نوۓ کی دہائی میں شاہ رخ خان کی فلم “پردیس” بہت مشہور ہوئی تھی، جب ہیروئن مہیما چوہدری “جہاں پیا وہاں میں” گاتی خوش خوش امریکہ چلی آتی ہیں اور پھر بالکل مختلف ماحول اور اپنوں سے دوری محسوس کرتی ہیں تو ان کی بزرگ پھوپھی ساس انھیں ایک بات کہتی ہیں کہ “یہاں یا تو بہت سناٹا ہے یا بہت شور ہے ، آدمی یا تو اکیلا ہے یا پھر میلہ ہے”۔
اور واقعی ایسا ہی ہے ، پردیس خاص کر سمندر پار ہجرت کرنے والوں کے لئے تنہائی اور اکیلا پن سب سے بڑا دکھ ہوتا ہے اور کچھ لوگ اس کو جھیلتے جھیلتے ہی ٹوٹ پھوٹ اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں ساتھ ہی ساتھ گھر اور باہر کے کاموں کی سخت ترین محنت تھکا دیتی ہے۔
اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں خواتین کی گھریلو زندگی کافی آرام دہ ہے، اور اس آرام میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے ، گھر کی مصروفیت کے ساتھ ساتھ ملنا ملانا اور رشتہ داریاں نبھانے میں بھی کافی وقت کٹ جاتا ہے، تنہائی کا احساس نہیں ہوتا۔
پہلے گھروں میں صرف جھاڑو صفائی، برتن وغیرہ کے لئے ماسیاں رکھی جاتی تھیں اب اس میں استری، روٹی پکانے اور کھانا پکانے والے ملازمین بھی عام ہو گئے ہیں ، کچھ گھروں میں کھانا پکانے والیاں بھی آتی ہیں اور رمضان میں اگر دن کے وقت ہی آئیں تب بھی افطاری کی تیاری پکوڑوں کا آمیزہ تک بنا کر رکھ جاتی ہیں، ایسی آسانیوں کی عادت پڑ جاۓ تو کسی نئی جگہ سیٹ ہونا بے حد مشکل ہوتا ہے، مڈل ایسٹ وغیرہ کی زندگی مزید آسائشوں والی ہے الغرض جہاں جہاں مزدور سستے ہیں وہاں سب کا کام چل رہا ہے، مسئلہ جب ہوتا ہے جب ایسے لوگوں کو کسی مغربی ملک میں ہجرت کرنا پڑے، پہلے کے کچھ سال تو بوکھلاۓ بوکھلاۓ سے گزرتے ہیں دوسرے چند سال اپنی پرانی جگہ اور بالخصوس ماسیوں کی یاد میں بیتتے ہیں پھر چار پانچ سال گزرتے گزرتے کام کی عادت ہو جاتی ہے اور لوگ پیچھے چھوڑ آنے والوں کو کام چور تصور کرنے لگتے ہیں ![]()
گھر والے اگر خود کام کے بالکل عادی نہیں تو شروع شروع میں آپ کو ان کے گھر کے فرش بھی چپچپاتے ملیں گے، چولہے دہائیاں دے رہے ہوں گے اور باتھ روم بس اس قدر ہی صاف کیے جائیں گے کہ گزارا ہو جاۓ۔بیچارے کتنی بھی کوشش کریں لیکن ان کاموں کی عادت ہونے میں وقت لگتا ہے، پاکستان میں کس نے ٹاکیاں لگائی ہوتی ہیں اور پونچھے مارے ہوتے ہیں، باتھ رومز کی صفائیاں اور چولہے مانجھنے کی باری تو بعد میں آتی ہے۔یہ ایک بہت بڑا بدلاؤ ہوتا ہے۔
متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین تو پھر ایڈجسٹ کر لیتی ہیں لیکن ایلیٹ کلاس والے یا سعودیہ اور مڈل ایسٹ سے آۓ ہوۓ لوگوں کو یہاں spoiled سمجھا جاتا ہے کیونکہ جب انڈہ ڈبل روٹی یا کولڈ ڈرنک کا ایک کین بھی ایک کال پہ دروازے پہ موجود ہو اور میڈ آپ کی غیر موجودگی میں بھی صفائیاں کر کے اور موزے تک درازوں میں سیٹ کر کے چلی جاۓ تو پھر نئی جگہ آ کے ہر ہر کام خود کرنا ایک وبال معلوم ہوتا ہے پھر اگر موسم کی سختی جھیلتے ہوۓ برف اور بارش میں باہر کے کام بھی آپ کے آسرے پہ رکھے ہوں اور ملنا جلنا رکھنے کے لیے اکیلے دعوتیں بھی کرنی پڑیں تو نانی اماں ہی یاد آجاتی ہیں۔
دنیا میں جہاں بھی رہیں بنیادی کام سیکھنا اور اپنے بچوں کو سکھانا بے حد ضروری ہیں ورنہ آگے کا وقت ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
ان سب باتوں کے علاوہ خاص کر گھریلو خواتین کے لیے سات سمندر پار کی دنیا میں بسنے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں رہ رہے ہوں اس خطے کی زبان اور ڈرائیونگ ضرور سیکھیں ورنہ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی مشکل اور تنہائی میں اضافہ ہوتا جاۓ گا۔
بہت سی خواتین اس سلسلے میں پہلے اپنے شوہر اور پھر بچوں پہ انحصار کرتی ہیں، زبان نہ آنے کی وجہ سے معمولی کاموں اور فون پہ بات کرنے کے لیے بھی کوئی نہ کوئی چاہیے ہوتا ہے، مرد حضرات ہر وقت موجود نہیں ہوتے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ بچے بھی مصروف ہو جاتے ہیں ایسے میں آپ کہیں جانے، کسی سے ملنے اور بات کرنے کے لیے بھی گھر کے کسی فرد کی محتاج ہوں تو آپ بالکل اکیلی رہ جاتی ہیں، کسی جگہ والنٹیر کرنے، گھر میں بچوں کو پڑھانے یا کہیں وقت گزاری کے لیے کام کرنے کے لئے بھی تھوڑی بہت مقامی زبان آنا تو بہت ضروری ہے اور جتنا وقت گزرتا جاتا ہے یہ کام مزید مشکل ہوتے جاتے ہیں، کسی بھی عمر میں ہوں سیکھنا نہ چھوڑیں، ساتھ ہی ساتھ اپنے دوستوں کا حلقہ بنائیں، یہ خاندان سے دور آپ کا خاندان ہوتا ہے، ان پہ انحصار نہیں بھی کیا جاۓ تو اچھا وقت گزارنے کے لیے کچھ دوست سب کو چاہئے ہوتے ہیں، ہنسیں بولیں، خود کو مصروف اور ایکٹیو رکھنے کی کوشش کریں ورنہ پردیس کا اکیلا پن اور تنہائی آپ کی سب سے بڑی بیماری بن جاۓ گی۔
قرۃالعین صباؔ

