ڈاک بنگلہ اور ائر بی این بی کے دن

بچپن میں ہمیں وہ کہانیاں بہت اچھی لگتی تھیں جن میں صاحب کا تبادلہ ہو جاتا تھا اور خاندان کسی پر فضا قصبے میں واقع ڈاک بنگلے میں جا کے آباد ہو جاتا تھا، یہ ڈاک بنگلے، خانساماں ، چوکیدار پڑھنے میں بڑے فیسینیٹنگ لگتے تھے اور شاید ہوتے بھی ہوں گے، لیکن یہ سب پڑھنے میں ہی اچھا لگتا ہے کیونکہ اس تبادلے کے پیچھے جو جد و جہد ہوتی وہ صاحب کا خاندان ہی جانتا ہے۔

عوام کے لئے یہاں“ڈاک بنگلے” تو نہیں ہوتے لیکن ان کی جگہ اب “ائر بی این بی” نے لے لی ہے۔

خیال آیا کہ جب ائر بی این بی یا پھر انٹرنیٹ نہیں ہوتا تھا تو لوگ کیسے ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنا گھر بناتے ہوں گے، شائد اپنے لوگ، دور پرے کے جاننے والے اور دوستوں کے دوست تلاش کئے جاتے تھے کہ کچھ دن انتظام ہو جاۓ تو پھر اپنا گھر تلاشیں۔
فی زمانہ ائر بی این بی ایک نعمت ہے, دوست احباب کتنا ہی کیوں نہ اصرار کریں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی جگہ پہ اپنی طرح سے رہنا بے حد عزیز ہو جاتا ہے چاہے جگہ چھوٹی سی ہی کیوں نہ ہو۔

یوں تو ہوٹل کے مقابلے میں ائر بی این بی سسٹم بڑا اچھا ہے لیکن اس کے اپنے مسائل ہیں، مثلاً یہ کہ آن لائن بکنگ ہوُجاتی ہے بنا بنایا گھر مل جاتا ہے، لیکن کچھ چیزیں صرف تصویروں سے پتا نہیں چل پاتیں، تصویروں میں اچھی اچھی چیزیں دکھائی جاتی ہیں جیسے بلڈنگ سوئمنگ پول سے مزین ہے، پلے روم بھی ہے وغیرہ وغیرہ پچھلے ایک مہینے میں ہم نے تین مختلف ایر بی این بی کے اپارٹمنٹ بدلے، اچھی بات یہ تھی کہ بلڈنگ ایک ہی تھی اور شہر کے بیچوں بیچ کافی اچھے علاقے میں تھی ورنہ پانچ لوگوں کا مختصر ترین سامان بھی اتنا ہوتا ہے کہ گاڑی میں سیٹ کرنا اور کہیں اور جانا ایک امتحان بن جاتا ہے۔

پہلا اپارٹمنٹ سجا سجایا بے حد خوبصورت تھا، دو کمرے ایک ڈرائنگ روم ضرورت کی ہر چیز موجود لیکن پہنچ کے پتہ چلا کہ تیسری منزل ہے، لفٹ کہیں دور دراز موجود تھی لیکن اندر ہی اندر بھول بھلیاں سی بنی ہوئیں تھیں اس لئے زینے چڑھنے میں عافیت جانی، دوسرا امتحان بھی جلدی ہو گیا، گھر میں داخل ہوتے ایک عجیب گندی بو استقبال کرتی جو تھوڑی دیر میں ختم ہو جاتی(یا شاید ہم عادی ہو جاتے) پھر انکشاف ہوا کہ اپارٹمنٹ ٹریش شوٹ کے بالکل برابر میں واقع ہے، ٹریش شوٹ دراصل ہر فلور پہ بنا ایک چھوٹا سا اسٹور نما کمرہ ہوتا ہے جہاں پہ بنی کھڑکی سے لوگ اپنا کچرا نیچے پھینکتے ہیں جو ڈائرکٹ بڑے سے کچرے دان میں جا کے گرتا ہے۔ اب اسکرین پہ تصویریں دیکھ کے بکنگ کرانے والا یہ باتیں کیسے جان سکتا ہے، خیر ہم نے جگہ دس دن کے لئے لی تھی جو وقت کے حساب سے اچھا ہی رہا۔

