ پڑھائی اور کام کرتے رہتے تھے لیکن ماں بن کے گھر اور بچوں کی مصروفیت کچھ ایسی رہی کہ کبھی بچوں کو بتا ہی نہیں پاۓ کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں اور یہ خالصتاً ہماری اپنی چوائس تھی۔

پیسے کسے اچھے نہیں لگتے، پرسنل گروتھ، اچھا سا جاب ڈیسگنیشن، ٹشن سے آنا جانا سب آپ کو ایک الگ ہی اعتماد دیتا ہے اور جس ملک میں سب کام کرتے ہوں اور ایک فرد کی کمائی میں ضرورتوں کے بعد کھیچاتانی چلتی ہو وہاں تو ضرورت بھی ہوتی ہی ہے لیکن شروع کے سالوں میں بچوں کو کہیں چھوڑنے کا بالکل دل نہیں مانا دوسرا ہمہ وقت یہ خیال بھی ذہن میں رہتا کہ انھیں جس طرح کا ہمیں بنانے کی چاہ ہے وہ انھیں کوئی اور کیسے بنا سکتا ہے، یہاں یہ بات نوٹ کر لیں کہ ہر ایک کے اپنے حالات اور  اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ صحیح یا غلط ہوں، یہ سب تو ایک وقت گزارنے کے بعد پتہ چلتا ہے اور ہر انسان اپنا سب سے بڑا محتسب ہوتا ہے یعنی ہم سب خود جانتے ہیں کہ ہم نے کہاں ٹھیک کیا اور کیا غلط ہو گیا پھر چاہے آپ نے کیریر پہ توجہ کے ساتھ بچوں کی تربیت کی ہو یا گھر بیٹھ کر اور یا پھر بس مست مگن گزار دی ہو اور دونوں ہی کام نہیں کیے ہوں خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔

بات اپنی نانی دادی کے زمانے سے شروع  کرتے ہیں جب خواتین  مکمل  طور  پر  گھروں  میں محدود تھیں  کوئی  کوئی چند  جماعتیں پڑھ لیتا تھا اور سو میں سے کوئی ایک دو خواتین آعلیٰ  درجے کی تعلیم حاصل  کر پاتی  تھیں، جب سل  پہ مسالے  پسا کرتے تھے  ، نمک  گھروں  میں کوٹا  جاتا تھا، عورت  کی قابلیت کو اس کے  پکاے ہوئے  کھانوں  سے جانچا جاتا تھا، سلائی  کڑھائی، بُنائی سگھڑاپے کے پیمانے تھے, گھروں میں دس گیارہ بہن بھائ ہوتے تھے، بڑوں کو والدین سمبھال لیتے تھے اور چھوٹوں کو بڑوں کے حوالے کر دیا جاتا تھا سادگی یا غربت تھی، سب جیسے تیسے پل ہی جاتے تھے۔

ہماری امیوں اور اس کے بعد کا دور آیا تو تھوڑا سا بدلاو آیا کہ لڑکیاں میٹرک انٹر کرنے لگیں، کچھ گرلز کالج گریجویشن بھی کر لیتی تھیں لیلن یونیورسٹی بڑی بات تھی، اور ہمارے دور تک بھی بڑی بات تھی، آس پاس بھی ایسے لوگ موجود تھے جو یونیورسٹی کو لڑکیوں کی لیے نامناسب جگہ سمجھتے تھے، پھر کوئی شوق اور لگن سے پروفیشنل تعلیم حاصل کر بھی لے، ڈاکٹر انجینیر بن بھی جاۓ تو بھی اس کی زندگی کا مقصد ِواحد شادی اور گھر ہی تھا، وہ کام کرے گی یا نہیں یہ پہلے ماں باپ، پھر شوہر اور سسرال والوں پہ منحصر تھا اور صحیح بات تو یہ ہے کہ اگر رشتے کے وقت سسرال والے لڑکی کے نوکری کرنے کا ذکر کر دیں تو انھیں لالچی کہا جاتا تھا ، بیشتر  لڑکیوں کی خواہش بھی یہی ہوتی تھی کہ وہ شادی کے بعد سکون سے گھر سمبھالیں، اس میں بھی دو راۓ نہیں کہ باہر کی فضا اپنے ملک میں لڑکیوں کی لیے سازگار نہیں تھی۔

پچھلے دور کی خواتین میں ایک بات جو ہمیشہ کامن تھی وہ تھی مالی طور پہ مکمل طور پہ گھر کے مرد پہ انحصار، سب لوگ ایک سے نہیں ہوتے لیکن زیادہ تر جگہوں پہ مرد حضرات اپنے گھر کی خواتین کو پیسوں کے متعلق کسی معاملے میں شریک نہیں کرتے بلکہ اکثر  گھر  کا خرچہ بھی اپنے ہی تسلط میں رکھتے ہیں یا پھر خرچے کی مد میں بھی جو کچھ دیا جاتا ہے اس پہ پورے مہینے جھڑپیں چلتی رہتی ہیں، مالی فیصلوں میں باہم مشورہ نہ کرنا یا چھپانا جہاں عورتوں کو ہمیشہ ایک ذہنی اذیت میں مبتلا رکھتا ہے وہیں اگر مرد اس سلسلے میں مشکلات کا بھی شکار ہے تو عورت کبھی نہیں جان پاتی اور نتیجتاً میاں کو بے جا خواہشات پوری کرنے کی مشین ہی سمجھتی رہتی ہے، نقصان دونوں کا ہوتا ہے لیکن یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔

اگر آپس کے تعلقات بھی ٹھیک نہیں یا خاتون کے لیے روٹی کپڑے کے بدلے بس ذلّت ہے تو بھی وہ ساری زندگی ایسے ہی گزار دیتی تھی  کہ کماے گی کہاں سے۔

نئی نسل کا دور بے حد مختلف ہے، اس نسل کو دنیا ایک نئے زاویے سے دیکھنے کو ملی، انہونے انٹرنیٹ  کی دنیا  میں  آنکھ  کھولی  ، ایک خطے کی باتیں دوسرے خطے میں پہنچیں، یہ بھی سمجھ میں آیا کہ عورت اگر کسی اچھے پروفیشن میں کمانے لگے تو روٹی ہانڈی کے لئے ملازم بھی رکھ سکتی ہے، اگر  گھر  میں عزت  نہیں  مل  رہی  ، ذہنی  جسمانی  تشدد ہے ، پیسے  پیسے  کی محتاجی  ہے تو ایسے رشتے  کو لات  بھی ماری  جا سکتی ہے اور اپنے بل  پہ کمایا  جا سکتا ہے، جب  لوگ کہتے  ہیں کہ  اب طلاق  کا رواج بڑھ  گیا  ہے تو اسکی  وجہ  بھی یہی  ہے کہ آج کی لڑکی  کو دو وقت کے کھانے  کے لئے مصیبت  زدہ  زندگی  گزارنے  کی ضرورت  نہیں  رہی پھر بھی کئی ہیں جو بچوں اور حالات کے تحت وقت گزار لیتی ہیں۔

  لیکن  دوسری  طرف کیا ہوا کہ اسی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بدولت دنیا  کی چکا چوند بھی دکھائی دی ، ویکیشنز  ، ڈیسٹینیشن ویڈنگز، برانڈز اور دیکھا دیکھی خواہشات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا، ترقی  کو صرف پیسے  سے جوڑ  دیا گیا، بڑا  گھر نئے ماڈل کی  گاڑی، انٹرنشنل ٹرپس، کھانا پینا، اب یہاں خواتین  اپنی ترقی، گروتھ ، کچھ کرنے کے احساس سے سرشاری، اعتماد اور مالی  خود انحصاری یا ضرورت کے کے تحت  گھر سے نکلنے کے بجاۓ خواہشوں کے پیچھے چل پڑیں جس کا کوئی انت نہیں کیونکہ خواہشات ضرورتیں بن گئی ہیں اور اس ساری دوڑ میں بچے اور فیملی ویلوز شدید متاثر ہوئیں۔

بگاڑ دراصل یہاں ہے، زندگی کا مقصد کیا ہے؟ آپ کے نزدیک ترقی کیا ہے؟ جب دو لوگ زندگی شروع کرتے ہیں تو ان کی ایک دوسرے سے توقعات کیا ہوتی ہیں؟ شادی کوئی خوشگوار حادثہ نہیں جس کے نتیجے میں نسلِ انسانی چل پڑی ہو، اولاد فقط بڑھاپے کا سہارا نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے جس کے لیے آپ کی کٹھن محنت، وقت، پیسہ اور قربانیاں درکار ہوتی ہیں، اور اس کے لیے آپ سے جواب بھی لیا جاۓ گا، یہ وہ بات ہے جس کو سمجھنا اور اپنی نئی نسل کو سمجھانا بہت ضروری ہے کیونکہ یہئ وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے جاہل تو جاہل پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی بچے رل رہے ہوتے ہیں۔

پچھلے دنوں ایک میٹنگ کے سلسلے میں اسکول جانا ہوا تو باہر کے چھوٹےاحاطے میں شام ڈھل رہی تھی  آفٹر اسکول کیر کے بچے احاطے میں موجود تھے، ایک کیئر ٹیکر کی گود میں تھا کچھ ادھر  ادھر بیٹھے اور کھڑے تھے ایک بچی گرل کے پاس اداس سی لیٹی ہوئی تھی بے اختیار دل چاہا کہ اس کی اداسی کسی طرح سے دور کر دی جاۓ، ایک بات جو کیئر ٹیکرز اور بچوں سب کے چہروں پہ مشترک تھی اور وہ تھی تھکن اور بےزاری، اور یہ صرف ہم نے ہی نہیں محسوس کیا، 

اماں! ایسا نہیں ہونا چاہیے

بیٹی کی آواز آئی،جو اب پانچ سال سے پندرہ سال کا سفر طے کر چکی تھی۔

These kids deserve to be at Home، l am feeling for them.

گھر کی بات الگ ہوتی ہے۔

ہاں صحیح کہہ رہی ہو، لیکن کبھی کبھی پیرنٹس کی مجبوری بھی ہوتی ہے۔ ہم نے جواب دیا۔

ہاں لیکن اگر مجبوری نہیں ہے تو پھر شام تک بچوں کو کہیں اور نہیں رہنا چاہیے۔

بچے گھر جاتے ہیں کھانا کھاتے ہیں، اپنے کھلونوں سے کھیلتے ہیں ، ٹی وی دیکھتے ہیں

Home is a feeling!

ہاں یہ تو ہے بچوں کا فیصلہ سوچ سمجھ کے کرنا چاہیے اور پھر اگر کر لو تو ان کو اتنا وقت ضرور دینا چاہیے جتنا ان کا حق ہے۔ تعلیم، ضرورت اور خواہشات کے بیچ نئی جنریشن کے لیے اب فیصلے اور دور دونوں ہی بہت مشکل ہیں۔

ایک جگ بیت گیا تھا، پتہ نہیں آگے کی نسل کی زندگی کیسی ہوگی، کتنے سبق تھے جو قدرت نے سکھانے تھے اور کتنے نتیجے تھے جو سامنے آنے تھے، ہمیں کچھ یاد آیا اور ہم مسکرا دیے۔

قرۃالعین صبا

(Visited 3 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *