بینا کی گمشدگی اور فلیش بیک میں پوری کہانی معاشرے کی بیشتر کہانیوں کا عکس تھی مگر پھر جب سبزی والے کی اینٹری ہوئی تو دل یہ قبولنے سے انکاری ہوگیا کہ اب ایسا بھی کیا خود کو ارزاں کرنا، بھئی چھوڑنا ہی ہے تو کروڑوں کے زیورات کے ساتھ نئی زندگی بھی شروع کی جا سکتی ہے لیکن اگلی اقساط میں وحشت زدہ بینا کا ہسٹریائی انداز اور باتیں دیکھ کر لگا کہ غالباً بینا کی ذہنی طور پہ توڑ پھوڑ کا شکار کیفیت بھی دکھانا مقصود ہے( یہاں عروہ حسین کی ایکٹنگ کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی)، ایسی صورتحال میں ذہن یونہی مفلوج ہوجایا کرتا ہے، کوئی دروازہ نہ پا کر ایک انتہائی قدم اٹھا کے سب چھوڑ کے ایک انجان آدمی کے ساتھ چل پڑنا جو کسی لحاظ سے اس کے قابل نہیں کسی ذی ہوش خاتون کا فیصلہ نہیں ہو سکتا، بس ہوا یوں کہ شدید ذلت اور رائگانی کے شدید احساس کے زیرِاثر جب کوئی سننے والا موجود نہیں تھا، تو سبزی والے کی توجہ اور دو بول ایک اچھے گھر کی متمول لیکن حد درجہ ڈپریس عورت کو انتہا پر لے آۓ، ساری کہانی ہی ان انسیت اور توجہ بھرے دو بولوں کی ہے، اکثر گھروں میں یہی عزت والے دو بول نہیں مل پاتے۔
کہانی شروع کی آٹھ نو اقساط تک سب کو جوڑے رہی، گھر سنبھالتی ہوئی عورت ایک دم سے غائب ہو جاۓ تو خاندان پہ کیا بیتتی ہے، پھر وہ جو ایک عمر گزارنے کے بعد، ہر طرح سے خدمتیں کرنے اور قربانیاں دینے کے بعد بیکار سی لگنے لگتی ہے ایسی عورت بد قسمتی سے ہر دوسرے گھر میں پائی جاتی ہے لیکن بس کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھاتی، کبھی بچوں کا سوچ کر، کبھی دنیا کا سوچ کر اور سب سے بڑھ کر یہ سوچ کر کہ جاۓ گی تو کہاں جاۓ گی، باہر کی دنیا سے تعلق ٹوٹے ایک عمر گزر گئی ہوتی ہے، زیور کے علاوہ اپنی کوئی اور متاع بھی نہیں ہوتی، وہ بھی کبھی کبھی کسی ضرورت کے تحت بک جاتا ہے یا بیچ دیا جاتا ہے، ہاتھ میں اپنے پیسے ہونا تو بہت بڑی بات ہے، اپنا الگ بینک اکاؤنٹ بھی شاید سو میں سے تین چار عورتوں کا ہوتا ہوگا۔۔ بس اسی لیے گزارا کرتی رہتی ہے۔
بات یہ ہے کہ ہم نے گھر میں رہنے والی عورت یا “ہوم میکرز” کی عزت کرنا چھوڑ دی ہے۔ آپ کیا کرتی ہیں کا جواب بس کسی نوکری یا پیسے کمانے کی صورت ہی قابلِ ستائش ہوتا ہے، جب آپ گھر میں داخل ہوں اور صاف ستھرا گھر اور بچے آپ کے منتظر ہوں، آپ کی پسند کا گرما گرم کھانا میز پہ چن دیا جاۓ، بچوں کے معاملات اور پڑھائیوں، رشتہ داریاں نبھانے کی بھی اسّی فیصد تک کی ذمہ داری بیوی کی ہی ہو تو اس سے بڑا سکون اور نعمت کیا ہو سکتی ہے، لیکن یہ نعمتیں اب آوٹ آف ٹرینڈ ہو گئی ہیں۔
گھر پہ رہنا، بچے سنبھالنا، خدمتیں، نت نئے کھانے، مہمانداریاں، رشتے داریاں سب کام آج کے دور میں کھوٹے سکے بنتے جا رہے ہیں جن کا کوئی مول نہیں ہے لیکن جن کی وجہ سے عورت خود کہیں اپنا آپ کھو کے پیچھے رہ جاتی ہے، جب تک بچے بڑے ہوتے ہیں اور کچھ وقت ملتا ہے اسوقت تک باہر کی دنیا اس کے حساب سے بہت بدل چکی ہوتی ہے، دوسری طرف جسمانی طور پہ عمر کے مختلف ادوار میں عورت جس بدلاؤ اور توڑ پھوڑ سے گزرتی ہے اسے کسی مرد کو محسوس کروانا بھی ممکن نہیں، اسے کسی بھی شکایت کی صورت “ہٹی کٹی تو ہو”، “ٹھیک تو ہو”، “ہر وقت ڈرامہ ہر وقت کے رونے دھونے”، “تمہارے تو مسلے ہی ختم نہیں ہوتے”، “کتنی ناشکری ہو تم” جیسے جملے سننے کو ملتے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عورت چاہے کسی موذی بیماری سے ہی کیوں نہ نبرد آزما ہو، وہ اپنے آپ کو اندر ہی اندر سنبھالےآپ کو باورچی خانے میں کسی معمول کی طرح ہنڈیا بھونتی ہوئی ملے گی، بیمار ہو جاۓ گی تو خود سے جلد از جلد اپنی دوا کا بندوبست کر کے خود کو کھڑا کر لے گی اور دوسری طرف اب آکسفورڈ اور کیمرج ڈکشنری میں لفظ “Man Flu” کا اندراج ہو چکا ہے جس کے معنی یوں لکھے گئے ہیں
Meaning: A minor illness, such as a common cold, that someone (usually a man) treats as if it were a serious condition.
ان سب کے ساتھ مرد کا سفر ویسے ہی جاری رہتا ہے، بچوں کی اپنی مصروفیات ہو جاتی ہیں اور پھر بیشتر گھروں میں صورتحال وہی ہوتی ہے جو اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے۔
حل کیا ہے؟
ہم چاہے بیٹیوں کو جتنا بھی پڑھا لیں، مالی طور پہ مستحکم کر دیں، جذباتی طور پہ مضبوط بنائیں،لیکن شادی اور بچوں کے بعد کہیں نہ کہیں ایسے فیز آتے ہی ہیں جب پورے گھر کی ذمہ داری اٹھانا اور پھر کما کے بھی برابر سے لانا ممکن نہیں رہتا، اس کے لئے ضروری ہے کہ بیٹوں کی بھی اسی نہج پہ تربیت کریں، آج کے دور میں برابر کے حساب نے نقصان تو عورت کا ہی کیا ہے کیونکہ قدرت نے جو کام اس کے ذمہ رکھے ہیں وہ مرد کر ہی نہیں سکتا، یوں اس کو انڈیپینڈنٹ ہو کے بھی دوہری ذمہ داری اٹھانا پڑتی ہے، اور اگر وہ گھر میں رہے تو ہوم میکر ہونے کی صورت میں جسے دین نے “ربة البيت” یعنی گھر کی ملکہ بنایا ہے اس کی عزت ملازمہ کی سی ہوتی ہے۔ جب تک گھر کی ملکہ کی قدر نہیں کی جاۓ گی اور اسے برابر کی عزت نہیں دی جاۓ گی، جب تک کچھ نہیں بدل سکتا۔
قرۃالعین صباؔ