دوسرا اپارٹمنٹ اس سے چھوٹا تھا لیکن فی الوقت یہی میسر تھا یوں بھی اب ایک ہی ہفتے کی بات تھی سو ہم نے اسے غنیمت جانا، ایک بیڈ روم موجود تھا اور دوسرا صوفہ کھول کے بیڈ بنانا تھا، سوچا ابھی سے کھول کے کیا پھیلاوا کرنا ہمیں باہر بھی جانا تھا سو جب رات کو ایک بجے صوفے کا بیڈ بنایا تو اس کی حالت اتنی ناگفتہ با تھی کہ اس کو ایسے ہی بند کر دیا گیا، اونر کو فون کھڑکھایا تو جواب ندارد، اگرچہ دوست احباب نے کہا ہوا تھا کہ ہمارے گھر حاضر ہیں لیکن رات ایک بجے کس کو تنگ کرتے، اب پانچ لوگ اور بستر ایک، سوچا چلو ایک رات کے لئے ہوٹل بک کر لیتے ہیں پھر ان سے صبح نمٹیں گے لیکن حیرت اس وقت ہوئی جب پانچ چھے ہوٹلوں کو فون کیا اور پتہ چلا سب بک ہیں، اس دن ڈیلس میں ISNA کا کنوینشن تھا اور اندازہ ہوا کہ لوگ واقعی دوسری ریاستوں سے یہاں شرکت کرنے آۓ ہوۓ ہیں، پھرتھوڑی سائنس اور جغرافیہ لڑایا تو یہ حل سمجھ آیا کہ اگر ایک ڈبل بیڈ پہ لمبائی کے بجاۓ چوڑائی میں سویا جاۓ تو کسی نہ کسی طرح چار لوگ فٹ ہو سکتے ہیں بس ٹانگیں تھوڑی باہر نکلیں گی، ایک فرد صوفے پہ سما جاۓ گا خیر ایک رات کی بات تھی گزر گئی، صبح سب قسطوں میں پھر سے سوۓ، پھر صبح صفائی والے آۓ میٹرس کی دھلائی ہوئی لیکن اسے استعمال کرنے کو کوئی راضی نہیں ہوا تو ائر میٹرس لایا گیا اور بقیہ دن بچوں نے اس پہ گزارا کیا۔

ہمارا خیال تھا کہ ہفتے بھر میں گھر مل جاۓ گا لیکن معاملہ ریل اسٹیٹ ایجنٹ کا ہو تو “وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جاۓ” ایک ہفتے کا انتظار اور تھا سو “ ایک اور موونگ کا سامنا تھا مجھ کو” پھر ڈرتے ڈرتے تیسرا گھر پسند کیا اور الحمدللہ یہ تجربہ پرسکون رہا اور کوئی تیسری مشکل نہ ہوئی سواۓ اس کے کہ میموری فوم کے نام پہ بستر کے گدے ایسے تھے کہ ہمیشہ کے لئے میموری میں محفوظ ہو جائیں، ایک بار کروٹ لے لو تو دھنستے ہی چلے جاؤ گویا گدّا کہہ رہا ہو کہ
اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں
اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

اور پھر گدے میں “گم” اور” تم “سے “میں” ہونے کے لیے باقاعدہ اٹھ کے کروٹ بدلنی پڑتی اور اپنے بستر کی یاد گویا یوں آتی کہ “آئی جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی”۔

ڈاکٹر اقبال محسن صاحب کہتے ہیں کہ زندگی میں ہم دو کام کرتے ہیں یا تو پیسے کماتے ہیں یا تجربات جمع کرتے ہیں اور تجربے کا لفظ بے حد وسیع چاہے آپ دینی نظر سے دیکھئے یا دنیاوی
لیکن یہی تجربات ہمارا حاصلِ زندگی ہوتے ہیں، ہماری پہچان ہوتے ہیں، یہی ہماری شخصیت بناتے ہیں اور یہی ہمارا اثاثہ ہوتے ہیں۔

ایک مہینے پہ مبنی اس منتقلی اور تجربے نے ہمیں بہت کچھ دکھایا، چھوٹے موٹے مسئلے مسائل تو آکے چلے جاتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ زندگی کے تجربوں کی البم میں کھٹی میٹھی یادوں کا ایک حصہ ان کے لیے بھی مختص ہو جاتا ہے، جس کے ورق آپ بعد میں پلٹتے ہیں تو پریشانی کو یاد کر کے بھی ایک مسکراہٹ لبوں پہ دوڑ جاتی ہے۔

قرۃالعین صباؔ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *