بچپن میں اردو کی کتاب میں ایک سبق پڑھا تھا “ کوئی چیز بیکار نہیں” اس میں ایک بچی رضیہ گھر سے سارا فالتو سامان نکالتی ہے اتنے میں اس کے ماموں آ جاتے ہیں اور ہر ہر چیز کے فوائد گنوا کے اسے ری سائیکل کی ترکیبیں بھی بتاتے ہیں کہ کیسے پرانی چیزوں سے نئی چیزیں بنائ جائیں الغرض سارے کاٹھ کباڑ کا کچھ نہ کچھ بنایا جاتا ہے (اور شنید یہ ہے کہ پھر اس پہ اتنی محنت کر کے کچھ دن بعد پھینک ہی دیا گیا ہوگا کیونکہ جتنا ہمیں یاد ہے ماموں نے اسپنج کی پرانی چپلوں کو بھی نہیں چھوڑا تھا اور خوف ہے کہ اگر وہ رضیہ آج کے دور کی ہوتی اور یوں کوئی ماموں آ کے اس کی پرسنل چوائسس، گھر کے معاملات اور دوسرے لفظوں میں “پھینکا پھاکی” میں انٹرفیر کر کے اسے یوں مفید مشورے دیتے تو شائد بچارے “براون ماموں” کی گھر میں انٹری ہی بند کر دی جاتی )خیر دور مختلف تھا، وسائل کم تھے، چیزیں پائیدار ہوا کرتی تھیں اس لئے لوگ کچھ بھی پھینکنے کو مشکل سے ہی تیار ہوتے تھے اور رضیہ بھی اچھے بچوں کی طرح مان جاتی تھی اب چیزیں، زمانہ اور لوگ سب ہی بدل چکے ہیں اور نصاب میں “کوئی چیز بیکار نہیں” اور “ سگھڑ زال” جیسے سبق پڑھ کے پروان چڑھی ہماری نسل دونوں زمانوں کی بیچ میں کنفیوژ ہی رہتی ہے اور شائد ہمیشہ رہے گی۔
ری سائیکل کے سنہری اصولوں پہ عمل کرتے ہوۓ “سگھڑ زال” کی طرح سوچا کہ چاۓ پی پی کر کپ سنمبھال کے رکھ لیتے ہیں ایک سیٹ بن جاۓ گا جو گھر میں “مٹکہ چاۓ” کے بھی کام آۓ گا اور اس میں کھیر بھی جما لیں گے لیکن جب چاۓ لو ایک ہی جگہ سے ایک الگ ڈئزائن کے کپ میں آتی ہے،کل دیکھا تو مٹی کی مٹکیوں کا ایک الگ ہی کلیکشن بن گیا ہے، سب سے چھوٹی والی میں قلفی آئ تھی، سگھڑ زال حیران ہے کہ کیا کرے اور رضیہ کے ماموں بھی بہت یاد آ رہے ہیں🙈😄
قرۃالعین صبا
khayalbysaba


