کہانی پلانو بیلون فیسٹیول کی
کبھی کبھی آپ کو ایک حسین منظر کی خاصی اچھی قیمت چکانی پڑ جاتی ہے اور آپ سوچتے ہیں کہ کیا یہ
worth it
تھا یا نہیں؟ کچھ ایسا ہی
ہمارے ساتھ پلانو بیلون فیسٹیول میں ہوا۔
شہر میں بہت غلغلہ تھا کہ ہاٹ ائر بیلون فیسٹیول آ رہا ہے، رنگ برنگے دہکتے سفری غبارے اور ان کی وڈیوز بہت اچھی بھی لگ رہی تھیں، ہمیں اپنے پچپن کی کہانی یاد آئی “غبارے میں صحرا کا سفر” اور پھر کپاڈوکیہ کے مناظر جس کی یاترا ابھی تک نہ ہو سکی تھی تو سوچا چلو کپاڈوکیہ نہ سہی پلانو سہی۔
ایک دن ڈرون لائٹنگ شو بھی تھا اور دوسرے دن آتش بازی، آتش بازی تو کینیڈا میں کئی موقعوں پہ دیکھی ہے لیکن ڈرون شو ہمارے لئے اک نئی اور منفرد چیز تھی، خاص کر یحییٰ کا جوش عروج پہ تھا بس ایک مسئلہ یہ تھا کہ سب کچھ وصول کرنے کے لئے شام سے ذرا پہلے جانا ضروری تھا لیکن ابھی ہم ڈیلس کی گرمی کے عادی نہیں ہیں، گرمی اور دھوپ شدید تھی تو سوچا تھوڑا ٹھہر کے چلیں گے، شومئی قسمت کہ کیونکہ ابھی راستے نئے نئے ہیں تو جی پی ایس نے بھٹکا دیا اور وقت نکل گیا، ڈرون شو کے مس ہو جانے کا قلق تو ہوا لیکن سوچا چلو کل آ جائیں گے، دوسرے دن وقت سے نکلے لیکن قریب پہنچے تو یوں لگا کہ سارا شہر ہی امڈ آیا ہے، ایک ڈیڑھ گھنٹہ ٹریفک میں پھنسنے کے بعد دو اسٹاپ چھوڑ کے پارکنگ ملی اور پھر جو پیدل چلے تو حج کا سفر یاد آگیا، خدا خدا کر کے ٹکٹ کی لائن میں لگے جب تک شام سے رات ہو چکی تھی اور اندر یہ حال کہ کھوۓ سے کھوا چھل رہا تھا،مختلف قومیتوں کے لوگ اور پھر مزید لوگ اور پھر ان کے کتّے اور پھر ان کتوں کے بچے بھی۔
یوں تو تفریح کی بہت سی چیزیں تھیں لیکن شاید اپنے مطلب کی نہیں تھیں، کھانے پینے کے اسٹال میں بس کچھ پینے کے لیے لیا جا سکتا تھا، بڑے سے اسٹیج پہ کنسرٹ بھی جاری تھا لیکن بقول یوسفی صاحب گانا اور گالی اپنی زبان میں اچھی لگتی ہے پھر “آئس آئس بے بی “ کرنے کے لئے بھی بے بی کو کچھ جگہ چاہیے ہوتی ہے اور یہ بے بی تو اب تک حال سے بے حال ہوچکی تھی۔
جگہ بناتے بیلون گلو کے مقام پہ پہنچے، یہ منظر منفرد تھا، اندھیرے میں رنگ اور رنگوں میں آگ لگی ہوئی تھی، موسیقی کے حساب سے شعلے جل بجھ رہے تھا اور رقصاں تھے، بس شو اتنا ہی تھا بیلون میں بیٹھنے کا انتظام تو نہیں تھا، ہوا میں غبارے اڑانے کا اہتمام ضرور تھا لیکن صبح چھ بجے۔
ہم خاصے تھک چکے تھے اور گرمی و رش سے پریشان تھے، آتش بازی کے لیے گھنٹہ بھر رکنا محال لگ رہا تھا سو بس واپسی کی راہ لی، دوبارہ پیدل چلنا ایک اور مرحلہ تھا، چلتے چلتے پیچھے آتش بازی بھی دکھائی دے گئی، جیسے تیسے گاڑی تک پہنچے اور پھر گھر آکے ڈھیر ہوۓ کہ ٹانگیں دہائی دے رہی تھیں۔
بڑی محنت سے تصویریں لی ہیں تو آپ بھی دیکھیے،
Was it worth it or not?
تو جناب زندگی میں ہر نیا منظر اور تجربہ ایک انعام ہے اور یہی تجربات زندگی کو پر معنی بناتے ہیں, اچھے ہوں تو خوبصورت یادیں اور اچھے نہ ہوں تو سبق بس حسرتیں نہیں رہتیں کہ دیکھ ہی آتے!
یہ سب لکھنے کے بجاۓ اگر صرف تصویریں ڈال دی جاتیں تو کیا ہوتا؟ تو وہی ہوتا جو شوشل میڈیا کی چھوٹی سی کھڑکی سے ہر بار کوئی چکا چوند والی چیز دیکھ کر ہوتا ہے لیکن جیسے ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ویسے ہی ہر ہاٹ ائر بیلون والی جگہ کپاڈوکیہ نہیں ہوتی تو اب کپاڈوکیہ جانا تو بنتا ہے۔🙂












