ملٹن سے ڈیلس کے سفر میں پہلا اسٹاپ شکاگو تھا جو تقریباً ساڑھے سات گھنٹے کی ڈرائیو بنتی ہے،
اس شہر میں ہم تیسری بار آۓ تھے لیکن اس بار یہ صرف ایک پڑاو تھا۔
شکاگو میں کیا ہے؟
شکاگو میں ملینیم پارک میں Bean ہے، فوارہ ہے، مشی گن لیک ہے، بلند و بالا عمارتیں ہیں، انہی عمارتوں سے جڑی کچھ اٹرکشنز ہیں، میوزیم ہیں، ایکوریم ہے اور ڈیون کا پاکستان ہے یعنی ڈیون اسٹریٹ جہان پاکستانی اور انڈین ریسٹورنٹ اور چیزیں وافر ملتی ہیں, کچھ ریسٹورنٹ اچھے ہیں اور کچھ میں کھا کے دکھ ہوتا ہے کہ خواں مخواہ پیسے ضائع ہو گئے۔ شہر نئےاور پرانے کا سنگم ہے اور کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں جانے سے اجتناب کرنے کو کہا جاتا ہے کیونکہ لٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے لیکن ایسے علاقے شاید امریکہ میں ہر جگہ ہیں یا پھر شائد ہر شہر میں ہی ہوتے ہیں۔


















شکاگو کا ڈاون ٹاون اپنے رونق میلوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے ، نیلی جھیل کا کنارہ اور خوبصورت عمارتوں سے سجی اسکائی لائن اسے مزید منفرد بناتی ہے۔ شگاگو اپنے فنِ تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے، یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے باقاعدہ شگاگو بوٹ ٹورز ہوتے ہیں جس میں سیاحوں کو مشی گن جھیل میں چھوٹی بڑی کشتیوں میں شکاگو کی بلند و بالا عمارتوں کے نظاروں کے ساتھ ساتھ ان کی تاریخ اور تفصیلات بھی بتائ جاتی ہیں، یہاں کے لوگ اپنی عمارتوں پہ بے حد فخر کرتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آٹھ اکتوبر 1871 کو شکاگو میں آگ لگنے کا افسوسناک سانحہ پیش آیا جسے “گریٹ شکاگو فائر”کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ آگ ایک چھوٹے سے گاۓ کے “بارن” یا غلے کے گودام سے شروع ہوئی، کیونکہ موسم خشک تھا اور تمام آرکیٹیچر لکڑی کا تھاتو دیکھتے ہی دیکھتے بھڑکتی چلی گئی اور تین دن تک جاری رہی، اس آگ نے تقریباً سترہ ہزار چار سو پچاس عمارتوں کو متاثر کیا، تین سو لوگ جاں بحق اور ہزاروں بے گھر ہوۓ اور ایک تہائی شہر تباہ ہو گیا، نقصان دوسو ملین ڈالر کے قریب تھا۔
ریل کی پٹریاں تباہی سے بچ گئیں تھیں اور پورے ملک سے انہی کے زریعے فوری اور مستقل امداد بھیجی گئی۔
تین دن بعد جب فائر ڈپارٹمنٹ کی کوششوں کے ساتھ بارش کے زریعے قدرتی مدد آئی اور آگ پہ قابو پایا گیا تو گیارہ اکتوبر 1817 کو اخبار “ شکاگو ٹریبون” میں لوگوں کو نئی امید دلانے کے لئے ایک بے حد حوصلہ افزا ایڈیٹوریل شائع کیا جو بعد میں ایک تاریخی حیثیت اختیار کر گیا جس کی شہ سرخی تھی
Cheer up
Chicago shall rise again
یعنی “لوگو! خوش ہو جاؤ، شکاگو دوبارہ طلوع ہوگا یا دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا،
یہ وہ ہیڈ لائن ہے جو مشی گن جھیل میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان چلتی کشتیوں اور چھوٹے چھوٹے کروس شپ میں بوٹ ٹور کے گائیڈ بڑے فخر سے سیاحوں کو بتاتے ہیں، اس کے بعد یہ شہر واقعی دوبارہ طلوع ہوا اور بھرپور شان و شوکت سے ہوا، جب عمارتوں کو دوبارہ بنایا گیا تو بیشتر میں لکڑی کے بجاے کنکریٹ کے ساتھ ساتھ مہنگا فائر پروف مواد، طرح طرح کی دھاتوں کا استعمال کیا گیا یہی وجہ ہے کہ جھیل کنارے بنی ہر عمارت اپنا ایک منفرد اور مضبوط نقشہ اور کہانی رکھتی ہے اور یہ کہانی فخر سے دکھائی اور سنائی جاتی ہے۔
قرۃالعین صباؔ