Gender Reveal Party – ایک نئی رسم

ایک نئی رسم
ہماری ایک دوست بُہت اچھے کیک بناتی ہیں، ایک دو سال پہلے بڑی حیرت سے بتانے لگیں کہ ایک لڑکی آئی اور اپنی لفافہ بند الٹرا ساؤنڈ رپورٹ اُنہیں دے گئی کہ ہم نے نہیں دیکھی ہے آپ پارٹی کے لیے کیک بنا دیں اور بیچ میں جو کریم لگائیں وہ رپورٹ کے نتیجے کے مطابق ہو ، لڑکی ہے تو گلابی اور لڑکا ہے تو نیلی، پھر جب کیک کٹے گا تو یہ عقدہ کھلے گا۔
ہماری دوست کا یہ پہلا تجربہ تھا تو وہ تھوڑی حیران تھیں، کہنے لگیں لفافہ کھول کے رپورٹ پڑھی اور بڑی دیدہ ریزی سے کیک کے درمیان صحیح رنگ کی تہہ لگائی کہ کہیں رنگ مل کے کچھ اور نہ بن جائے۔ ہمیں بتایا تو ہم بھی تھوڑے حیران پریشان سے ہوئے کہ اس قدر پرسنل رپورٹ ماں باپ سے پہلے کوئی اور پڑھے یہ بات کچھ ہضم نہیں ہوتی تھی لیکن دراصل جب ذکر نکلا اور بات چیت ہوئی تو پتہ چلا کہ ہم خاصے اولڈ اسکول ہو چکے ہیں، اب ذاتی اور خاص باتوں کا زمانہ گزر چکا ہے اور اس کی جگہ پارٹی اور سر پرائز نے لے لی ہے، پھر یہ بھی پتہ چلا کہ اس پارٹی میں رنگ بھرنے کے بھی بہُت سارے طریقے ہیں ۔
“جینڈر رویل” پارٹی کی روایت کب سے شروع ہوئی یہ تو پتہ نہیں لیکن یہ رسم نئے والدین کے ماں باپ یعنی دادا دادی، نانا نانی اور دیگر رشتےداروں کو بچے کی جنس کا اعلان کرنے کے لیے مغرب میں خاصی زور پکڑ گئی ہے اور ظاہر ہے شغل میلے کے لیے خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ خُوب رنگ پکڑ رہا ہے اور اب نئے والدین بھی اسے خود اپنےلیے سر پرائز رکھنے لگے ہیں۔ اسے خوشی منانے کا ایک نیا طریقہ سمجھ لیجیۓ۔
پہلے تو کسی کو بھی بچے کی جنس پتہ ہی نہیں چلا کرتی تھی اور اصل سرپرائز اور “جینڈر رویل” پارٹی پیدائش کے دِن ہی ہوا کرتی تھی، لڑکی ہو یا لڑکا ہر رنگ پہنایا جاتا تھا لہٰذا اس قسم کی کوئی مشکل نہیں تھی، زمانے نے کروٹ بدلی تو رنگ بھی بٹ گئے اب گلابی رنگ لڑکے کو پہنانا اور نیلے سے لڑکی کو سجانا مشکل ہو گیا تو چلو اس سے والدین کو کپڑے وغیرہ لینے میں آسانی ہو گئی پھر کچھ خطرناک کیسز ایسے بھی ہوئے کہ رپورٹ کا نتیجہ غلط نکلا اور خاص کر مائیں اس کی وجہ سے ذہنی مسائل کا شکار ہونے لگیں، ساتھ ہی ساتھ اسلیے بھی بتانا بند کر دیا گیا کہ جہالت کے مارے کچھ خاندانوں کو اب بھی بیٹی کا پیدا ہونا گراں گزرتا ہے اور پتہ نہیں اس وقت سارے دین مذہب کے سبق کہاں چلے جاتے ہیں خیر اب یہ”جینڈر رویل” پارٹی نے دونوں جنس کی اہمیت مضبوط کر کے ایک نیا کلچر شروع کر دیا ہے جو کہ ظاہر ہے دیکھنے میں بہُت مزیدار لگتا ہے لیکن اب ایک نیا مسئلہ درپیش ہے کہ اس طریقہ کار میں کیا جدت لائی جائے پھر کیونکہ سوشل میڈیا پہ ویوز بھی ضروری ہیں تو کیک اور غباروں سے کانفٹی بکھیرنے کا آئیڈیا پرانا محسوس ہوتا ہے تو بیچاروں کی سمجھ نہیں آتا کہ الٹے لٹک جائیں، منہ سے گلابی یا نیلے شعلے نکالیں یا زمین اور آسمان رنگ دیں، کریں تو آخر کیا کریں؟ جو بہُت ہی منفرد ہو ۔
اسی سلسلے میں کل ایک ویڈیو نظر سے گزری، سین ایسا تھا کہ تجسس کا مارا ذہن ایک سیکنڈ کے لیے رک گیا، پتہ نہیں کس جگہ کی ویڈیو تھی سخت ترین سردی میں ایک جوڑا گھر کے باہر کھڑا تھا اور سامنے ایک کنواں نما ٹب تھا، ،ٹب کے اوپر سردی کی شدت کے سبب برف کی تہہ جمی ہوئی تھی، ہمیں تجسس ہوا کہ آخر اس پورے پروسیس اور ایسی کنڈیشن میں جینڈر رویل کا واقع کیسے رونما ہوگا؟
ہونے والے ابّا کے ہاتھ میں ایکسرسائز کا چھوٹا سا “ڈمبیل” تھا جس کو وہ ٹب کی سطح پر مار کے برف توڑ رہے تھے، ہم مشتاق کہ اب کہیں سے کچھ گلابی یا نِیلا نکلے لیکن ایسا نہیں ہوا جب ایک حصے کی برف ٹوٹ گئی تو وزن اماں نے لے لیا اور بقیہ برف کی تہہ توڑنے لگی اتنے میں ابّا کپکپاتے سرسراتے ٹب میں اُتر گئے جس کو دیکھ کے ہمیں جھرجھری آگئی پھر سوچا بیچارے کا پہلا تجربہ ہے، پہلے بچے کا جوش اور خوشی انسان سے بہُت کچھ کروا دیتی ہے ، ہو سکتا ہے ان کا خیال ہو کہ برف توڑیں گے تو کوئی کھلونا کوئی نشانی خود بخود اوپر ابھر آئے گی اور دونوں میاں بیوی اُچھل کود کے خوشی منا کے گھر کے اندر جا کے سکون سے بیٹھیں گے لیکن شاید “پروگرام وڑ گیا” اور انھیں اندر اترنا پڑا لیکن نہیں بھئی پروگرام کچھ اور ہی تھا، ابھی میاں اندر ٹھٹھر ٹھٹھر کے ہاتھ پیر مار کے غالباً کچھ ڈھونڈ رہے تھے کہ بیگم بھی انہی حالات میں اندر اُتر گئیں اور ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اسکرین پہ دیکھتے ہوئے ارے ارے! کرنے سے خود کو باز نہیں رکھ سکے، خیال آیا بیچاروں کے پاس شاید کوئی “بڑا” نہیں ہے، اگر یہ ساوتھ ایشین ہوتے اور ان کے اماوں اباوں یا دیگر تائیوں، مامیوں، خالاوں اور چچیوں میں سے کوئی آس پاس ہوتا تو ابھی چار باتیں سنا کے ہاتھ پکڑ کے اندر بھیج چکا ہوتا خیر خوش قسمتی یا بد قسمتی کہ ایسا کوئی نہیں تھا۔
اب یوں ماں کو یخ بستہ پانی میں دیکھ کر ہمیں کپکپی چڑھ گئی اور تجسس عروج پہ پہنچ گیا کہ دیکھیں تو آخر اب پتہ کیسے چلے گا اور یہ دونوں اپنی جانیں مصیبت میں ڈال کے آخر ڈھونڈ کیا رہے ہیں اور آخر یہ کون سی اولاد ہے جس نے آنے سے پہلے ہی ماں باپ کو باؤلا اور اتاؤلا کر دیا ہے ، بلآخر تھوڑی دیر میں پانی کا رنگ بدل گیا اور صحیح بتائیں تو گلابی ہوا یا نیلا یہ بھی یاد نہیں ہمیں تو بس ماں کے اس حالت میں ٹھنڈے پانی میں اترنے کی فکر تھی کہ بہن جو بھی ہے اس کو دنیا میں تو خیر سے آنے دو، آخر کار دونوں خوشی منا کے کیمرے کے سامنے اچھلے کودے اور ویڈیو کا اختتام ہوا۔
نیچے کمنٹ پڑھے تو ہم اکیلے نہیں تھے، دنیا جہاں کے لوگوں کو یہی فکر تھی کہ اس پاگل پن کا مقصد کیا ہے؟ بچے کی جنس کا اعلان کرنے کا یہ بیہودہ طریقہ کیا بچے اور ماں کیلئے محفوظ ہے؟، کچھ برا بھلا بھی کہہ رہے تھے اور کچھ اس بات پہ متجسس تھے کہ آخر باپ نے پانی میں اُتر کے ایسا کیا کیا کہ پانی کا رنگ بدلا؟ اب سوال تو جاندار تھا لیکن کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا، بس سوچتے رہ گئے کہ اتنے اہم موقع پر اس قسم کا تماشہ کر کے ماں باپ کو خوشی، مبارکباد یا دعا تو دور کی بات ہے، فقط ہنسی ٹھٹھا، مذاق، برے القابات ، تبصرے اور ٹرولنگ ملی۔
ہاں ایک چیز بہُت وافر ملی اور اس میں ہم نے بھی نہ چاہتے ہوئے اپنا حصّہ ڈالا اور وہ تھے
“Views”
یہ دنیا واقعی پاگل ہوتی جا رہی ہے اور ہم سب اس کا حصّہ ہیں ، آخری بات بس یہی ذہن میں آئی اور ہم تاسف سے سوچتے رہ گئے۔
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *