پچاس برس، میکسیکو، بواۓ فرینڈ اور بائیک اور مینو پاز

آفس میں شروع شروع کے دِنوں کی بات ہے ، ٹیمز کے گروپ میسنجر پہ نظر پڑی تو پھیکے پھیکے سے میسیجز کے بجائے “گڈ مارننگ” کی ایک شوخ و شنگ سی اینیمیٹڈ فوٹو دکھائی دی، ،یہ “میری” ہے, فرنچ ٹیم میں، مانٹریال میں ہوتی ہے، کچھ عرصے پہلے ہی جوائن کیا ہے۔ جیکولین نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا، ویسے چیٹ پہ عموماً کوئی ایسے میسیجز نہیں بھیجتا میں نے اسے کہا بھی ہے لیکن یہ اس طرح کی فوٹوز بھیجتی رہتی ہے۔

دلچسپ، ہم نے ایک نظر اسکرین پہ ڈالی، دیکھ کے لگا کہ میری غالباً کوئی شوخ و شنگ کم عمر فرینچ حسینہ ہوگی لیکن جب پہلی بار ورچوئل ملاقات ہوئی تو کم عمری کے علاوہ باقی سارے اندازے ٹھیک نکلے۔

کھڑے کھڑے لہجے میں انگلش بولتی میری پچاس کی دہائی عبور کر چکی تھی لیکن اپنے انداز، شوق اور مشغلوں سے شوخ و شنگ حسینہ ہی تھی، ٹیم میں ایک وہی تھی جو ہر تھوڑے دِن بعد کسی نئے اسٹائل کے ساتھ  اپنی پروفائل پکچر بدل لیتی ، کالے گھنگریالے بال کبھی چہرے کے اطراف ایک ادا سے بکھرے ہوتے کبھی اونچا سا جوڑا اور گول چشمہ اور مسکراتی ہوئی میری، باقی سب جیسے رسم نبھانے کے لیے ایک بورنگ سی فوٹو لگا کے بھول چُکے تھے۔

ایک دن بہُت خوش ہو کے بتانے لگی کہ میں نے میکسیکو کا ٹرپ بک کروایا ہے اور آج میں بہُت خوش ہوں, پھر ایک دِن بھرپور ایکسائیٹمنت میں ہمیں بتایا کہ آج میں اپنے بواے فرینڈ کے ساتھ موٹر بائیک دیکھنے جا رہی ہوں۔ 

واہ! کیا بات ہے، میکسیکو، موٹر بائیک اور بوائے فرینڈ، ہمارے ہاں تو پچاس والی عورت کا واحد مقام بس مصلیٰ ہی تصور کیا جاتا ہے۔ شوخ رنگ تو جیسے حرام ہو جاتے ہیں، کوئی غلطی سے بھی لال رنگ پہن لے تو فوراً سے بڈھی گھوڑی لال لگام کا طعنہ مل جاتا ہے، نہ کوئی شوق نہ مشغلے، اگر دادی نانی بن جاؤ تو پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی ڈیوٹی سنبھالو یا پھر باورچی خانے کی ڈیوٹی نبھاؤ۔ دوستیاں، رنگ ، گھومنا پھرنا تو جیسے اکثر لوگوں کی زندگی میں ایک سوالیہ نشان بن کے رہ جاتا ہے، نتیجتاً پہلے ہی ڈھلتی عمر کے مسائل سے نبرد آزما عورت مزید چڑچڑی ہو جاتی ہے اور اس کے پاس بہووں کے کاموں پہ تنقید کرنے اور آس پاس کے لوگوں کے معملات میں مداخلت کرنے کے علاوہ کوئی اور مشغلہ باقی نہیں رہتا۔

ابھی میری سے اتنا ہی تعارف تھا کہ ایک دن میٹنگ میں ایک عجیب صورتِ حال درپیش آ گئی۔ فلیشیا بھی پچاس کی دہائی کو چھونے والی تھی، ہارمونل چینجز کی وجہ سے اسے سخت گرمی کی شکایت رہتی تھی، جہاں سب ٹھنڈ کی شکایت کرتے ہوئے دو دو لئیر پہنے ہوتے وہاں فلیشیا کے پسینے چھوٹ رہے ہوتے تھے ، اُسکی میز پہ ایک ایکسٹرا پنکھا موجود رہتا اور ایک یو ایس بی پنکھا وہ میٹنگز میں اپنے ساتھ رکھتی  پھر بھی اکثر کسی نہ کسی چیز سے پنکھا جھلتی پائی جاتی۔

اس دن بھی ایک نسبتاً چھوٹے کمرے میں میٹنگ تھی، سب میز پہ موجود تھے اور بڑی اسکرین پہ میری آواز کے ساتھ مانٹریال سے کنیکٹیڈ تھی، ابھی میٹنگ کا آغاز ہوا ہی تھا کہ حسب معمول فلشیا نے “ٹو ہاٹ” کہتے ہوئے اپنا جاپانی طرز کا ہاتھ کا پنکھا جھلنا شروع کر دیا، اِدھر باقی لوگوں نے تو اتنی توجہ نہیں دی لیکن اس کی آواز میری تک پہنچ گئی۔

فلیشیا! کیا تم “مینو پاز” سے گزر رہی ہو ؟

ایک لمحے کے لیے کمرے میں موجود سب ہی افراد اس اچانک سوال سے سٹ پٹا گئے، مشرق میں تو ایسے موضوع پہ یوں کھل کے بات کرنے کا سوال ہی نہیں لیکن مغرب میں بھی چاہے اور دوسرے کھلے ڈلے معاملات پہ ببانگ دہل گفتگو کر لی جائے لیکن خواتین کی صحت سے منسلک خاص معاملات اکثر مخلوط محفلوں میں زیرِ بحث نہیں لائے جاتے، ایک تو فطری جھجک آڑے آتی ہے اور دوسرا آپ کو یہ خیال بھی رکھنا پڑتا ہے کہ دوسرا اپنی صحت کے بارے میں بات کرنا بھی چاہتا ہے یا نہیں لیکن میری آج پورے موڈ میں تھیں۔

فلیشیا اس موضوع پہ خواتین کے درمیان اکثر اظہارِ خیال کرتی پائی جاتی تھی ، اس کے پنکھوں سے اب پوری ٹیم ہی واقف تھی، اکثر اس تمام اُتار چڑھاو کی کیفیت کی وجہ سے اس کا کام کرنا بھی مشکل ہوا رہتا، جب ہم  ٹھنڈے ماحول میں سکڑ رہے ہوتے تو وہ ایسے پتلے جھلنگے سے کپڑے پہن کے وارد ہوتی کہ دیکھ کر ہی کپکپی چڑھ جائے، اس کی گاڑی میں ہر وقت ایک ایکسٹرا جوڑا بھی موجود ہوتا  تاکہ شدید گرمی اور پسینے میں بھیگے کپڑے بدلے جا سکیں، کبھی موڈ میں آتی  تو اپنے فلپائنی لب و لہجے میں بڑے پیار سے کہتی 

Seybaaaa Enjoy your life while you have a time, touching 50 is hard.

اُسکی کیفیت ایک دن ہمیں اپنی ٹین ایج میں لے گئی، ہمیں یاد آیا کہ ہماری امی بھی کچھ ایسا ہی ذکر کیا کرتی تھیں، کچن میں تھوڑی دیر کھڑا ہونا اُن کے لیے محال ہوتا تھا، اکثر کانوں میں پڑتا تھا کہ  پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے ، ایسے پسینے آتے کہ کپڑے بھیگ جائیں، طبیعت الگ خراب، اس وقت کے ٹین ایجر بھی بہُت معصوم ہوتے تھے،ہمارے تو فرشتوں کو بھی نہیں پتہ تھا کہ یہ بھی کوئی کیفیت ہے جو عمر پہ گزرتی ہے بلکہ جھوٹ کیوں بولیں، بھلا ہو ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا، یہ سب معلومات تو اب جا کے آشکار ہوئیں، اب سوچتے ہیں تو خیال آتا ہے پتہ نہیں اسوقت خواتین کو اس موضوع پہ کوئی گائیڈ بھی کرتا ہوگا یا نہیں کیونکہ ڈاکٹروں سے ملاقات بھی بس جب ہی ہوتی تھی جب کوئی بیمار پڑ جائے،  فیملی ڈاکٹر، سالانہ چیک اپ تو بڑی لگژری کی بات تھی اور شاید ہے بھی۔ ہم بھی سوچتے رہ جاتے تھے کہ یہ ہماری امی کو ہوا کیا ہے۔

میری کی گفتگو سے میٹنگ روم میں تذبذب

کا عالم قائم تھا ۔

لیڈیز میرا خیال ہے کہ ہم اس گفتگو کو بعد کے لیے موقوف کرتے ہیں، یہاں دو حضرات بھی موجود ہیں

جیکولین نے بات ٹالنے کی کوشش کی۔

دونوں حضرات میں سےایک کینیڈین نژاد مسلمان اور ایک انڈین شامل تھے، دونوں ہی عمر میں فلشیا اور میری سے چھوٹے تھے اور اس ذکر پہ تھوڑے جز بز سے تھے، مینیجر نے بھی بات بدلنے کی اپنی سی کوشش کی لیکن میری اپنی بات پہ قائم تھی۔

 کتنے مرد ہیں اسوقت روم میں؟ اس نے سوال داغا، کیمرہ بند تھا، پھر خود ہے جواب بھی دے دیا، دو جینٹس ہیں روم میں رائٹ، تو کیا ہوا، اُنہیں بھی پتہ ہونا چاہیے۔

They should know too!

ہمیں لگا آج میری میں ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی روح سما گئی ہے، دونوں حضرات اب ہاتھ باندھ کر میز کو تک رہے تھے جیسے سمجھ گئے ہوں کہ اب میری کو اپنی بات کرنی ہی کرنی ہے اور اُنہیں سننا بھی پڑے گی۔

ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ ابھی اگر تمہاری پری کنڈیشن چل رہی ہے تو ابھی یہ رہے گا، میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا تھا لیکن جب مینو پاز ہو جائے گا تو تمہاری یہ حالت کافی بہتر ہو جائے گی۔ہیلتھی چیزیں کھاؤ، تھوڑی ورزش کرو،

It’s a phase

You will feel better!

میری نے گویا تسلی دی اور میٹنگ کا آغاز ہوا اور ہم سوچتے رہ گئے کہ خواتین کی زندگی کہ یہ مسئلے مسائل اور اُتار چڑھاؤ ہمارے معاشرے میں تو کوئی خاطر میں ہی نہیں لاتا۔ اندر چاہے جتنی بھی ٹوٹ پھوٹ چل رہی ہو، مزاج کتنا ہی درہم برہم ہو زندگی کے سارے کام اپنی جگہ ایسے ہی چلتے رہتے ہیں۔

ابھی چالیس کی دہائی میں پہنچ کے عورت ذرا سانس بحال کرتی ہے کہ بچے گودوں سے نکل کے اپنی زندگیوں کی طرف گامزن ہوتے ہیں تو قدرت کی طرف سے چند سالوں میں ایک نیا مرحلہ منتظر ہوتا ہے۔

آس پاس نظر ڈالیں تو پچاس کی دہائی عبور کرتی بیشتر خواتین آپ کو مزاجاً چڑچڑی اور  بد مزاج نظر آئیں گی، اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک تو اندر ہونے والی تبدیلیاں جسمانی طور پہ تھکا رہی ہوتی ہیں اُسکے بعد مزاج بھی شدید متاثر ہوتا ہے لیکن ان سب باتوں کا ادراک خاندان والوں کو کبھی بھی نہیں ہو پاتا۔عمر  تو مرد پہ بھی بیت رہی ہوتی ہے اور وہاں بھی صحت کے مسائل شروع ہو چُکے ہوتے ہیں لیکن اُنہیں دفتری کاموں اور کمانے کی ٹینشن کا مارجن دے دیا جاتا ہے، اُن کا غصّہ اور چرچڑا پن خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے خاندان کی حتٰی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ انکا روٹین، کھانا پینا اور سوشل لائف اُن کی مرضی اور خوشی کے مطابق رہے دوسری طرف حالات اسے زیادہ نازک ہوتے ہیں لیکن کوئی توجہ نہیں دیتا اور چکّی کی مشقت معمول کے مطابق جاری رہتی ہے، جس کا غبار پھر دوسروں کے لئے تکلیف دہ گھریلو سیاستوں اور زہریلے رویوں کی صورت نکلتا ہے۔

پچاس کی دہائی سے نمٹتی خاتون ہمارے معاشرے میں اکثر ساس کا رتبہ پا چکی ہوتی ہے، عموماً میاں بیوی میں پارٹنر سے زیادہ حاکم اور محکوم کا رشتہ ہوتا ہے، کہیں آپس میں محبت ہے تو بہُت خوش قسمتی کی بات ہے لیکن سسٹم کچھ ایسا ہے کہ اکثر اس ساری کیفیت سے گزرتے ہوئے عموماً ایک خاتون کو کوئی جذباتی سپورٹ میسر نہیں ہوتی، دوستیاں، مشغلے، گھومنا پھرنا یا اپنی خوشی کے لئے کچھ کرنے کا تصّور کم کم ہے لہٰذا اس صورتِ حال سے نمٹنے کا جو واحد کوپنگ میکینزم ہے وہ یا تو رشتےدار ہیں، مشترکہ خاندانی نظام پہ حکمرانی ہے یا پھر پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے، اسمیں بھی کوئی برائی نہیں لیکن دل چاہتا ہے کہ کبھی ان خواتین سے بھی پوچھا جائے کہ کیا آپ کا دل بھی شوخ رنگ پہنے، بن سنور کے سیلفیز کھینچنے، بوائے فرینڈ تو ظاہر ہے نہیں لیکن اپنے شوہر اور دوستوں کے ساتھ گھومنے اور میری کی طرح بائیک پہ اڑنے کو چاہتا  ہے؟ 

اور اگر یہ سب چاہتیں فطری ہیں اور ذہنی و جسمانی تکلیفوں سے نمٹنے اور گھر میں سکون قائم رکھنے میں مددگار ہو سکتی ہیں تو پھر معاشرہ میں ان سب باتوں کی آگاہی کیوں نہیں دی جاتی؟ 

آج مل کے سوچتے ہیں!

قرۃ العین صبا

#officekakhayal 

#khayalbysaba

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *